ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : شیوراج حکومت کے بجٹ سے اقلیتیں مایوس ، اپوزیشن نے بھی سادھا نشانہ

جب وزیر اقلیتی فلاح و بہبود سے نیوز 18 اردو نے اقلیتوں اور اپوزیشن کی ناراضگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ میں کہیں کوئی کمی ہے تو اسے سپلیمنٹری بجٹ کے ذریعہ پورا کرلیا جائے گا ۔ رہی بات اپوزیشن کی تو اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے ، اس لئے لکیر پیٹ کر اپنی بھڑاس نکال رہی ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : شیوراج حکومت کے بجٹ سے اقلیتیں مایوس ، اپوزیشن نے بھی سادھا نشانہ
مدھیہ پردیش : شیوراج حکومت کے بجٹ سے اقلیتیں مایوس ، اپوزیشن نے بھی سادھا نشانہ

مدھیہ پردیش حکومت سال دو ہزار اکیس بائیس کا بجٹ پیش کرکے جہاں اپنی پیٹھ تھپ تھپا رہی ہے ، وہیں اقلیتی طبقہ اور اپوزیشن نے بجٹ پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ بجٹ پیش کرنے سے قبل حکومت نے اقتصادی سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ کورونا قہر کے سبب ریاست میں فی کس آمدنی میں چار سو پانچ روپے کی کمی آئی ہے ، اس کے باوجود حکومت کے پیش کردہ بجٹ میں اقلیتوں سے وابستہ سبھی اداروں کے ہاتھ مایوسی ہی لگی ہے ۔


وزیر خزانہ جگدیش دیوڑا کے ذریعہ سابقہ سال کی بہ نسبت بجٹ میں بائیس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ، لیکن اقلیتی اداروں کی بات کریں تو اس میں اس کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملتا ہے ۔ حکومت کے ذریعہ  سال دوہزار اکیس بائیس کے لئے دو لاکھ اکتالیس ہزار تین سو پچھہتر کروڑ روپیہ کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔ مدھیہ پردیش حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے ، جو پوری طرح سے پیپر لیس تھا۔


مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ بجٹ  میں سبھی طبقہ کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ پسماندہ طبقات، اقلتی طبقہ، کسان اور عام لوگوں کو بجٹ میں جو مراعات دی گئی ہیں ، اس سے پہلے کبھی نہیں تھیں ۔ بجٹ میں انفرااسٹرکچر، تعلیم اور سیاحت پر خصوصی فوکس کرنے کے ساتھ مدھیہ پردیش کو خود کفیل بنانے پر فوکس کیا گیا ہے۔


جب وزیر اقلیتی فلاح و بہبود سے نیوز 18 اردو نے اقلیتوں اور اپوزیشن کی ناراضگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ میں کہیں کوئی کمی ہے تو اسے سپلیمنٹری بجٹ کے ذریعہ پورا کرلیا جائے گا ۔ رہی بات اپوزیشن کی تو اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے ، اس لئے لکیر پیٹ کر اپنی بھڑاس نکال رہی ہے ۔

وہیں بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کا کہنا ہے کہ بجٹ مدھیہ پردیش کی عوام کے لئے مایوس کن تو ہے ہی مدھیہ پردیش کی اقلیتوں کے لئے اس سے زیادہ مایوس کن ہے ۔ حکومت نے اقتصادی سروے رپورٹ میں خود تسلیم کیا تھا کہ کورونا قہر میں فی کس آمدنی میں چار سو پانچ روپے کی کمی آئی ہے ، اس کے باوجود اقلیتی اداروں کے بجٹ میں اضافہ کرنے کی بجائے کمی کردی گئی ، جو انتہائی افسوسناک ہے ۔

مساجد کمیٹی کا بجٹ گزشتہ سال تین کروڑ اٹھاسی لاکھ دس ہزار روپے جبکہ امسال بجٹ کو کم کرکے تین کروڑ اٹھاسی لاکھ  کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح سے حج کمیٹی کا بجٹ جو گزشتہ سال ایک کروڑ چھیاسی لاکھ نوے ہزار روپے تھا اسے کم کرکے  ایک کروڑ اسی لاکھ روپیہ کردیا گیا ہے ۔ مدرسہ بورڈ، وقف بورڈ اور اردو اکادمی کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔ بلکہ سابقہ بجٹ کو ہی برقراررکھا گیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 02, 2021 11:57 PM IST