உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News: شرافت اللہ اور شکیل کے مثالی قدم پر بھوپال میں کیاگیا اعزاز، جانئے پورا معاملہ

    Bhopal News: شرافت اللہ اور شکیل کے مثالی قدم پر بھوپال میں کیاگیا اعزاز، جانئے پورا معاملہ

    Bhopal News: شرافت اللہ اور شکیل کے مثالی قدم پر بھوپال میں کیاگیا اعزاز، جانئے پورا معاملہ

    Madhya Pradesh News: گنگا جمنی تہِذیب کے شہر بھوپال میں ایک بار پھر انسانیت کو سرخرو کرنے کی تاریخ رقم کی گئی ہے ۔ ہولی کے دن جب ہولی کھیلنے والوں کو پانی کی کمی ہوئی تو بھوپال کے شرافت اللہ اور محمد شکیل نے مثالی کارنامہ انجام دیا۔

    • Share this:
    بھوپال : گنگا جمنی تہِذیب کے شہر بھوپال میں ایک بار پھر انسانیت کو سرخرو کرنے کی تاریخ رقم کی گئی ہے ۔ ہولی کے دن جب ہولی کھیلنے والوں کو پانی کی کمی ہوئی تو بھوپال کے شرافت اللہ  اور محمد شکیل نے مثالی کارنامہ انجام دیا۔ مذہبی فریضہ کا تقاضہ تو یہ تھا کہ اول وقت میں نماز ادا کی جائے لیکن انسانیت کا تقاضہ کہہ رہا تھا کہ پہلے ضرورتمندوں کو پانی مہیا کیا جائے ، اس کے بعد نماز ادا کی جائے ۔ شرافت اللہ اور شکیل نے نماز جمعہ کے دن اول وقت میں نماز ادا کرنے کے بجائے پہلے ہولی کھیلنے والوں کو پانی پہنچایا اس کے بعد نماز جمعہ ادا کی ۔ شرافت اللہ اور محمد شکیل کے مثالی کارنامہ کو دیکھتے ہوئے بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے انہیں پروقار تقریب میں اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔

    شرافت اللہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ اول وقت میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ۔ نماز جمعہ کے لئے جانے کی تیاری تھی اور وضو بھی کر لیاتھا اتنے میں اعلی افسر کا فون آیا کہ پیر گیٹ پر ہونے والی ہولی میں پانی نہیں ہے اور لوگ پانی کی کمی کے سبب نہ صرف پریشان ہو رہے ہیں بلکہ ان کی خوشیوں کا رنگ پھیکا پڑرہا ہے۔ پھر کیا تھا ہم نے ٹینکر میں پانی بھرا اور منزل کی جانب روانہ ہوگئے ۔ ہم نے ہولی کھیلنے والوں پر پہلے پانی ڈالا اس کے بعد جمعہ کی نماز ادا کیا۔ بھوپال مساجد کا شہر یہاں پر ایک بجے سے لیکر تین بجے تک جمعہ کی نماز ہوتی ہے ۔ ہم نے اس طرح سے اپنی نماز بھی ادا کرلی اور ہمارے برادران وطن کی خوشیوں کا رنگ بھی دوبالا ہوگیا۔

    وہیں بھوپال نگر نگم میں ٹینکر چلانے والے محمد شکیل کہتے ہیں کہ جس وقت ہم پانی کا ٹینکر لیکر پہنچے لوگوں کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے۔ ہم نے اپنے ٹینکر سے سب پر پانی ڈالا ، ہولی کھیلنے والے بھی خوش ہوئے اور انہوں نے ہمیں دعائیں بھی دی۔ ہمارا مذہب بھی تو یہی کہتا ہے کہ اپنے پڑوسی کا خیال رکھیں ۔ ہماری تھوڑی سی محنت سے ہمارے برادران وطن کی خوشیوں میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ ہمارے لئے خوشی کی بات ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ اس معمولی سے کام کے لئے ہمارا استقبال ہوگا اور ہمیں انعام بھی ملے گا۔ ہم تو بس یہی چاہتے ہیں کہ سبھی لوگ مل کر رہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں کا خیال رکھیں ۔

    وہیں بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ بھوپال گنگا جمنی تہذیب کا شہر ہے اور یہاں پر نوابی عہد سے ہی مل جل کر ہولی و رنگ پنچمی منانے کی روایت رہی ہے۔ یہاں نواب مسلمان ہوتے تھے لیکن ان کے وزیر اعظم ہندو بھائی ہوتے تھے۔ یہی نہیں اس عہد میں جب نواب صاحب راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن جا رہے تھے ، تو انہوں نے اپنا چارج کسی مسلمان کو نہیں بلکہ راجا اودھ نارائن بساریہ کو دیاتھا۔

    انہوں نے کہا کہ شرافت اللہ اور شکیل نے جو کام کیا ہے وہی بھوپال کی تہذیب اور آج کے سیاست دانوں کو اسے سکھینے کی ضرورت ہے ۔ ہم نے دونوں کا اعزاز و استقبال کیا ہے تاکہ دنیا ان کے کارنامے سے سبق حاصل کرے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: