ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : نئی نسل کی ذہن سازی کے لئے شروع کی تحریک

شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے سکریٹری بدر واسطی کہتے ہیں کہ شعری اصناف پر طبع آزمائی کرنے والے تو ہمیں بہت دکھائی دے رہے ہیں ، مگر نثر اصناف کے لکھنے والے پوری ریاست میں اتنے بھی نہیں ہیں کہ ان کا انگلی پر شمار کیا جا سکے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : نئی نسل کی ذہن سازی کے لئے شروع کی تحریک
مدھیہ پردیش : نئی نسل کی ذہن سازی کے لئے شروع کی تحریک

ادب کے فروغ میں شعری اصناف کی  طرح نثری اصناف کو خاص مقام حاصل ہے ، مگر موجودہ وقت کی بات کی جائے تو شعری اصناف پر طبع آزمائی کرنے والوں کی ہمیں ایک بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے ۔ مگر نثری اصناف کی جانب نئی نسل کا رجحان کم سے کم تر ہوجا رہا ہے ۔ شہر غزل کلچرل سو سائٹی بھوپال نے نثری اصناف کی جانب نئی نسل کا رجحان پیدا کرنے کیلئے سلسلہ کہانی کا کے عنوان سے تحریک شروع کی ہے۔ تحریک کے تحت بھوپال میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا ، جس میں سینئر فنکاروں کے ساتھ نئی نسل کے فنکاروں کو مدعو کیا گیا ۔ تاکہ نثراصناف میں طبع آزمائی کرنے والے فنکار اپنے سینئر کی رہنمائی میں اپنے ادبی سفرکو طے کر سکیں ۔


شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے سکریٹری بدر واسطی کہتے ہیں کہ شعری اصناف پر طبع آزمائی کرنے والے تو ہمیں بہت دکھائی دے رہے ہیں ، مگر نثر اصناف کے لکھنے والے پوری ریاست میں اتنے بھی نہیں ہیں کہ ان کا انگلی پر شمار کیا جا سکے ۔ اس لئے ہم لوگوں نے طے کیا ہے کہ کسی نہ کسی نثری اصناف پر ہر پندرہ روز میں ایک بار پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا اور اس پروگرام میں سینئر فنکاراور نئی نسل کے فنکاروں کو ایک اسٹیج فراہم کیا جائے گا ۔ فن اور ٹیکنک کیا ہوتی ہے جب سینئر فن کار اسے پیش کریں گے تو نئی نسل کے فنکاروں کو اس سے سیکھنے کا موقعہ ملے گا اورجب نئی نسل کے فنکار اپنے سینئر کے سامنے اپنی تحریر پیش کرینگے تو ان کی اصلاح ہو سکے گی ۔ ہم لوگوں نے سلسلہ کہانی کا کے عنوان سے پہلی کوشش کی جو کامیاب رہی اور اب اس کا انعقاد نہ صرف بھوپال بلکہ ریاست کی سطح پر پابندی سے ہوگا ۔


وہیں سیہور سے تشریف لائے نئی نسل کے افسانہ نگار پنکج سبیر کہتے ہیں کہ شہر غزل کلچرل سو سائٹی کا یہ قدم وقت کی ضرورت ہے ۔ یہاں آنے سے قبل مجھے ڈر لگ رہا تھا ، لیکن یہاں آکر مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے تاکہ نئی نسل کی رہنمائی ہو سکے۔


ممتاز افسانہ نگار فرحت جہاں کہتی ہیں کہ کورونا قہر میں ویسے بھی نکلنا بند ہوگیا تھا ، مگر جب یہاں پر پروگرام میں شرکت کی تو اچھا لگا کہ نئی نسل میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں ، بس انہیں گائیڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا تو اس سے نئی نسل کے اچھے قلمکار سامنے آئیں گے۔

پروگرام کے اختتام پر بھوپال کے استاد شاعر ظفر صہابی نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔

 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 26, 2021 11:46 AM IST