ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : نواب شاہجہاں بیگم کا مقبرہ بنا کھیل کا میدان

نواب شاہجہاں بیگم کا مقبرہ بھوپال کے باغ نشاط افزا میں واقع ہے۔ ریاستی عہد میں یہاں پر خوبصورت باغ ہوا کرتا تھا مگر آج کل یہاں پرعدم توجہی کی وجہ سے صرف دھول اڑتی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : نواب شاہجہاں بیگم کا مقبرہ بنا کھیل کا میدان
مدھیہ پردیش : نواب شاہجہاں بیگم کا مقبرہ بنا کھیل کا میدان

بھوپال کو نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ اس شہر پر نو مرد اور چار بیگمات نے حکومت کی ہے ۔ جہاں تک بھوپال کے عہد زریں کا تعلق ہے تو بیگمات بھوپال نے بھوپال کی ہمہ جہت تعمیر و ترقی میں جو کردار ادا کیا ہے وہ مرد نواب نہیں کرسکے ۔ مغل حکمرانوں میں عمارتوں کی تعمیرکو لیکر جو مقام شاہجہاں کو حاصل ہے، نوابین بھوپال میں وہی مقام بھوپال کی تیسری خاتون فرمانروا نواب شاہجہاں بیگم کو حاصل ہے ۔ مگر یہ بھی وقت کی ستم ظریفی ہے کہ جس نواب نے بھوپال کی عظمت میں چار چاند لگائے تھے ، آج اس کا مقبرہ نہ صرف شکستہ حال ہے بلکہ بچوں کے کرکٹ کھیلنے کا میدان بھی بن چکا ہے ۔ کہنے کو اسے دیکھنے کے لئے متولی کمیٹی اوقاف عامہ، وقف بورڈ اور شاہی جیسے ادارے شہر میں موجود ہیں ، مگر کسی کو اس کی خستہ حالی کو دور کرنے کی فکر نہیں ہے۔


نواب شاہجہاں بیگم صرف ایک نواب ہی نہیں تھی بلکہ ریاست کی فرمانروا ہونے کے ساتھ وہ صاحب دیوان شاعرہ تھی۔ دیوان شیریں اور دیوان تاج ان کی یاد گار ہیں ۔ یہی نہیں انہوں نے خزینۃ اللغات کے نام سے چھ زبانوں میں ڈکشنری بھی لکھی تھی ۔ انہوں نے بھوپال میں ایشیا کی بڑی مسجد تاج المساجد کی تعمیر کروائی ، تو لندن کی پہلی مسجد بنوانے کا سہرا بھی انہیں کے سر بندھتا ہے ۔ انہوں نے بھوپال میں جو عمارتیں تعمیر کی تھیں وہ آج  بھی فن تعمیر کا بہترین نمونہ تسلیم کی جاتی ہیں ۔


نواب شاہجہاں بیگم کا مقبرہ بھوپال کے باغ نشاط افزا میں واقع ہے۔ ریاستی عہد میں یہاں پر خوبصورت باغ ہوا کرتا تھا مگر آج کل یہاں پرعدم توجہی کی وجہ سے صرف دھول اڑتی ہے۔ نیوز18 اردو کی خبر کے بھوپال ایم ایل اے عارف عقیل نے مقبرہ کے چاروں جانب دیوارکی تعمیر کروائی تھی ۔ مگر بعد میں یہ دیواریں بھی عدم توجہی کے سبب شکستہ حالی کا شکار ہوگئیں ۔


نواب شاہجہاں کی مقبرہ کی تعمیر کو لیکر ایم پی جمعیت علما نے بھی تحریک شروع کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھوپال نگر نگم نے کام شروع تو کیا ، مگر نگر نگم کا کام دیواروں کے رنگ روغن سے آگے نہیں بڑھ سکا ۔ نیوز18 اردو کی خبر کے بعد ایم پی جمعیت علما نے مقبرہ کی خستہ کو دور کرنے کو لیکر تحریک شروع کی ہے۔

بھوپال جمیعت علما کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ بڑا دکھ ہوتا ہے جب نوابین  کے مقبرہ خستہ حال دکھائی دیتے ہیں ۔حالانکہ اس شہر میں متولی کمیٹی اوقاف عامہ، وقف بورڈ، شاہی اوقاف کے ادارے موجود ہیں ۔آپ خود یکھ رہے ہیں کہ مقبرے کی باہری دیوار تو موجود ہے مگر جالی ٹوٹی ہوئی ہیں اور مقبرے کے اندر بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں ۔ ہم نے آج پھر اس کی تزئین کاری کام شروع کیا ہے ۔ متعلقہ اداروں کے ذمہ داران سے اپیل ہے کہ یہاں پر سیکورٹی کا انتظام کرنے کے ساتھ اس کی تزئین کاری کی جائے ۔ ہم سے جہاں تک ہوسکتا ہے وہ ہم لوگ کریں گے ۔

وہیں متولی کمیٹی کے سکریٹری حسیب اللہ خان کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی اطلاع ملی ہے ۔ ہمارے پاس جو لمیٹیڈ وسائل ہیں، اس کے ذریعہ جہاں فلاحی کام جاری ہے۔ وہیں نوابین کے مقبرے کی بھی تزئین کاری بھی کی جائے گی ۔ وہیں مقامی لوگوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ روکیں اور انہیں سمجھائیں کہ مقبرے کرکٹ کھیلنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے ۔ جب ہم اس کی قدر کریں گے تو دوسرے لوگ بھی مقبروں کی قدر کریں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 22, 2021 11:22 PM IST