ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

امرت مہوتسو کی طرز پر مجاہدین آزادی کو یاد کرنے کا مسلم دانشوروں اور سماجی تنظیموں کا فیصلہ

دانشوروں کا ماننا ہے کہ آزادی کا امرت مہوتسو کے نام سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے مجاہدین آزادی کو یاد کرنے کا جو سلسلہ شروع کیاہے ۔ وہ اچھی پہل ہے ۔ لیکن اس میں سب سے تکلیف دہ کا پہلو یہ ہے کہ آزادی کے امرت مہوتسو میں صرف ایک قوم کے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو پیش کیا جا رہا ہے اور دوسری قوم کے لوگوں کو فراموش کیا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے ۔

  • Share this:
امرت مہوتسو کی طرز پر مجاہدین آزادی کو یاد کرنے کا مسلم دانشوروں اور سماجی تنظیموں کا فیصلہ
امرت مہوتسو کی طرز پر مجاہدین آزادی کو یاد کرنے کا مسلم دانشوروں اور سماجی تنظیموں کا فیصلہ

مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعہ آزادی کا امرت مہوتسو شروع کئے جانے کے بعد مسلم دانشوروں اور سماجی تنظیمیوں نے بھی اپنی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے ریاست مدھیہ پردیش میں سال بھرتک مجاہدین آزادی کا پیغام کے عنوان سے پروگرام کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ آزادی کا امرت مہوتسو کے نام سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے مجاہدین آزادی کو یاد کرنے کا جو سلسلہ شروع کیاہے ۔ وہ اچھی پہل ہے ۔ لیکن اس میں سب سے تکلیف دہ کا پہلو یہ ہے کہ آزادی کے امرت مہوتسو میں صرف ایک قوم کے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو پیش کیا جا رہا ہے اور دوسری قوم کے لوگوں کو فراموش کیا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے ۔


مدھیہ پردیش میں حکومت کے ذریعہ آزادی کا امرت مہوتسو پروگرام شروع کرنے کے بعد بی جے پی نے بھی ریاست بھر میں آزادی کا امرت مہوتسو کے عنوان سے ریاست بھر میں پروگرام کے انعقاد کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ بھوپال گاندھی نگر ایم پی جمیعت علما اور مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے مشترکہ بینرتلے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں بھوپال کے دانشوروں نے شرکت کی اور آزادی کی ساجھی وراثت کو بچانے کے لئے ریاست گیر سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔


ممتاز ادیب اقبال مسعود کہتے ہیں کہ آزادی کی سنہری تاریخ میں جو قربانیاں مسلم مجاہدین آزادی کی ہیں ، وہ کسی اور کی نہیں ہیں ۔ اس کے باوجود ایک سازش کے تحت مسلم مجاہدین آزادی کو فراموش کیا جا رہا ہے ، جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ہم مسلم مجاہدین آزادی کے ساتھ دوسری قوموں کے مجاہدین آزادی کی روشن تاریخ کو منطر عام پر لائیں گے اور ملک کو بتائیں گے کہ آزادی کی روشن تاریخ کیا ہے اور اس میں مجاہدین آزادی کا کردار کیارہا ہے۔


ممتاز ادیب پروفیسر نعمان خان کہتے ہیں کہ سترہ سو ستاون سے لیکر انیس سو سینتالیس تک آزادی کے کسی باب سے مسلم مجاہدین آزادی کے نام کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ حیرت ہوتی ہے جب آزادی کے نام پر چند لوگوں کا نام لیکر بات پوری کرلی جاتی ہے ۔ ہم مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں ساجھی وراثت کی ساجھی تاریخ کو ضائع ہونے سے بچایا جائے ۔

مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ آزادی کی لڑائی میں جمعیت علما کا بڑا کردارہے ۔ ہمیں یہ سن کر اور دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آزادی کی تحریک میں رام پرساد بسمل کا نام تو لیا جاتا ہے لیکن ان کے ساتھ اشفاق اللہ خان کی بات نہیں کی جاتی ہے ۔ اس لئے ہم لوگوں نے ریاست مدھیہ پردیش میں سال بھرتک مجاہدین آزادی کا پیغام کے عنوان سے پروگرام کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آزادی کی تحریک میں جن لوگوں کی بھی قربانیاں رہی ہیں ، انہیں سچا خراج عقیدت پیش کیا جائے اور نئی نسل کو آزادی کی سچی تاریخ سے واقف کرایا جائے ۔ تاکہ ہم سب لوگ متحد ہوکر ہندوستان کو ترقی کی راہ پر لے جا سکیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 13, 2021 08:50 PM IST