உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو تاریخ کے اوراق سے مٹانا آسان نہیں : دانشوران

    مدھیہ پردیش : مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو تاریخ کے اوراق سے مٹانا آسان نہیں : دانشوران

    مدھیہ پردیش : مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو تاریخ کے اوراق سے مٹانا آسان نہیں : دانشوران

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ انگریزوں بھارت چھوڑو اور مکمل کا آزادی کا نعرہ سب سے پہلے جمعیت علما نے دیا تھا ، جسے بعد میں کانگریس کے اراکین نے اپنے مشن میں شامل کیا تھا۔

    • Share this:
    بھوپال : بھارت چھوڑو آندولن کی سالگرہ کے موقع پر بھوپال میں جمیعت علما کے زیر اہتمام کووڈ 19 کے ضابطہ کے بیچ مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ مختصر تقریب میں جمعیت علما کے ذمہ داران کے علاوہ بھوپال کے اہل دانش نے شرکت  کی۔ پروگرام میں جہاں آزادی کی تحریک اور مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ، وہیں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعہ مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو فراموش کرنے پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا گیا ۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ انگریزوں بھارت چھوڑو اور مکمل کا آزادی کا نعرہ سب سے پہلے جمعیت علما نے دیا تھا ، جسے بعد میں کانگریس کے اراکین نے اپنے مشن میں شامل کیا تھا۔ اٹھارہ سو ستاون سے لے کر انیس سو سیتالیس تک ہندستان کی آزادی کی کسی بھی تاریخ کو اٹھاکر دیکھئے یہ مسلم مجاہدین آزادی کے روشن کارناموں سے مزین ہیں ۔ پچپن ہزار سے زیادہ علمائے دین نے اٹھارہ سو ستاون میں قربانیاں دی تھیں ۔ حکومتوں کے ذریعہ تاریخ کے اوراق پر خاک ڈالنے سے مسلم مجاہدین آزادی کی روشن تاریخ کبھی مٹنے والی نہیں ہے۔ حکومت عمل سے نہ صرف ہندستان کی روشن کی تاریخ کو داغدار کررہی ہے بلکہ ہندستان کی ساجھی وراثت کو جس طرح سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے اس کے لئے تاریخ کبھی انہیں معاف نہیں کریگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہی نہیں تحریک آزادی میں سب سے نمایاں کردار اداکرنے والی اردو زبان کو ایک مخصوص طبقے سے جوڑکرنقصان پہنچایا جا رہا ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ جمعیت علما مجاہدین آزادی کی روشن تاریخ اور اردو کے حقوق کو لے کر ریاست گیرسطح پر تحریک چلائے گی تاکہ نئی نسل اپنے اسلاف کی قربانیوں سے واقف ہو سکیں ۔

    مفتی محمد رافع نے پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اگر ہمارے اسلاف کی تاریخ کو فراموش کیا جارہا ہے تو اس کے لئے ہماری کوتاہی بھی بہت حد تک ذمہ دارہے ۔ ہم دوسروں سے سارے کام کی امید کرتے ہیں لیکن ہم خود اپنے اسلاف اپنے مجاہدین آزادی کو کتنا یاد کرتے ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ دوسروں کو چھوڑیئے وہ اسکول جن کا پورا نظم و نسق مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ بھی مصلحت پسندی کا شکار ہیں ۔ ان کے یہاں بھی آزادی کی تقریب میں مسلم مجاہدین آزادی سے دوسرے لوگوں کی خدمات پرروشنی ڈالی جاتی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں ساجھی وراثت کے تحفظ کے لئے مسلم مجاہدین آزادی اور دوسری قوموں کے مجاہدین آزادی کو یاد کرنا ہوگا ۔ تبھی ہم اپنی وراثت کو محفوظ کرسکیں گے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: