உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش جمعیت علما نے سادھوی پرگیہ کے بیان کا کیا خیر مقدم ، جانئے پرگیہ نے کیا کہا تھا

    مدھیہ پردیش جمعیت علما نے سادھوی پرگیہ کے بیان کا کیا خیر مقدم ، جانئے پرگیہ نے کیا کہا تھا

    مدھیہ پردیش جمعیت علما نے سادھوی پرگیہ کے بیان کا کیا خیر مقدم ، جانئے پرگیہ نے کیا کہا تھا

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کا کہنا ہے کہ نہ صرف مندر سرکاری تحویل سے آزاد ہونی چاہئے بلکہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرکے متعلقہ مذاہب کے لوگوں کے سپرد کیا جانا چاہئے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش جمعیت علما نے بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ جمعیت علما کا کہنا ہے کہ نہ صرف مندر سرکاری تحویل سے آزاد ہونی چاہئے بلکہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرکے متعلقہ مذاہب کے لوگوں کے سپرد کیا جانا چاہئے ۔ عبادت گاہوں پر سرکاری کنٹرول ہونے سے نہ صرف عبادت گاہیں عدم توجہی کا شکار ہیں، بلکہ سرکار کے ذریعہ عبادت گاہوں کو ٹورسٹ پلیس بنانے سے ان کا مذہبی تقدس بھی پامال ہو رہا ہے ۔ واضح رہے کہ بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ نے مندروں کے پیسے سے اقلیتوں کی کفالت کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مندروں کو سرکاری تحویل سے آزاد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

    بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ ٹھاکر نے بھارت بھکتی اکھاڑا کے پروگرام میں شرکت کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مذہبی مقامات سرکار کے قبضہ میں رہتے ہیں ، کلکٹر اس کا نگراں ہوتا ہے ، ہندوؤں کے مندروں کا ، بڑے بڑے مندروں کا جو پیسہ ہے ، وہ اقلیتوں کو دیا جاتا ہے ، ملک سے مخالفت کرنے والوں کو چلا جاتا ہے ۔ بھارت بھکتی اکھاڑہ اس کی مخالفت کرتا ہے اور بھارت بھکتی اکھاڑا اس کے خلاف تحریک چلائے گا اور سرکار سے یہ مطالبہ کرے گا کہ مندروں کو سرکار کے کنٹرول سے آزاد کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہندو سماج کے لوگ اپنے مندروں کا تحفظ خود کر لیں گے اور اس کی فروغ بھی کر لیں گے اور ہندو عقیدتمندوں کے ذریعہ مندروں کو جو نذرانہ دیا جاتا ہے ، وہ ہندوؤں کی فلاح و خیر کے کام میں لگنا چاہئے نہ کہ اقلیتی طبقے کی فلاح کے کام میں ۔ بھارت بھکتی اکھاڑا اپنے مطالبات کو لے کر پورے ملک میں تحریک چلائے گا اور اس کو لے کر ہی رہے گا۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ سادھوی پرگیہ کے بیان کے دو حصہ ہیں ۔ جہاں تک مندروں کے پیسوں سے اقلیتوں کی فلاح کی بات وہ کہہ کر رہی ہیں وہ سراسر بے بنیاد ہے ، اس طرح کا بیان دے کر وہ عوام کو گمراہ کر رہی ہیں ۔ مگرجہاں تک مندروں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کا ان کا مطالبہ ہے تو جمعیت علما ان کے اس مطالبہ کی تائید کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ صرف مندروں کو ہی نہیں بلکہ مندروں کے ساتھ مساجد اور دوسرے مذاہب کی مذہبی عبادت گاہوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کیا جائے ۔

    ان کا کہنا ہے کہ جمعیت علما کا یہ دیرنہ مطالبہ ہے کہ عبادت گاہیں جس بھی مذاہب کی ہیں انہیں سرکار ان کے حوالے کرے۔ بہت سی ایسی تاریخی مساجد ہیں جو محکمہ آثار قدیمہ کی تحویل میں ہیں ۔ حکومت نے ان مقامات کو ٹورسٹ پوائنٹ بنا رکھا ہے اور ٹورسٹ جب وہاں جاتے ہیں تو عبادت گاہوں کا تقدس پامال ہوتا ہے ۔ حکومت کے ذریعہ مذہبی عبادت گاہیں متعلقہ مذاہب کے لوگوں کے سپرد کرنے سے نہ صرف ان کا تقدس محفوظ رہے گا بلکہ سبھی مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی عبادت گاہوں کی  بہتر انداز میں نگرانی کر سکیں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: