ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : نئی نسل کے فنکاروں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں موجود ، اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے دانشوروں کا خطاب

مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام تلاش جوہر کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ تاکہ اردو نثر اورفکشن کے میدان میں طبع آزمائی کرنے والوں کو اسٹیج مہیا کیا جاسکے اور ماہرین کی موجودگی میں ان کی اصلاح کا کام کرکے انہیں ادب کے میدان میں آگے بڑھایا جا سکے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : نئی نسل کے فنکاروں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں موجود ، اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے دانشوروں کا خطاب
مدھیہ پردیش : نئی نسل کے فنکاروں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں موجود ، اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے دانشوروں کا خطاب

موجودہ وقت میں اردو زبان و ادب کی جب بھی بات کی جاتی ہے تونئی نسل کے رویہ کو لیکر مایوسی کی بات کی جاتی ہے ۔ بعض لوگ اردو ادب میں نئی نسل کے فنکاروں سے زیادہ پر امید نہیں ہے ، مگر کچھ ایسے بھی لوگ جو مانتے ہیں کہ نئی نسل ادب میں طبع آزمائی کر رہے اور اسے رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ اور اگر نئی نسل کی بہترانداز میں رہنمائی کی گئی تو نہ صرف اردو کا کارواں رواں دواں رہے گا بلکہ نئی نسل اپنے کاندھے پر ادب کا بارگراں اٹھانے میں کامیاب رہے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کی نئی نسل میں اردو زبان و ادب کو لیکر ذوق وشوق کم ہوا اور نئی نسل کے بیشتر فنکار شاعر بالخصوص غزل میں طبع آزمائی کو ہی اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں ۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام تلاش جوہر کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ تاکہ اردو نثر اورفکشن کے میدان میں طبع آزمائی کرنے والوں کو اسٹیج مہیا کیا جاسکے اور ماہرین کی موجودگی میں ان کی اصلاح کا کام کرکے انہیں ادب کے میدان میں آگے بڑھایا جا سکے ۔


مدھیہ پردیش میں کورونا قہر روز بڑھتا جا رہا ہے اور اکادمی کو امید نہیں تھی کہ کووڈ کے قہر میں نئی نسل کے اردو فنکار اتنی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں صرف بھوپال ہی نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں نئی نسل کے اردو فنکاروں نے شرکت کی اور اکادمی کے اقدام کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔


مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ تلاش جوہر پروگرام کا مقصد اردو کی نئی نسل کی ذہن سازی کرنا ہے ۔ شاعری میں کچھ طبع آزمائی تو ہورہی ہے ، مگر نثر نگاری اور فکشن کی جانب توجہ کم ہوتی جا رہی ہے ۔ ہمیں خوشی ہے کہ اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ تلاش جوہر پروگرام میں امید سے کہیں زیادہ نئی نسل کے فنکاروں نے شرکت کی ہے ۔ ان فنکاروں کو آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت موضوع دیا گیا تھا۔ جن پر انہیں مضمون نگاری کے ساتھ کہانی لکھنی تھی ۔ نئی نسل کے فنکاروں نے جس انداز میں اپنی تحریروں سے موجودگی درج کی ہے ، اس سے ہمیں بہت حوصلہ ملا ہے اور ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اردو کا حال اور مستقبل بہت روشن ہے۔


پروگرام کے مہمان خاص ڈاکٹر محمد نعمان خان نے نثر اور فکشن نگاری کے میدان میں نئی صلاحیتوں کی تلاش کو وقت کی ضرورت سے جہاں تعبیر کیا ۔ وہیں ممتاز ادیب پروفیسر خالد محمود نے اکادمی کے اقدام کی ستائش کرتے ہوئے تسلسل کے ساتھ ایسے پروگرام کے انعقاد پر زور دیا۔

ساگر سے تلاش جوہر پروگرام میں شرکت کے لئے آنے والے طالب علم ابوذر قریشی کہتے ہیں کہ گرچہ ان دنوں میں وہیل چیئر پر ہوں ، مگر جب میں نے سنا کہ نئی نسل کے فنکاروں کے لئے اردو اکادمی نے پروگرام کا انعقاد کیا ہے، تو دوستوں کے ساتھ پروگرام میں شرکت کے لئے آیا ہوں ۔ ایسے پروگرام کی ہی اردو کے کارواں کو آگے بڑھانے کے لئے ضرورت ہے ۔ اکادمی نے بھوپال میں پروگرام کا انعقاد کیاہے ، اکادمی کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ آئندہ ایسے پروگرام ریاست کے دوسرے حصوں میں بھی منعقد کئے جائیں تاکہ نئی نسل کو اردو میں اپنی قلم کے جوہر کو دکھانے کا موقع مل سکے ۔

سمیا محفوظ کہتی ہیں کہ میں ملازمت کے ساتھ اردو سے ایم اے کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں ۔ چھٹی کا دن تھا ، تو گھر والوں کے ساتھ پروگرام میں شامل ہوئی ۔ مجھے جو لکھنا تھا وہ تو میں نے لکھا لیکن یہاں پر ممتاز اردو ادیبوں سے اردو نثر اور فکشن نگاری کے لئے جو ٹیکنک سیکھنے کو ملی وہ میری زندگی کا حاصل ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 14, 2021 09:33 PM IST