اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جبل پور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، دو بالغ کرسکتے ہیں دوسرے مذہب میں شادی

    جبل پور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، دو بالغ کرسکتے ہیں دوسرے مذہب میں شادی

    جبل پور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، دو بالغ کرسکتے ہیں دوسرے مذہب میں شادی

    جبل پور ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سنایا ۔ کورٹ نے صاف کیا کہ اگر دو بالغ شہری اپنی مرضی سے الگ ذات یا مذہب میں شادی کررہے ہیں تو ان پر کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Jabalpur | Bhopal
    • Share this:
      جبل پور : جبل پور ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سنایا ۔ کورٹ نے صاف کیا کہ اگر دو بالغ شہری اپنی مرضی سے الگ ذات یا مذہب میں شادی کررہے ہیں تو ان پر کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم سناتے ہوئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کو غیر آئینی قرار دیا ہے ۔ کورٹ نے سرکار کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ سرکار کو تین ہفتوں میں جواب داخل کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔

      جبل پور ہائی کورٹ نے ریاستی سرکار کو ایسے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا ہے جو مذہبی آزادی ایکٹ کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم سناتے ہوئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کو غیر آئینی قرار دیا ہے ۔ اس دفعہ کے تحت دوسرے مذہب میں شادی کرنے والے کو ضلع مجسٹریٹ یعنی کلیکٹر کو شادی کے 60 دن پہلے اطلاع دینا لازمی قرار دیا گیا تھا اور ایسا  نہیں کرنے پر دو سال تک قید کی سزا کا بندوبست کیا گیا تھا ۔

      مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کے خلاف جبل پور ہائی کورٹ میں چھ عرضیاں داخل کرکے اس قانون کی ویلڈیٹی کو چیلنج کیا گیا تھا ۔ عرضیوں میں کہا گیا تھا کہ اس قانون کی دفعہ 10 ، آئین سے ملے مذہبی آزادی کے حقوق کے خلاف ہے جو ضلع مجسٹریٹ کو منمانے اختیارات دیتی ہے ۔ سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے عبوری حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بالغ اپنی مرضی سے کسی دوسری ذات یا مذہب میں شادی کرتا ہے تو اس کے خلاف کیس نہیں چلایا جاسکتا۔

      یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ میں پاکستان نے الاپا کشمیر کا راگ، ہندوستان نے پاکستان کو لگائی پھٹکار


      یہ بھی پڑھئے: وہ دہشت گردی کو اسپانسر اور سپورٹ کرتےہیں، انٹرنیشنل منچ سے پی ایم مودی کا پاکستان پر حملہ



      ہائی کورٹ نے اس پورے معاملہ پر مدھیہ پردیش سرکار کو تین ہفتے کے اندر تفصیلی جواب داخل کرنے کیلے کہا ہے ۔ عرضی گزاروں کی طرف سے پیروی کرنے والے کیل کے مطابق یہ ہائی کورٹ کا عبوری فیصلہ ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: