உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh : کلاس روم میں نماز ادا کرنے پر ہندو تنظیموں نے کیا سخت احتجاج، وائس چانسلر نے کہ یہ بات

    ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونیورسٹی ساگر کی وائس چانسلر ڈاکٹر نیلما گپتا کہتی ہیں کہ میں ابھی لوٹی ہوں اور یہ معاملہ میری جانکاری میں ابھی آیا ہے اور ہم نے اس معاملے میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو پورے معاملے کی جانچ کرکے رپورٹ پیش کرے گی

    ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونیورسٹی ساگر کی وائس چانسلر ڈاکٹر نیلما گپتا کہتی ہیں کہ میں ابھی لوٹی ہوں اور یہ معاملہ میری جانکاری میں ابھی آیا ہے اور ہم نے اس معاملے میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو پورے معاملے کی جانچ کرکے رپورٹ پیش کرے گی

    Madhya Pradesh News : ابھی حجاب پر سیاست کا معاملہ کم بھی نہیں ہوا تھا کہ مدھیہ پردیش کے ساگر کی ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی میں کلاس روم میں نماز ادا کرنے پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی وائس چانسلر نے معاملے کی جانچ کے لئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ ھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت کے احکام کے بعد بھی تعلیمی اداروں میں حجاب کو لیکر ہندو تنظیموں کے ذریعہ شروع کیا گیا احتجاج کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کرناٹک کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اسکول تعلیم اندر سنگھ پرمار نے پہلے صوبہ کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کی بات کہی تھی لیکن سیکولر سماج اور مسلم تنظیموں کے احتجاج اور وزیر اعلی کے سخت تیور کے بعد وزیر تعلیم نے مدھیہ پردیش کے تعلیمی اداروں میں  حجاب پر پابندی لگانے کے معاملے کو واپس لے لیا تھا۔ اس کے باؤجود بھی اب تک مدھیہ پردیش کے گنا، کٹنی اور دتیا میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہن کر اسکول اور کالج جانے پر ہندو تنظیموں کے ذریعہ احتجاج کیا جا چکا ہے ۔ ابھی حجاب پر سیاست کا معاملہ کم بھی نہیں ہوا تھا کہ مدھیہ پردیش کے ساگر کی ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی میں کلاس روم میں نماز ادا کرنے پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی وائس چانسلر نے معاملے کی جانچ کے لئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : شرافت اللہ اور شکیل کے مثالی قدم پر بھوپال میں کیاگیا اعزاز، جانئے پورا معاملہ


    ہندو جاگرن منچ ساگر کے صدر اومیش صراف کہتے ہیں کہ  یونیورسٹی میں نماز پڑھنے کا معاملہ سامنے آیا ہے اور یہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے ۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے میں نے یونیورسٹی وائس چانسلر اور رجسٹرار سے بات کی ہے ۔ انہوں نے اس معاملہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے جانچ کے احکام بھی جاری کردئے ہیں ۔ پچھلے دنوں کرناٹک میں حجاب کے معاملے کو لیکر فرقہ پرستی کا ماحول بنایا گیا تھا۔ اس طرح کے معاملے کو لیکر اگر فرقہ پرستی  کا ماحول پیدا کیا جائے گا تو یہ ملک کے لئے بڑا خطرہ ہے  اور تعلیمی اداروں میں اس طرح کا عمل کیا جانا یہ بہت ہی نازک معاملہ ہے  اور ان پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے اور سخت قانون بھی بننا چاہئے جس سے تعلیمی ادارے محفوظ رہیں۔

    وہیں ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونیورسٹی ساگر کی وائس چانسلر ڈاکٹر نیلما گپتا کہتی ہیں کہ میں ابھی لوٹی ہوں اور یہ معاملہ میری جانکاری میں ابھی آیا ہے اور ہم نے اس معاملے میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو پورے معاملے کی جانچ کرکے رپورٹ پیش کرے گی اور اسی کے ساتھ ہم نے طلبہ وطالبات کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ  یہ یونیورسٹی ہے اور یہاں پر پڑھنے پڑھانے کا ماحول ہے تو  ہم جتنے بھی اپنے مذہبی کام کرنے ہیں تو وہ ہم اپنے گھر یا مذہبی مقامات پر کریں گے ، جس سے کہ پوری یونیورسٹی میں  پڑھنے پڑھانے کا ایک ماحول بنا رہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : بھوپال کی ارشمہ خان نے اسمالسٹ عربک کیلی گرافی میں بنایا عالمی ریکارڈ


    یونیورسٹی وائس چانسلر کے ذریعہ معاملہ میں جانچ کمیٹی تشکیل تو دی گئی ہے ، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی بی ایس سی فائنل ایئر کی طالبہ  جو مدھیہ پردیش کے دموہ کی رہنے والی ہے اس نے جب سے یونیورسٹی میں داخلہ ہے وہ حجاب میں ہی آتی ہے اور اس نے پہلی بار کلاس روم میں نماز ادا نہیں کی ہے بلکہ اس سے قبل بھی وہ نماز کے وقت میں کلاس روم میں نماز ادا کرتی رہی ہے ۔

    ملک میں اس وقت حجاب کا معاملہ زوروں پر ہے اس لئے شدت پسند تنظیمیں اس کو لیکر اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں اور جو لوگ اس معاملہ کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں ، وہ یونیورسٹی کے طالب علم بھی نہیں ہیں ۔ مستبقل میں یہ معاملہ مزید طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: