ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : اردو اساتذہ کی تقرری کو لے کر تحریک چلانے کا فیصلہ

جمیعت علما مدھیہ پردیش کے بینرل تلے بھوپال میں منعقدہ میٹنگ میں اردو دانشوروں کے ساتھ سماجی تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی اور ریاست گیر سطح پر اردو کو لے کر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : اردو اساتذہ کی تقرری کو لے کر تحریک چلانے کا فیصلہ
مدھیہ پردیش : اردو اساتذہ کی تقرری کو لے کر تحریک چلانے کا فیصلہ

بھوپال : اکیسویں صدی کی دہلیز پر جب مدھیہ پردیش نے قدم رکھا تھا ، تو یہاں کے عوام کو اپنے رہنماؤں سے صوبہ کی ہمہ جہت ترقی کے ساتھ زبان اور روزگار کو لیکر بہت سی توقعات وابستہ ہوگئی تھیں ۔ ان اکیس سالوں میں حالانکہ مدھیہ پردیش کے منظرنامے میں بہت کچھ تبدیلیاں آئیں ہیں ، مگر اردو طلبہ، اردو اسکول اور اردو اساتذہ کے مطالبات ویسے ہی برقرار ہیں ۔ حالانکہ دوہزار ایک سے اب تک مدھیہ پردیش کے اقتدار پر دگ وجے سنگھ، اوما بھارتی، بابو لال گور، شیوراج سنگھ ، کمل ناتھ اور اب شیوراج سنگھ کا پھر اقتدار قائم ہے مگر اردو عوام ،اردو اسکول اور اردو طلبا کے مسائل میں کوئی فرق نہیں آیا ہے ۔


ریاست کے اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری دوہزار تین میں کی گئی تھی اس کے بعد اقتدار بدلتا رہا وعدے اور دعوے ہوتے رہے مگر اردو اساتذہ کی آج تک تقرری نہیں کی جا سکی۔ کورونا قہر کے بعد کے حالات میں تعلیمی مسائل کو لیکر وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے ذریعہ وزرا گروپ کی کمیٹی تشکیل دیئے جانے کے بعد محبان اردو کو ایک بار پھر اردو کے حقوق کو لیکر امید جاگی ہے ۔ جمیعت علما مدھیہ پردیش کے بینرل تلے بھوپال میں منعقدہ میٹنگ میں اردو دانشوروں کے ساتھ سماجی تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی اور ریاست گیر سطح پر اردو کو لے کر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ۔


مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ وزیر اعلی نے تعلیمی مسائل کو لیکر وزرا گروپ کی جو کمیٹی تشکیل دی ہے ، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ لیکن اسی کے ساتھ ہم وزرا گروپ سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وزرا گروپ اپنی رپورٹ میں اردو اساتذہ کی تقرری کے مطالبہ کو بھی شامل کرے ۔ مدھیہ پردیش میں اردو پڑھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہیں ، لیکن اسکولوں میں اردو اساتذہ کے نہیں ہونے سے اردو طلبہ کو مایوسی ہوتی ہے ۔ حکومت اس جانب توجہ دیگی تو اس سے اردو پڑھنے والوں کو موقعہ ملے گا اور اردو زبان میں روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں گے ۔


مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سو سائٹی کے سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ ریاست میں اردو کے مسائل صرف اردو اساتذہ تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اردو طلبہ کو کتابیں بھی وقت پر فراہم نہیں ہوتی ہیں ۔ کورونا قہر میں محکمہ تعلیم کے ذریعہ جب آن لائن تعلیم کا نظام قائم کیا گیا ، تو اس میں تمام مضامین کے مواد ویب سائٹ پر اپ لوڈ کئے گئے ہیں ، مگر اردو طلبہ کی تعلیم کے لئے کوئی مواد نہیں فراہم کیا گیا ہے ۔ طلبہ جب اسکولوں میں جاتے ہیں اور اردو کو پڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں منع کردیا جاتا ہے کہ یہاں اردو کے اساتذہ نہیں ہیں ۔ لہذاآپ دوسرا مضمون لیجئے ۔

آج کی میٹنگ میں اردو طلبہ کے مسائل ،اردو طلبہ کے لئے کتابوں کی فراہمی کےساتھ اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر ریاست گیر سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایک اعلی سطحی وفد وزرا گروپ سے ملاقات کر اپنے مطالبات کو پیش کرے گا ۔ تاکہ ریاست میں اردو کے لئے فضا سازگار ہو سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 19, 2021 09:17 PM IST