ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : بی جے پی نے ضمنی انتخابات کیلئے بچھائی بساط ، گوالیار چمبل ڈویزن کے 12 لیڈروں کو کابینہ میں ملی جگہ

اٹھائیس رکنی کابینہ میں چودہ وزیر سندھیا خیمہ سے اور باقی بی جے پی کوٹے سے شامل کئے گئے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینتس رکنی کابینہ میں بارہ وزرا کا تعلق گوالیار چمبل ڈیویزن سے ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : بی جے پی نے ضمنی انتخابات کیلئے بچھائی بساط ، گوالیار چمبل ڈویزن کے 12 لیڈروں کو کابینہ میں ملی جگہ
مدھیہ پردیش : بی جے پی نے ضمنی انتخابات کیلئے بچھائی بساط

مدھیہ پردیش میں شیوراج سرکار نے بہتر دنوں کے بعد کابینہ میں توسیع کردی ہے۔ کابینہ میں پہلی بار پانچ وزرا اور دوسری توسیع میں اٹھائیس وزرا کو شامل کیا گیا ہے ۔ اٹھائیس رکنی کابینہ میں چودہ وزیر سندھیا خیمہ سے اور باقی بی جے پی کوٹے سے شامل کئے گئے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینتس رکنی کابینہ میں بارہ وزرا کا تعلق گوالیار چمبل ڈیویزن سے ہے ۔


یوں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعہ کابینہ توسیع کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کابینہ کی توسیع میں مدھیہ پردیش کی علاقائی سیاست کو سامنے رکھ کر توازن قائم کیا گیا ہے اور صوبہ کے سبھی خطوں کے ساتھ سبھی قوموں کے لوگوں کو موقع دیا گیا ہے ، لیکن جب آپ کابینہ کے وزرا پر نظر ڈالیں گے تو آپ کو نظرآئے گا کہ کابینہ میں نہ علاقائی توازن کا خیال رکھا گیا ہے اور نہ ہی سبھی قوموں کو نمائندگی دی گئی ہے ۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی صوبہ میں چودہ ایسے لوگوں کو وزارت میں شامل کیا گیا ہے ، جو اسمبلی کے رکن ہی نہیں ہیں ۔ حکومت چاہتی تو اس طرح سے کسی مسلم لیڈر کو بھی کابینہ میں شامل کرسکتی تھی ، مگر یہاں بھی مسلم قیادت کو نظر انداز ہی کریا گیا ۔


یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بی جے پی حکومت جو سندھیا کے تعاون سے قائم کی گئی ہے ، اس میں گوالیار اور چمبل ڈویزن کے بارہ لیڈروں کو وزرات میں کیوں شامل کیا گیا جبکہ اتنے بڑے مہاکوشل سے صرف ایک وزیر کو کابینہ میں جگہ دی گئی ہے ۔ گوالیار اور چمبل ڈویزن کے لوگوں کو کابینہ میں زیادہ نمائندگی دینے کے پیچھے کی وجہ یہ ہے کہ صوبہ میں چوبیس سیٹوں پر ہونے والے اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں سولہ سیٹوں کا تعلق اکیلے گوالیار اور چمبل ڈویزن سے ہے اور سندھیا خیمہ کے بیشتر لیڈروں کا تعلق اسی خطے سے ہے ۔ ایسے میں مدھیہ پردیش کے دیگر علاقوں کو چھوڑ کر گوالیار اور چمبل ڈویزن پر فوکس کرنا بی جے پی قیادت کی مجبوری بھی ہے ۔


شیوراج کابینہ کی توسیع کو کانگریس نے مفاد پرستوں کی جماعت سے تعبیر کیا ہے ۔ سینئر کانگریس لیڈر وسابق پی ڈبلیو ڈی وزیر سجن سنگھ ورما کہتے ہیں کہ یہ پہلی ایسی کابینہ ہے ، جس میں تین طرح کے لوگ شامل ہوئے ہیں ۔ سندھیا خیمہ ، کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے مفاد پرست اور بی جے پی کے اپنے لیڈر۔ اور اب تو بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ سندھیا کو خوش کرنے کے چکر میں انہیں وزارت سے دور رکھا گیا ہے ۔ یہ ایسی کابینہ کی توسیع ہے ، جس میں سی ایم کو ہرروز زہر کے گھونٹ پینا ہوگا ۔ عوام ہر بات کا حساب پوچھے گی ۔

وہیں بی جے پی قیادت کا کہنا ہے کہ کابینہ میں سبھی کا خیال رکھا گیا ہے اور اس سے مدھیہ پردیش کی ہمہ جہت ترقی ہوگی ۔ ایم پی بی جے پی ترجمان  نیہا بگا کہتی ہے کہ کانگریس کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں ہے ۔ بی جے پی قیادت نے سبھی کو موقع فراہم کیا ہے ۔ جہاں پر جس کی جیسی ضرورت ہوتی ہے ، پارٹی اس کے مطابق اپنے کیڈر کو کام دیتی ہے ۔ وکاس اور وشواس کے سو دن بھی عوام نے دیکھے ہیں اور آگے بھی اسمبلی کی چوبیس سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں ہم کامیابی حاصل کریں گے اور مدھیہ پردیش ترقی کی ایک نئی عبارت رقم کرے گا ۔
First published: Jul 02, 2020 06:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading