உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh : بھوپال میں شادیوں میں ایک سو دس فیصد کا اضافہ، جانئے کیا ہے وجہ

    Madhya Pradesh : بھوپال میں شادیوں میں ایک سو دس فیصد کا اضافہ، جانئے کیا ہے وجہ

    Madhya Pradesh : بھوپال میں شادیوں میں ایک سو دس فیصد کا اضافہ، جانئے کیا ہے وجہ

    مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) میں ایک جانب کورونا (Coronavirus) کا قہر جاری ہے اور ہر روز دس ہزار سے زیادہ کورونا کے نئے معاملے ریاست میں درج کئے جا رہے ہیں وہیں دوسری جانب کورونا کے بڑھتے خطرات اور حکومت کی پابندیوں کے بیچ نکاح کے رجسٹریشن میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) میں ایک جانب کورونا (Coronavirus) کا قہر جاری ہے اور ہر روز دس ہزار سے زیادہ کورونا کے نئے معاملے ریاست میں درج کئے جا رہے ہیں وہیں دوسری جانب کورونا کے بڑھتے خطرات اور حکومت کی پابندیوں کے بیچ نکاح کے رجسٹریشن میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ نکاح رجسٹریشن میں اضافہ دس بیس فیصد کا نہیں ہے بلکہ یہ اضافہ ایک سو دس فیصد درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھوپال میں مسلم شادیوں کا رجسٹریشن نوابی عہد سے مساجد کمیٹی میں جاری ہے ۔ پہلے بھی نکاح کے رجسٹریشن ہوتے تھے مگر امسال ماہ دسمبر اور جنوری میں نکاح میں بڑا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

    سال دوہزار بیس کے ماہ دسمبر میں مساجد میں جہاں چار سو چالیس نکاح کا رجسٹریشن کیا گیا تھا ۔ وہیں سال دوہزار اکیس کے ماہ دسمبر میں نوسو ستینس شادیوں کے رجسٹریشن کئے گئے ہیں ۔ بعض لوگوں کے ذریعہ نکاح رجسٹریشن میں اضافہ کو حکومت کے ذریعہ لڑکیوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال سے بڑھا کر اکیس سال کیا جانا بتایا جا رہا ہے ۔ وہیں مساجد کمیٹی اور مسلم سماجی تنظیموں نے اس الزام کو خارج کرتے ہوئے اسے کورونا کی وبا اور لاک ڈراؤن کے خوف سے تعبیر کیا ہے۔

    مساجد کمیٹی کے انچارج سکریٹری یاسر عرفات کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شادیوں کے رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کووڈ کو لیکر حکومت کی جانب سے جو ڈائریکشن اس کی وجہ سے لوگوں میں ایک گھبراہٹ ہے ۔ عام طور پر لوگ شادی کا رجسٹریشن کروانے کے بعد مساجد میں نکاح کر لیتے ہیں ، اس کے بعد شادی ہال سے یا کسی اور مقام پر تقریب کرکے رخصتی کا معاملہ طے کرتے ہیں ۔ لوگوں کو مہمانوں کو بلانا ہے اور حکومت کی گائیڈ لائن میں پابندیاں ہیں اور جس طرح سے کورونا بڑھ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پابندیوں میں اور اضافہ ہوسکتا ہے ۔

    کورونا کی تیسری لہر جاری ہے اور لوگ چوتھی لہر کی بھی بات کرنے لگے ہیں ۔ایسے میں ہوسکتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں شادیوں میں مہمانوں کی شرکت بند ہو جائے ۔ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے ۔ دوسری یہ کہ ایک بات جو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے کہ  لڑکیوں کی شادی کو لیکر عمر اکیس سال طے کی جا رہی ہے ۔ ایسے میں کچھ لوگ تذبذب کا شکار ہے کہ اگر ان کے بچوں کی شادی طے ہوگئی ہے اور ان کی عمر اس وقت اٹھارہ انیس سال کی ہے اور اگر اس وقت ان کا نکاح نہیں کیا گیا تو پھر ان کے نکاح کے لئے دو سے تین سال انتظار کرنا ہوگا ۔ لیکن میں آپ کو بتا دوں کی بھوپال میں نومبر ، دسمبر، جنوری اور فروری میں کثرت سے شادیاں ہوتی ہیں۔ اسی طرح ٹرائبل میں گرمیوں میں کثرت سے نکاح ہوتے ہیں  ۔یہ سچ ہے کہ شادیوں میں ایک بڑا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔

    مدھیہ پردیش علما بورڈ کے سکریٹری مولانا سید انس علی ندوی کہتے ہیں کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی مشکلات سے سبھی واقف ہیں اور سب نے کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں مشکلات کو نزدیک سے دیکھا ہے ۔ اس لئے لوگ اس خطرات کے پیش نظر جن کے یہاں شادیاں پہلے سے طے ہیں وہ نکاح کو جلدی کر رہے ہیں تاکہ سادگی سے نکاح بھی ہو جائے اور وہ اپنے مہمانوں کو بھی خوشی میں شریک کرلیں ۰ورنہ دس بیس لوگوں کو شادی میں بلانے کی اگر پابندی ہو گی تو شادی میں جشن کامزہ نہیں رہتا ہے ۔ہم تو کہتے ہیں کہ شادی میں فضول خرچی سے بچنا چاہئے اور ساددگی سے ہی تمام تقریب کو انجام دینا چاہئے۔

    وہیں عالم دین حافظ محمد اسمعیل کہتے ہیں کہ شادی کو بچوں کی گڑیا گڈے کا کھیل نہیں ہوتا۔ رشتہ کی تلاش مہینوں اور کبھی برسوں میں ہوتی ہے ۔ایسے میں یہ کہنا کہ مسلمان کسی قانون کی خوف سے نکاح جلدی جلدی کر رہے ہیں یہ بالکل غلط ہے ، بلکہ جن لوگوں کے یہاں رشتہ پہلے سے طے تھے اور ان لوگوں نے عید کے بعد یا عید قرباں کے بعد نکاح کا پلان بنایا تھا اب وہ لوگ حالات کے پیش نظر نکاح کو پہلے انجام دے رہے ہیں تاکہ حالات سازگار ہونے کے بعد رخصتی اور دوسرے کام کو انجام دے سکیں ۔

    وہیں مدھیہ پردیش سد بھاؤنا منچ کے سکریٹری حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ کووڈ میں صرف بھوپال میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں افرا تفری کا ماحول ہے اور صرف ہمارے یہاں ہی نہیں بلکہ دوسرے شہروں میں بھی وہ لوگ جنہوں نے اپنے بچوں کی شادیاں طے کررکھی تھی وہ حالات کے مد نظر جلدی فارغ ہونا چاہتے ہیں ۔ایسا نہ ہو کہ آنے والے وقت میں لاک ڈاؤن کا نفاذ ہو جائے یا کورونا کرفیو نافذ ہو جائے تو ان کی خوشیاں کافور ہو جائیں گی۔  شادیوں میں اضافہ کو حکومت کے قانون سے جوڑنا دیکھنا مناسب نہیں ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: