ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : ائمہ وموذنین منترالیہ پر دیں گے دھرنا ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کے ملازمین پچھلے سات مہینے سے تنخواہ سے محروم ہیں تو دارالقضا اور دارالافتا کے ملازمین کا بھی یہی حال ہے۔ ائمہ وموذنین چار ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں تو حج کمیٹی کے ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : ائمہ وموذنین منترالیہ پر دیں گے دھرنا ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ
مدھیہ پردیش : ائمہ وموذنین منترالیہ پر دیں گے دھرنا ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

مدھیہ پردیش میں اقتدار کی منتقلی اقلیتی اداروں کے ملازمین کے لئے درد سر بن کر آئی ہے ۔ ریاست کا کوئی بھی اقلیتی ادارہ ایسا نہیں ہے جس کے ملازمین حکومت کی عدم توجہی کا شکار نہ ہوں۔ مساجد کمیٹی، حج کمیٹی ، وقف بورڈ اور مدرسہ بورڈ کے ملازمین کے تیئں حکومت کی عدم توجہی اتنی ہے کہ اقلیتی اداروں کے ملازمین کئی کئی ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں ۔ اقلیتی اداروں کے تیئیں حکومت کی عدم توجہی کو دیکھتے ہوئے اب ملازمین نے منترالیہ کے سامنے دھرنے پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔


مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کے ملازمین پچھلے سات مہینے سے تنخواہ سے محروم ہیں تو دارالقضا اور دارالافتا کے ملازمین کا بھی یہی حال ہے۔ ائمہ وموذنین چار ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں تو حج کمیٹی کے ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ۔ اسی طرح سے مدارس اساتذہ گزشتہ ساڑھے چار سال سے تنخواہ سے محروم ہیں ۔ ائمہ وموذن ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کو لیکر مساجد کمیٹی کے سامنے پرامن طریقے سے احتجاج کیا اور مساجد کمیٹی کے مہتمم کو میمورنڈم پیش کر کے جلد سے جلد تنخواہیں جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔


بھوپال مسجد بیت المکرم کے پیش امام مفتی محمد فیاض عالم کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں اسے حکومت کی عدم توجہی کہیں یا اقلیتی اداروں کے ملازمین کے تئیں سرکار کی بے حسی کہ کئی کئی ماہ سے ملازمین تنخواہ سے محروم ہیں ۔ ائمہ موذنین چار ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں ۔ آج ہم لوگوں نے پرامن طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کر کے انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے ۔ ہم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر تین دن کے اندر ائمہ وموذنین کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں تو منترلیہ کے سامنے ائمہ وموذنین اپنے گھر والوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھیں گے ۔


مساجد کمیٹی کے مہتمم یاسر عرفات کہتے ہیں کہ ائمہ وموذنین کے وفد نے ملاقات کر کے اپنا میمورنڈم پیش کیا ہے۔ ائمہ وموذنین نے بھوپال کلکٹر سے بھی آج اپنے مسائل کو لیکر ملاقات کی ہے ۔ ہم نے ائمہ وموذنین کے مسائل کو لیکر اعلی حکام کو واقف کرادیا ہے ۔ اب ان کی جانب سے جو بھی حکم جاری ہوگا ، اس پر عمل کرتے ہوئے جلد ہی ائمہ و موذن کو تنخواہیں جاری کرنے کا کام کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں اقلیتی اداروں کے ملازمین جہاں ایک جانب کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں وہیں دوسری جانب مدھیہ پردیش کے سبھی اقلیتی ادارے اپنے سربراہوں سے محروم ہیں ۔ کمل ناتھ حکومت میں جس طرح سے اقلیتی اداروں میں کسی کمیٹی کی تشکیل نہیں کی گئی تھی وہی رویہ بی جے پی حکومت میں بھی جاری ہے۔

حج کمیٹی ،اقلیتی کمیشن ،مدرسہ بورڈ،وقف بورڈ،مساجد کمیٹی ،اردو اکادمی میں کسی کمیٹی اور چیئرمین کے نہیں ہونے سے اقلیتی اداروں کے ملازمین کی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اگر حکومت اقلیتی اداروں میں کمیٹیوں کی تشکیل کردیتی ہے تو اس سے اقلیتی اداروں کے ملازمین کے ساتھ اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 19, 2021 09:56 PM IST