ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مجتبی حسین کو زبان و بیان پر حاصل تھی قدرت ، بھوپال میں منعقدہ قومی سیمینار میں دانشوروں کا اظہار خیال

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے ڈائریکٹرڈاکٹر شیخ عقیل احمد کہتے ہیں کہ اردو طنز و مزاح کے میدان میں مجتبی حسین بیسویں صدی کا ایک بڑا نام ہے ۔ مجبتی حسین کی تحریر ہمارے ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ بھوپال نے ایک پہل کی اور مجبتی حسین پر قومی سمینارکا انعقاد انوارالعلوم سو سائٹی کے زیر اہتمام اے یو اسکول میں کیاگیا ۔

  • Share this:
مجتبی حسین کو زبان و بیان پر حاصل تھی قدرت ، بھوپال میں منعقدہ قومی سیمینار میں دانشوروں کا اظہار خیال
مجتبی حسین کو زبان و بیان پر حاصل تھی قدرت ، قومی سیمینار میں دانشوروں کا اظہار خیال

بیسویں صدی اردو طنز و مزاح کی تاریخ مجتبی حسین کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے۔ مجتبی حسین کے فن کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے طنز کے ذریعہ مزاح ضرور پیدا کیا ، مگر اخلاقیات کے دامن کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ انہوں نے اپنی حیات میں مختلف موضوعات پر جو درجن کتابیں لکھی تھیں ، وہ نہ صرف ہمارے ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں ، بلکہ نئی نسل کے قلم کار ان کے اسلوب کو اختیار کرکے طنز و مزاج نگاری کے میدان میں اپنی منزل کو حاصل کر سکتے ہیں ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی اور انوار العلوم سو سائٹی کے مشترکہ بینرتلے بھوپال اے یو اسکول میں منعقدہ قومی سبمینار میں دانشوروں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔


سمینار کی صدارت کے فرائض ممتاز ادیب وپروفیسر ظل الرحمن نے انجام دئے جبکہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے بطور مہمان خصوصی سبمینار میں شرکت کی اور مجتبی حسین کوبیسویں صدی کا نباض قراردیا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے ڈائریکٹرڈاکٹر شیخ عقیل احمد کہتے ہیں کہ اردو طنز و مزاح کے میدان میں مجتبی حسین بیسویں صدی کا ایک بڑا نام ہے ۔ مجبتی حسین کی تحریر ہمارے ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ بھوپال نے ایک پہل کی اور مجبتی حسین پر قومی سمینارکا انعقاد انوارالعلوم سو سائٹی کے زیر اہتمام اے یو اسکول میں کیاگیا ۔


سمینار میں مجتبی حسین کی فکر و فن کے حوالے سے بہترین مقالے پیش کئے گئے ہیں ۔ قومی کونسل کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اچھا ادب سماج کو پیش کیا جائے ۔ کووڈ 19 کے قہر میں تمام شعبوں کے بجٹ میں تخفیف کی گئی ، مگر مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ قومی کونسل برائے فروع اردو زبان کے بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے ۔ بھوپال میں بہترین ادب لکھا گیا ہے مگر مجھے یہ بتایا گیا کہ اب بھوپال کی ادبی فضا معدوم ہوتی جا رہی ہے ۔ میں نے یہاں کے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ سماجی تنظیموں سے گزارش ہے کہ وہ اردو کے مسائل کو لیکر سی ایم اور متعلقہ محکموں کے وزیروں نے ملاقات کریں اور ہمیں بھی اس میمورنڈم کی کاپی فراہم کریں ۔ تاکہ ہم بھی اس کی روشنی میں سی ایم اور چیف سکریٹری سے بات کرکے ریاست میں اردو کے لئے فضا کو ہموار کرنے میں اپنا کردار پیش کرسکیں ۔


سمینار کے صدرپدم شری حکیم ظل الرحمن کہتے ہیں کہ مجتبی حسین طنز و مزاح نگاری میں کسی کی پیروی نہیں کی ہے بلکہ اپنا الگ رنگ پیدا کیا ہے۔ انہوں نے طنز سے مزاح پیدا کیا ہے ، مگر اس شائستگی سے کیا ہے کہ پڑھنے والا زیر لب مسکراتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ مجتبی حسین کے انتقال کے بعد مجھے حیدر آباد ہی نہیں دوسری ریاستوں میں ان کا ثانی نظر نہیں آرہا ہے ۔ میں جب بھی حیدرآباد گیا ہوں ، انہیں کا مہمان رہاہوں ، ان کے انتقال کے بعد اب حیدر آباد جانے کی ہمت نہیں ہورہی ہے ۔ مجتبی حسین کے فن پر حالانکہ حیدر آباد میں سمینار کا انعقاد ہونا چاہئے تھا ۔ مگر بھوپال نے اس معاملہ میں سبقت حاصل کی ہے ۔  اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔

ممتاز ادب و جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ اردو کے سابق صدر پروفیسر خالد محمود کہتے ہیں کہ بھوپال میں مجبتی حسین اور ان کے فن پر سمینار کا انعقاد کیا گیا ہے۔ حالانکہ بھوپال میں بھی بڑے بڑے طنز و مزاح نگار پیدا ہوئے ہیں ۔ بھوپال کے فنکاروں کو بھی اس میں شامل کرلیا گیا ہوتا تو اور اچھا ہوتا ۔ طنز و مزاح نگاری میں غلو کا بھی بہت کام ہوتا ہے ۔ مجتبی حسین کی خوبی یہ ہے کہ انہیں زبان و بیان پر قدرت حاصل تھی ۔ ان کا تعلق حیدر آباد سے ضرورتھا ، مگر ان کی تحریر کو ہر جگہ خندہ پیشانی سے قبول کیا گیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 21, 2021 10:09 PM IST