உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : جشن اردو صحافت کو لے کر بھوپال میں دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد

    مدھیہ پردیش : جشن اردو صحافت کو لے کر بھوپال میں دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد

    مدھیہ پردیش : جشن اردو صحافت کو لے کر بھوپال میں دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد

    بھوپال کے ممتاز بزرگ صحافی عارف عزیز نے کہا کہ اردو صحافت نے اپنی ابتدا سے عوامی مسائل کی نمائندگی کا جو فریضہ ادا کرنے کا کام شروع کیا تھا ، وہ بحسن و خوبی ابھی بھی جاری ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کی تیاریاں بھوپال میں بڑے زور وشور سے جاری ہیں ۔ جشن اردو صحافت کے پہلے پروگرام کا انعقاد بھوپال میں جنوری دوہزار بائیس میں ہوگا ۔ دو سو سالہ جشن اردو صحافت کے پروگرام کو لیکر بھوپال میں منعقدہ پروگرام میں مدھیہ پردیش کے ممتاز اردو ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی اور دوہزار بائیس میں پورے سال تک کشمیر سے کنیا کماری تک صدی تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ جشن اردو صحافت کی تیاریوں کے موقع پر بھوپال سے ماہنامہ پرواز کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

    پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے بھوپال کے ممتاز بزرگ صحافی عارف عزیز نے کہا کہ اردو صحافت نے اپنی ابتدا سے عوامی مسائل کی نمائندگی کا جو فریضہ ادا کرنے کا کام شروع کیا تھا ، وہ بحسن و خوبی ابھی بھی جاری ہے ۔ اردو صحافت دوسری زبانوں سے کسی درجے کم نہیں ہے ۔ بلکہ مواد اور خبروں کی معتبریت میں اردو صحافت کو اولیت حاصل ہے ۔

    پروگرام کے مہمان خصوصی چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری نے اردو صحافت کے دو سوسالہ جشن کی تیاریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں اردو صحافت کی خوبیوں سے سبھی واقف ہیں ۔ موجودہ میں صحافت کے اداروں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے اس میں اردو کو سبقت حاصل ہے ۔ جشن اردو صحافت کے پہلے پروگرام کا آغاز بھوپال سے ہوگا ۔ پروگرام میں نہ صرف مدھیہ پردیش بلکہ کے نامور اردو صحافیوں کی خدمات حاصل کرنے اور ان کے مقالہ کو لیکر خاکہ تیار کیا جارہا ہے جسے بہت جلد نمایاں کردیا جائے گا ۔ ہمارا مقصد اردو صحافت کی مقصدیت کو منطر عام پر لانا ہے اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ اردو زبان اور اردو صحافت کے فروغ سے نہ صرف ہندوستانی تہذیب کا فروغ ہوگا بلکہ اردو ہی ہندوستان ہے اور ہندوستان ہی اردو ہے ۔

    وہیں پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز شاعر منطر بھوپالی نے کہا کہ تحریک آزادی میں اردو کے صحافیوں نے ہی برادران وطن میں جوش بھرنے کا کام کیا تھا جس سے ملک گیر سطح پر انقلاب کی فضا پیدا ہوئی تھی ۔ تحریک آزادی کی جب بھی بات ہوگی ، کوئی بھی زبان اردو زبان کے برابر نہیں کھڑی ہوسکتی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ بھوپال نے اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کو ملک گیر سطح پر منانے کا قدم اٹھایا ہے ۔ اس سے نہ صرف نئی نسل کو اردو صحافت کی تاریخ کو قدم سے جاننے کا موقع ملے گا بلکہ اردو زبان کے لئے جو مشکلات راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں وہ بھی دور ہوں گی۔

    پروگرام میں شعری اکادمی کے صدر مقبول واجد نے اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سابقہ میٹنگ میں جشن اردو صحافت کے موقعہ پر بھوپال سے اردو اخبار جاری کرنے کا اعلان کیاگیا تھا مجھے خوشی ہے کہ ماہنامہ پرواز کے نام سے آج سے پہلے شمارے کا اجراکیا گیا ہے ۔ پہلا شمارہ تحریک آزادی کے جیالوں کی روشن تاریخ پر ہے ۔ آگے بھی اردو والوں کے تعاون سے ماہنامہ پرواز کی اشاعت جاری رہے گی ۔ابھی ماہنامہ کی شکل میں جاری ہے اور جلد ہی اسے ہفت روزہ کیا جائے اور اردو والوں نے اپنی محبتوں سے نوازہ تو انشا اللہ دوہزار بائیس جو اردو صحافت کی دو سو سالہ صدی کا سال ہے پرواز کو روزنامہ میں تبدیل کیا جائے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: