உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تاریخی ورثہ اور تہذیب و تمدن سے ہوتی ہے قوموں کی پہچان، مٹتے نقوش پر دانشوروں کا اظہار تشویش

    اقبال لائبریری میں منعقدہ پروگرام میں دانشوروں نے بھوپال کی قدیم تہذب و تمدن کے ساتھ بھوپال کی مشترکہ تہذیب اور یہاں کے بیش قیمتی تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے مشترکہ طور پر تحریک چلانے پر زور دیا ۔

    اقبال لائبریری میں منعقدہ پروگرام میں دانشوروں نے بھوپال کی قدیم تہذب و تمدن کے ساتھ بھوپال کی مشترکہ تہذیب اور یہاں کے بیش قیمتی تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے مشترکہ طور پر تحریک چلانے پر زور دیا ۔

    اقبال لائبریری میں منعقدہ پروگرام میں دانشوروں نے بھوپال کی قدیم تہذب و تمدن کے ساتھ بھوپال کی مشترکہ تہذیب اور یہاں کے بیش قیمتی تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے مشترکہ طور پر تحریک چلانے پر زور دیا ۔

    • Share this:
    تہذیب و تمدن اور تاریخی ورثہ سے نہ صرف قوموں کی عظمت رفتہ کی پہچان ہوتی ہے بلکہ ان کا تحفظ آئندہ نسلوں کی تربت کا اہم ذریعہ ہوتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انجمن محبان بھوپال کے زیر اہتمام بھوپال اقبالا لائربری میں منعقدہ پروگرام میں دانشوروں نے کیا۔ اقبال لائبریری میں منعقدہ پروگرام میں دانشوروں نے بھوپال کی قدیم تہذب و تمدن کے ساتھ بھوپال کی مشترکہ تہذیب اور یہاں کے بیش قیمتی تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے مشترکہ طور پر تحریک چلانے پر زور دیا ۔ محبان بھوپال کے زیر اہتمام بھوپال اقبال لائبریری میں بھوپالی کی تہذیب اور تاریخی ورثے کے تحفظ کو لیکرمنعقدہ پروگرام میں اتر پردیش و اتراکھنڈ کے سابق گورنر ڈاکٹر عزیز قریشی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو ہماری تہذیب ،ہمارا تمدن اور ہمارا معاشرہ اور ہمارے آداب تھے، انہیں ایک منظم سازش کے تحت ایک ایک کرکے ختم کیا گیا ہے ۔
    تہذیب و تمدن اور تاریخی ورثہ کے تحفظ کی ذمہ داری ان لوگوں پر تھی اور اب بھی ہے جو یہاں کے حکمراں ہیں ۔پھر بھی ابھی بہت کچھ ڈوبتا ہوا سرمایہ باقی ہے اس کو بچانے کے لئے ہر بھوپالی کو أگے آنا ہوگا اور سبھی کے لئے اپنی تہذیب اور تاریخی ورثہ کے نقوش کو بچانا دینی ،مذہب اور سماجی اور اخلاق فرائض میں شامل ہے۔ہندستان کی کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جس کا تاریخی ورثہ باقی نہ ہومگر یہاں کی تاریخی عمارتیں ،بلڈنگ،میموریل،عجائب گھر،میوزیم سب کچھ مٹا دیا گیا ہے ۔اور ابھی جو کچھ باقی ہے اس کو تحفظ دینے کے لئے بلا تفریق مذہب وملت سبھی کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اپنی تحریک سے ہمیں سرکار کو مجبور کرنا چاہیئے کہ وہ ہمارے تہذیب و ثقافتی روثہ کو محفوظ کرے۔میں تو مانگ کرتا ہوں کہ بھوپال کے حکمرانوں کی یاد گار کے لئے سرکار میوزیم قائم کرے۔
    ممتاز مورخ رضوا ن الدین انصاری کہتے ہیں کہ بھوپال کی تہذیب کو ہمیں ریاست کے قیام سے قبل اور ریاست کے قیام کے بعد کے دو حصوں میں تقسیم کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ بھوپال اپنی درخشاں تاریخ اور علمی خدمات کے لئے نہ صرف ہندستان بلکہ عالمی سطح پر الگ شناخت رکھتا تھا اور اسے تاریخ کے اوراق میں اس کی علمی خدمات کے لئے بغدادالہند بھی کہا گیا ہے۔ بھوپال کی تہذب مشترک رہی ہے اور اس کے فروغ میں بلا لحاظ قوم وملت سبھی کا تعاون شامل رہا ہے ۔یہاں کی تہذیب میں گونڈ تہذیب ،جین تہذیب کا خاص اثر رہا ہے ۔لوگوں نے ایک دوسرے کے کلچراور رہن سہن کے ساتھ بولی اور زبان کے اثر کو بھی قبول کیا ہے ۔
    بھوپال میں نوابین کے علاوہ بھی عام لوگ رہتے تھے وہ بھی ہمارے لئے قیمتی تھے اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ہمارے یہاں ایک دوسرے کے مذہب کا خیال رکھنے اور آپسی رواداری کو فروغ دینے کا جو چلن تھا وہ بہت اہم ہے۔ ہمارے والد نے قریب ستر سال راکھی باندھی ہے لیکن اب جس طرح کا ماحول ہے اس میں اس تہذیب کو بچانے کی ضرورت ہے۔

    محبان بھوپال کے صدر ڈاکٹر یونس فرحت کہتے ہیں کہ پروگرام کے انعقاد کا مقصد نئی نسل کو بھوپال کی عظیم تاریخ سے واقف کرانا اور بھوپال کی تاریخی وراثت کے ساتھ یہاں کی تہذیب و تمدن کو آگے بڑھانا ہے ۔ پروگرام میں بھوپال کی تاریخ ،تہذیب و تمدن کو لیکر بہت سے مفید مشورے سامنے آئے ہیں جن کو ایک قرار داد کی شکل میں محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ ثقافت کوپیش کیا جائے گا اور حکومت پر دباؤ بنایا جائے گا کہ وہ بھوپال کے تاریخی ورثہ اور قدم تہذیب و تمدن کی بقا کے لئے قدم اٹھائے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: