உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی لڑکے سے شادی کیلئے چٹان کی طرح کھڑی رہی مراکش کی فدوا، ایسے جیتی محبت کی جنگ

    ہندوستانی لڑکے سے شادی کیلئے چٹان کی طرح کھڑی رہی مراکش کی فدوا، ایسے جیتی محبت کی جنگ

    ہندوستانی لڑکے سے شادی کیلئے چٹان کی طرح کھڑی رہی مراکش کی فدوا، ایسے جیتی محبت کی جنگ

    Fadwa Laimali-Avinash Dohre Instagram love story : ہندوستان سے آٹھ ہزار کلومیٹر دور مراکش میں رہنے والی ایک مسلم لڑکی فدوا لیمالی (fadwa laimali) کی محبت کی کہانی اس کے جذبے کی ایک مثال ہے ۔

    • Share this:
      گوالیار: ہندوستان سے آٹھ ہزار کلومیٹر دور مراکش میں رہنے والی ایک مسلم لڑکی فدوا لیمالی (fadwa laimali) کی محبت کی کہانی  (Fadwa Laimali-Avinash Dohre Instagram love story) اس کے جذبے کی ایک مثال ہے ۔ سوشل میڈیا پر اویناش دوہرے کو آزمانے کے بعد وہ اس سے محبت کرنے لگی ۔ شادی کی بات آئی تو دونوں خاندانوں میں جیسے تلواریں کھینچ گئیں۔ فدوا نے اپنی محبت کو جائز ٹھہرانے میں تین سال لگا دئے ۔ آخر کار خاندان کے راضی ہونے کے بعد وہ چار ماہ قبل پیار کی تلاش میں ہندوستان کی سرزمین پر آگئی ۔ اس نے قانونی پیچیدگیوں سے لڑتے ہوئے محبت کی جنگ جیت لی ۔

      تقریباً ساڑھے تین سال قبل مراکش سے تعلق رکھنے والے فدوا کی اویناش سے انسٹاگرام کے ذریعہ ملاقات کی ہوئی ۔ وہ عربی زبان کے ساتھ انگریزی بولتی ہے۔ کنسلٹنسی کا کام کرنے والے اویناش کو فدوا کی زبان سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ لہذا دونوں کی دوستی ہوگئی۔ فدوا ہندوستانی ثقافت کو بہت قریب سے جانتی ہے ۔ وہ اس کے بارے میں پڑھتی رہی ہے ۔ فدوا اکثر اویناش سے ہندوستانی سنیما اور کھانے پینے کے بارے میں بات کرتی تھی ۔ اس کے بعد باتیں کرتے کرتے دونوں کو پیار ہو گیا ۔ ایک دوسرے کو آزمانے کے بعد دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ فدوا اویناش سے شادی کے اپنے فیصلہ پر چٹان کی طرح ڈٹ گئی ۔

      غور طلب ہے کہ فدوا اور اویناش نے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا ، لیکن وہ یہ شادی خاندان کی رضامندی سے کرنا چاہتے تھے ۔ اویناش نے اپنے گھر والوں کو راضی کرلیا ، لیکن جب فدوا نے اپنے دل کی بات گھر والوں کو بتائی تو طوفان کھڑا ہوگیا ۔ دوسرے ملک اور دوسرے مذہب میں شادی کی بات سن کر اس کے والد ناراض ہوگئے ۔ 2 سال تک لڑکی نے اپنے گھر والوں کو اویناش اور ہندوستان کی ثقافت کے بارے میں سمجھایا ۔ اس دوران اویناش دو مرتبہ مراکش گیا اور اپنی گرل فرینڈ کے گھر والوں سے ملا ۔

      لڑکی کے والد نے اویناش کے سامنے شرط رکھی کہ اگر وہ ہندوستان چھوڑ کر مراکش میں اسلام قبول کر لے گا تو وہ اپنی بیٹی کی شادی اس کے ساتھ کر دیں گے۔ جب یہ بات فدوا نے سنی تو اس نے اپنے والد سے کہا کہ اپنا مذہب اور کلچر بدلنا محبت کا نام نہیں ہے۔ سچی محبت وہ ہے جس میں ہم اپنے ساتھی کو اس کے مذہب اور ثقافت کے ساتھ اپنائیں ۔ فدوا کی بات سن کر باپ کا دل پسیج گیا۔ جب انہوں نے اویناش کو قبول کرلیا تب اس نے یہ بھی یقین دلایا کہ نہ تو وہ فدوا کا مذہب تبدیل کرائے گا اور نہ ہی اس پر ثقافت کو تھوپا جائے گا ۔

      اپنے کنبہ کی رضامندی کے بعد فدوا تقریباً چار ماہ قبل ہندوستان آگئی ۔ دہلی سے گوالیار آکر فدوا اویناش کے خاندان کے ساتھ رہی، پھر ایک طویل قانونی کارروائی کے بعد دونوں نے کامن میرج ایکٹ کے تحت شادی کر لی ۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ کورونا کی لہر ختم ہونے کے بعد اس کا کنبہ ہندوستان آئے گا اور گوالیار میں ایک پروگرام منعقد کیا جائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: