உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فلسفہ تعلیمات اردو درس و تدریس کے طلبہ کیلئے تاریخی دستاویز کی حامل

    فلسفہ تعلیمات اردو درس و تدریس کے طلبہ کیلئے تاریخی دستاویز کی حامل

    فلسفہ تعلیمات اردو درس و تدریس کے طلبہ کیلئے تاریخی دستاویز کی حامل

    قومی سمینار میں ملک میں ممتاز ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے شرکت کی اور اردو تدریس میں نظریہ تعمیریت کی اہمیت و ضرورت کے مطابق نصاب ترتیب دینے پر زور دیا۔

    • Share this:
    بھوپال : مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن اینڈ کلچرل سوسائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں فلسفہ تعلیمات کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ قومی سمینار میں ملک میں ممتاز ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے شرکت کی اور اردو تدریس میں نظریہ تعمیریت کی اہمیت و ضرورت کے مطابق نصاب ترتیب دینے پر زور دیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ  ہندوستان جیسے وسیع اور عریض ملک میں ادب کے نام پر ہر روز بہت سی کتابیں منظر پر آتی ہیں ، لیکن یہ کتابیں اردو درس و تدریس کی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہیں ۔ ایسے میں ڈاکٹر محمد نعمان کے ذریعہ فلسفہ تعلیمات کے نام سے لکھی گئی کتاب نہ صرف اردو طلبا کے لئے بلکہ اردو تدریس سے وابستہ حضرات کے لئے ایک ایسا دستاویزہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

    ممتاز ادیب ڈاکٹر محمد نعمان خان کے ذریعہ لکھی گئی کتاب فلسفہ تعلیمات میں نہ صرف ہندوستان میں رائج طریقہ تعلیم پر مبسوط انداز میں گفتگوکی گئی ہے بلکہ جب سے دنیا میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس عہد سے لیکر آج تک زندہ قوموں کے بیچ جو فلسفہ تعلیم رائج ہیں ، ان کی روشنی میں موجود ہ طریقہ تعلیم کا جائزہ لینے کی جس طرح سے کوشش کی گئی ہے وہ نہ صرف اہم ہے بلکہ وہ وقت کی ضرورت بھی ہے ۔

    مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ فلسفہ تعلیمات پر قومی سمینار پر انعقاد اس لئے کیا تاکہ ہمارے بچوں کو اور اردو طلبا کو معلوم ہو سکے کہ اردو کے میدان میں جن لوگوں نے بھی محنت کی اور اپنی تحریر میں انفرادیت پیدا کرتے ہوئے ادب کو تخلیق کیا ہے ان کی خدمات کتنی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ یہ بات ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ بھوپال کے ایک فرزند نے فلسفہ تعلیمات پر ایک جامع کتاب لکھی ہے۔ اسلئے سوسائٹی کے ذریعہ سمینار کے ساتھ ڈاکٹر محمد نعمان خان کا اعزاز بھی کیا گیا اور انہیں توصیفی سند بھی پیش کی گئی۔

    ممتاز ادیب وناقد ڈاکٹر محمد نعمان خان کہتے ہیں کہ یوں تو بھوپال سیفیہ کالج میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں ، لیکن این سی ای آرٹی دہلی سے وابستہ ہونے کے بعد نہ صرف مختلف ریاستوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ بلکہ یہ بھی دیکھا کہ اس ملک میں جہاں ساڑھے تین یونیورسٹیاں ہیں وہاں پر درسی کتابیں تیار کرنے کا ایک اہم ادارہ ہے جسے این سی ای آرٹی کہتے ہیں اس کی اپنی افادیت ہے۔ این سی ای آرٹی میں مجھے وسیع میدان ملا۔ این سی ای آرٹی اسکولی نظام تعلیم کے لئے کام کرتی ہے ۔ میرا جو تیرہ چودہ سال کا عرصہ تھا ، اس میں میں نہ صرف ہندوستان بلکہ تعلیم و تدریس کے عالمی اور قومی پس نظر، جدید عصری رجحانات ، رویے ، تقاضے، حکمت عملی ، انداز نظر اور مختلف طریقہ ہائے تدریس سے متعلق مضمون کو شامل کیا ۔ تاکہ نئی نسل استفادہ کرسکے ۔اس میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں اس کا فیصلہ تو اہل نطر کریں گے ۔

    ممتاز ادیب ڈاکٹر محمد احسن کہتے ہیں کہ اردو میں درس و تدریس پر اس طرح کی کتابیں عنقہ ہیں ۔ ڈاکٹر محمد نعمان ایک جہت سے کام کیا ہے اور اس کا اردو ادب میں استقبال کیا جا نا چاہیئے۔جبکہ ممتاز شاعر و دانشور ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر محمد نعمان خان اپنے تحقیق اور کام کی انفرادیت کے لئے پہچانے جاتے ہیں ۔ انہوں نے جب بھوپال میں اردو انضمام کے بعد لکھی تھی تبھی انہوں نے اپنی تحقیق کے تیور اور معیار سے اہل نظر کو بتادیا تھا کہ انہیں حلقے میں نہ لیا جائے اور آج نہ صرف مدھیہ پردیش بلکہ جہاں بھی اردو لکھی اور پڑھی جاتی ہے وہاں ڈاکٹر محمد نعمان کی تحقیق کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔

    ممتاز ادیب اقبال مسعود نے سمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سو چونتیس صفحات پر مشتمل  ڈاکٹر محمد نعمان خان کی کتاب فلسفہ تعلیمات اردو طلبا کے لئے دستاویزی اہمیت کی حامل ہے ۔انہوں نے نہ صرف قومی تعلیمی نظرہ تعلیم پر ہی بحث نہیں کی ہے بلکہ عالمی سیاق و سباق میں جس انداز سے پیش کیا ہے وہ اس کتاب کا حاصل ہے ۔

    ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر این دتا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسفہ تعلیمات نامی اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں جہاں سرسید،مولانا آزاد،شبلی نعمانی،محمد حسین آزاد،اسمعیل میرٹھی،نواب سلطان جہاں ، اقبال، ذاکر حسین، مولانا ابوالحسن ندوی کےنظریہ تعلیم کو پیش کیا گیا ہے ۔ وہیں  رابندر ناتھ ٹیگور، گاندھی جی، سوامی ویویکانند کے فلسفہ تعلیم کو بھی  پیش کیا گیا اور اس طرح کی کتابوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہئے تاکہ ہندوستان کے جمہوری اقدار کے ساتھ وہ نظریہ تعلیم فروغ پاسکے جس کی سب کو ضرورت ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: