உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : ساجھی وراثت کی حفاظت سے ہی ہوگا ہندوستان کا استحکام : انجم بارہ بنکوی

    مدھیہ پردیش : ساجھی وراثت کی حفاظت سے ہی ہوگا ہندوستان کا استحکام : انجم بارہ بنکوی

    منشی پریم چند کی یوم ولادت اور محمد رفیع کی برسی پر منعقدہ پروگرام میں دانشوروں کا اظہار خیال

    • Share this:
    بھوپال : ہندوستان مشترکہ تہذیب کا ملک ہے ۔ مشترکہ تہذیب یہاں کی تہذیب کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ آج بھی مشترکہ تہذیب کی آبیاری کو لے کر سبھی لوگ سرگرم رہتے ہیں ۔ اکتیس جولائی ممتاز افسانہ نگار منشی پریم چند کی یوم ولادت کا دن ہے اوراکتیس جولائی ممتاز گلوکار محمد رفیع کی برسی کا دن ہے ۔ بھوپال کی سماجی تنظیموں نے ساجھی وراثت کے طور پر دونوں عظیم شخصیات کو یاد کیا اور ان کے کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

    مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام بھوپال گاندھی نگر میں منشی پریم چندکی حیات و خدمات پر کورونا کی وبائی بیماری کے سبب سوشل ڈسٹنس کے ساتھ مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مختصر تقریب میں دانشوروں نے پریم چند کو ہندوستان کی ساجھی وراثت کا امین بتایا ۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ منشی پریم چند ہماری ساجھی وراثت کے امین ہیں ۔ انہوں نے سماجی ناہمواری کے ساتھ حج اکبر، عیدگاہ جیسے موضوعات پر افسانہ لکھا ، جس کی معنویت آج بھی برقرار ہے ۔ ہمیں پریم چند کے افسانوں پر نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    وہیں بھوپال کے تاریخی  اقبال میدان میں ساجھی وراثت کے طور پر منشی پریم چند اور محمد رفیع کو یاد کیا گیا ۔ محبان بھارت اور ماہی کلچرل سوسائٹی کے مشترکہ بینر تلے منعقدہ مختصر تقریب میں ادببوں اور شاعروں کے ساتھ صحافیوں نے شرکت کی ۔ محبان بھارت کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ منشی پریم چند نے سماج کو بیدار کرنے کا کام جبکہ محمد رفیع نے اپنے نغموں، گیتوں اور بھجنوں سے یکجہتی کے پیغام کو عام کیا ہے۔

    ماہی کلچرل سوسائٹی کے صدر شاہویز سکندر کہتے ہیں کہ محمد رفیع کا بھوپال سے گہرا رشتہ رہا ہے ۔ محمد رفیع نے بھوپال باب اعلی نے لائیو کنسرٹ پروگرام دیا تھا اور جب ان کے دونوں بیٹوں کی شادی ہوئی تھی تو محمد رفیع بھوپال سے ہی بارات لیکر خان ڈیرا گئے تھے۔ اسی طرح سے بھوپال کے افسانہ نگاروں نے پریم چند کے اسلوب کو اختیار کرکے جو افسانے لکھے وہ کافی اہم ہیں ۔ ہم سب کی خواہش تھی کہ پریم چند اور محمد رفیع کی یاد میں بڑا پروگرام منعقد کیا جائے ، لیکن کورونا قہر اور حکومت کی پابندیوں کے سبب یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ ہم لوگوں نے اقبال میدان میں مختصر طور پر ہی منشی پریم چند اور محمد رفیع کو یاد کیا ہے اور ساتھ یاد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اکتیس جولائی منشی پریم چند کی یوم ولادت کا دن ہے اور اکتیس جولائی کو ہی ممتاز گلوکار محمد رفیع کی برسی کا دن ہے ۔

    پروگرام کے مہمان خصوصی ممتاز شاعر و ادیب ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کہتے ہیں کہ ساجھی وراثت کی حفاظت میں ہی ہندستان کا استحکام ہے ۔ منشی پریم چندنے جو افسانہ دہائیوں قبل لکھے تھے ، ان کی معنویت نہ صرف برقرار ہے ، بلکہ وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پریم چند نے انیس چھتیس میں حسن کا معیار بدلنے کی جو بات کہی تھی اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ پریم چندکی تحریروں کی روشنی میں نئے ہندستان کی تعمیر کی جا سکتی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: