உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال کا نام ہوگا تبدیل، شیوراج کابینہ کے وزیر وشواس سارنگ کے بیان پر مسلم تنظیموں کا شدید رد عمل

    شیوراج کابینہ کے وزیر وشواس سارنگ کے بیان پر مسلم تنظیموں کا شدید رد عمل

    شیوراج کابینہ کے وزیر وشواس سارنگ کے بیان پر مسلم تنظیموں کا شدید رد عمل

    شیوراج کابینہ کے سینئر وزیر وشواس سارنگ نے بھوپال کو غلامی کی علامت سے تعبیر کرتے ہوئے اس کا نام بدلنے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔ وہیں کانگریس سمیت مسلم تنظیموں نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اسے نفرت کی سیاست سے تعبیر کیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) میں مسلم تشخص کے شہروں کا نام بدلنے کی سیاست کم ہونے کا نہیں لے رہی ہے ۔ ایک شہر اور جگہ کا نام بدلنے کا معاملہ سرد بھی نہیں پڑتا ہے کہ دوسرے شہر اور مقامات کا نام بدلنے کی سیاست شروع ہو جاتی ہے ۔ شیوراج کابینہ کے سینئر وزیر وشواس سارنگ نے بھوپال کو غلامی کی علامت سے تعبیر کرتے ہوئے اس کا نام بدلنے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔ وہیں کانگریس سمیت مسلم تنظیموں نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اسے نفرت کی سیاست سے تعبیر کیا ہے۔

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کی تاریخ ہزارسال سے زیادہ قدیم ہے ۔ یہاں پرمار ونش، گونڈ حکمراں اور مسلم نوابوں کی حکومت رہی ہے ۔ اس شہر پر قریب ڈھائی سو سال تک تیرہ مسلم نوابوں نے حکومت کی لیکن اس شہرکا نام کبھی نہیں بدلا گیا مگر آزادی کے پچھہتر سال بعد اب بھوپال کے نام کو غلامی کی علامت سے تعبیر کرکے اس کا نام بدل کر بھوپال سے بھوجپال کرنے کا مطالبہ زور و شور سے کیا جانے لگا ہے ۔ بائیس نومبر کو بھوپال کے حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر رانی کملا پتی اسٹیشن رکھا گیا اس کے بعد ہوشنگ آباد کا نام بدل کر نرمدا پورم کیا گیا اور اب بھوپال کے نام کو بدلنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

    مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ کابینہ کے وزیر برائے وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ غلامی کی ہر نشانی کو ہم بدلیں گے ۔ وہ شہر اور گاؤں کے نام جو ہمیں غلامی کی یاد دلاتے ہیں ، وہ مدھیہ پردیش میں نہیں رہیں ، اسی عہد کے ساتھ  ہوشنگ آباد کا نام بدل کر نرمدا پورم کیا گیا ہے ۔ ہوشنگ آباد کو اب نرمدا پورم کہا جائے گا۔ کانگریس کے لیڈر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا بھگوا ایجنڈا ہے تو وہ اگر اس کو بھگوا ایجنڈا مانتے ہیں تو بھی ہمیں کوئی دقت نہیں ہے ۔ ہم غلامی کی ہر نشانی کو بدلیں گے ۔ میں نے بھوپال کا نام بدل کر بھوجپال کرنے کی مہم شروع کی تھی اور میں نے اس وقت حکومت سے مانگ کی تھی اور ایک بار پھر میں یہ چاہوں گا کہ بھوپال کا نام بدلا جائے اور وہ بھوجپال کے نام سے جانا جائے اور اس کے لئے میں حکومت کو خط بھی لکھ رہا ہوں ۔ بہت خوشی کی بات ہے کہ بابئی کو اب ماکھن نگر کہا جائے گا۔ یہ ہماری دیش بھکتوں کے خراج عقیدت پیش کرنے کی مہم ہے اور میں اس کے لئے وزیر اعلی شیوراج سنگھ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

    وہیں ممتاز شاعر منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ بقول راحت اندوری یہ لوگ جسم سے نہیں ذہن سے اپاہج ہیں ۔ یہ لوگ بھوپال کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں ۔ بھوپال کے مسلم حکمرانوں نے حکومت تو کی ، لیکن انہوں نے کبھی اس شہر کا نام بدلنے کا خیال نہیں کیا۔ آپ شہر کا نام بدل دیجئے اس سے شہر کی تاریخ نہیں بدل جائے گی لیکن ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنی تاریخ اور تہذیب اور شہر کے نام کی حفاظت کرنے کا ہنر آتا ہے ۔

    مدھیہ پردیش مسلم ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری اقبال مسعود کہتے ہیں کہ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ بھوپال کے نام کو مسلم حکمرانوں سے جوڑ کر کیوں دیکھا جا رہا ہے ۔ جب کہ اس شہر کی تاریخ گونڈ حکمراں اور گونڈ تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں پر گونڈ ونش کا بھوپال شاہ نام کا ایک حکمراں ہوا ہے ، جس نے اسے آباد کیا تھا اور اسی کے نام سے اس شہر کا نام بھوپال ہے ۔ اس نے ایک راگ بھی بنایا تھا جس کے نام سے راگ بھوپالی آج بھی مشہور ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ در اصل یہ لوگ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دلتوں، آدیواسیوں اور گونڈوں کے بھی دشمن ہیں ، جس شہر کی تہذیب کا تعلق آدیواسی گونڈ حکمراں بھوپال شاہ سے وابستہ ہے ۔ اسے وہ بدل کر پرمار ونش کے حکمراں راجہ بھوج کے نام سے بھوجپال کرنا چاہتے ہیں ۔ انہیں آدیواسی، دلت، پسماندہ طبقات کی ترقی اچھی نہیں لگتی ہے اس لئے یہ مسلمانوں کی اندھی دشمنی میں انہیں بھی تکلیف پہنچا رہے ہیں ، لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ شہروں کے نام بدلنے سے ترقی نہیں ہوتی ہے ، بلکہ اس کے لئے کام کرنا ہوتا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ کورونا قہر میں عوامی مشکلات، مہنگائی ، بے روزگاری سے بچنے کے لئے ایسے ایشو اٹھائے جا رہے ہیں ۔ تاکہ عوام اس میں الجھ کر حقیقی مسائل کی بات نہ کریں ۔ آدیواسیوں اور دلتوں کے حق کے لئے ہمارا احتجاج جاری رہے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: