உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محبت کے آبشار سے بجھائی گئی آگ ، مسلمان نماز پڑھنے میں تھے مصروف ، ہندو بھائیوں کی مساعی سے آگ پر پایا گیا قابو

    محبت کے آبشار سے بجھائی گئی آگ ، مسلمان نماز پڑھنے میں تھے مصروف ، ہندو بھائیوں کی مساعی سے آگ پر پایا گیا قابو

    محبت کے آبشار سے بجھائی گئی آگ ، مسلمان نماز پڑھنے میں تھے مصروف ، ہندو بھائیوں کی مساعی سے آگ پر پایا گیا قابو

    شیرپورگاوں کے مسلمان نماز پڑھنے میں مصروف تھے اور ان کے کھیتوں میں کھڑی فصل میں آگ لگ گئی تو پڑوسی گاؤں ستپاڑا کے ہندو بھائیوں کی مساعی جمیلہ سے آسمان سے بات کرتے ہوئے آگ کے شعلوں پر قابو پایا گیا۔

    • Share this:
    ودیشہ : نفرت کے شعلوں سے آگ لگاتے ہوئے منظر تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے ، مگر محبت کے آبشار سے آگ بجھاتے ہوئے منطر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے ودیشہ ضلع کے ستپاڑا سے  متصل شیر پور میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔ جب شیرپورگاوں کے مسلمان نماز پڑھنے میں مصروف تھے اور ان کے کھیتوں میں کھڑی فصل میں آگ لگ گئی تو پڑوسی گاؤں ستپاڑا کے ہندو بھائیوں کی مساعی جمیلہ سے آسمان سے بات کرتے ہوئے آگ کے شعلوں پر قابو پایا گیا۔ فصل میں لگی آگ کی لپٹیں جتنی تیز تھیں ، اس سے زیادہ کہیں تیزی سے ہونے والی محبتوں کی بارش نے جب آگ پر قابو پایا تو لوگ دیکھتے رہ گئے ۔

    گاؤں کے سرپنچ رئیس احمد ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ شیرپورسے متصل سبھی گاؤں میں جو بھائی چارہ ہے ، وہ کہیں اور نہیں ہے ۔ گاؤں کے مسلمان جب نماز پڑھنے میں مصروف تھے اور کھیت میں کھڑی فصل میں آگ لگ گئی ، تو مسلمانوں کو اس کی خبر ہی نہیں تھی ۔ پڑوسی گاؤں ستپاڑا کے ہندو بھائیوں نے جب آسمان میں اٹھتے دھویں اور آگ کے شعلوں کو دیکھا تو آگ بجھانے کے لئے جس کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ لے کر نکل پڑے اور تب تک کھیتوں میں رہے جب تک آگ پوری طرح سے بجھ نہیں گئی ۔ گاؤں کے لوگوں کے اس محبت کے جدبے کو دل سے سلام کرتا ہوں اور ہمارے ہندو بھائیوں نے محبت کا جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ، اس کے لئے یہی دعا ہے کہ اللہ ہمارے پڑوسی کو سلامت رکھنا ۔

    ستپاڑا کے سنتوش کہتے ہیں کہ یہ ہندو مسلمان کیا ہوتا ہے ۔ سب سے بڑا دھرم انسانیت کا ہوتا ہے ۔ ہمارے بیچ انسانیت کا رشتہ ہے اور گاؤں کے سبھی مرد و عورت نے انسانیت کا دھرم نبھایا ہے ۔ آگ کھیتوں میں پھیلتی چلتی جا رہی تھی اور جب دیکھا کہ مسلمانوں نہیں آرہے ہیں ، تو پتا چلا کہ وہ لوگ نماز پڑھنے گئے ہیں ۔ پھر کیا تھا ہم لوگ ٹریکٹر، ٹینکر، بالٹی فرسا جس کو جو ملا آگ بجھانے کے لئے نکل پڑے اور سب کی محنت سے آگ بجھائی گئی ۔

    شیر پور کے مسلمانوں کے کھیتوں میں لگی آگ کو جس طرح سے ہندو بھائیوں نے محبت کے آبشارسے بجھایا ہے اس کو دیکھتے ہوئے تو یہی کہا جا سکتا ہے :

    صد رنگ یہ فضا میرے ہندستاں کی ہے

    خوشبو اسی میں دیکھئے سارے جہاں کی ہے
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: