ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مذہبی آزادی قانون کے معاملے میں مدھیہ پردیش حکومت کو جاری ہوا نوٹس

مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ ریاست میں آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کئے گئے مذہبی آزادی قانون دوہزار بیس کو جبلپور ہائی کورٹ میں قانون کے طالب علم امرتانش نیما نے چیلنج کیا ہے۔

  • Share this:

مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ ریاست میں آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کئے گئے مذہبی آزادی قانون دوہزار بیس کو جبلپور ہائی کورٹ میں قانون کے طالب علم امرتانش نیما نے چیلنج کیا ہے۔ مفاد عامہ کے تحت امرتانش نیما کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر جبلپور ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت،محکمہ قانون اور محکمہ داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتے میں جواب مانگا ہے ۔ امرتانش کے ذریعہ عرضی میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مذہبی آزادی قانون کے نام پر جو نیا قانون بنایا ہے اس سے آئین میں دیئے گئے شہریوں کے حقوق پر صرف کاری ضرب لگتی ہے بلکہ حکومت کی جانب سے جو سترہ نکات پیش کئے گئے ہیں اس میں چار،دس اور بارہ نمبر کے نکات پوری طرح سے آئین کے خلاف ہیں ۔

قانون کے طالب علم امرتانش نیما کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش مذہبی آزادی قانون دوہزار بیس جس کو لو جہاد کے نام سے تشہیر کی گئی ہے اس کو جبلپور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیاتھا جس پر جبلپور ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔غور طلب ہے کہ جو آئین سبھی شہریوں کو مساوات کا یکساں حقوق فراہم کرتا ہے ان حقوق کو صوبائی حکومت اپنے آرڈیننس کے ذریعہ ہم سے چھیننا چاہتی ہے ۔مجھے امید ہے کہ جب عدالتی چارہ جوئی آگے بڑھے گی تو عدالت سے آئینی حقوق کی بحالی ہوگی اور حکومت نے اپنے جبر کے ذریعہ جو ایک غیرآئنی قانون تھوپنے کا کام کیا ہے اس سے ہمیں آزادی ملے گی ۔

وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ عدالت نے کیا نوٹس جاری کیا ہے اس کے بارے میں ابھی ہمیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ نوٹس کو پڑھ کر عدالت میں اس کا جواب پیش کیا جائے گا ۔


یہاں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ لو جہاد کو روکنے کے نام پر گزشتہ سال جب مذہبی آزادی قانون دوہزار بیس کو آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کیاگیاتھا تو مدھیہ پردیش کی بہت سی سماجی تنظیمیں ،مسلم تنظیمیں اور عیسائی تنظیموں نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیاتھا مگر حیرت اس بات کی ہے مذہبی آزادی قانون کو لیکر بڑی بڑی باتیں کرنے والی تنظیمیں ابتک عدالت سے رجوع نہیں کرسکیں جبکہ حکومت کے ذریعہ بنائے گئے قانون کو قانون کے ایک طالب عالم نے جبلپور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا کام کیا ہے۔نام نہاد تنظیمیں جو میڈیا کی سرخیوں میں رہتی تھیں انہوں نے اس معاملے پر خاموشی کیوں اختیار کر لی ہے یہ معنی خیز ہے ۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 29, 2021 08:01 PM IST