உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بیگمس آف بھوپال تنظیم نے بھوپال کی تاریخی وراثت کو بچانے کے لئے شروع کی مہم

    بیگمس آف بھوپال تنظیم نے بھوپال کی تاریخی وراثت کو بچانے کے لئے شروع کی مہم

    بیگمس آف بھوپال تنظیم نے بھوپال کی تاریخی وراثت کو بچانے کے لئے شروع کی مہم

    بیگمس آف بھوپال کی اہم رکن رخشندہ زاہد کہتی ہیں کہ بھوپال کی شناخت یہاں کی تاریخی عمارتیں ہیں۔ ہمارے شہر میں جب کوئی آتا ہے تو ہم سے تاریخی عمارتوں کو دیکھنے کی فرمائش کرتا ہے مگر جب ہم تاریخی عمارتوں کی جانب کسی مہمان کو لیکر جاتے ہیں اور وہاں کے شکستہ در ودیوار کو دیکھتے ہیں تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے ہم نے ہریٹیج ڈرائیو شروع کی ہے تاکہ حکومت کو بھی بیدار کیاجائے اور نئی نسل کو بھی اپنے شہر کی قیمتی وراثت سے روبرو کرایا جائے۔

    • Share this:
    بھوپال کو نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ اس شہر کے امتیازات میں جہاں قدرت کا حسن شامل ہے وہیں یہاں کے نوابین کے ذریعہ تعمیر کی گئی تاریخی عمارتیں یہاں کا بیش قیمتی تاریخی سرمایہ ہیں۔ مگر یہ قیمتی سرمایہ حکومت کی عدم توجہی اور اپنوں کی بے حسی کے سبب  خستہ حالی کا شکار ہے۔ یوں تو ہمارے سماج میں مردوں کی بالا دستی قائم ہے مگر شہر کی تاریخی وراثت کو بچانے کے لئے یہاں کے مرد بیدار نہیں ہوئے تو شہر کی خواتین نے بیگمس آف بھوپال کے نام سے تنظیم قائم کر کے شہر کی تاریخی عمارتوں کی خستہ حالی کو دور کرنے کے لئے حکومت کو بیدار کرنے کے ساتھ نئی نسل کو تاریخی ورثے سے روبرو کرانے کی مہم شروع کی ہے۔

    ریاست بھوپال پر نو مرد اور چار بیگمات نے حکومت کی ہے۔ جہاں تک بھوپال کی تعمیر اور ترقی کا سوال ہے تو بھوپال میں تاریخی وراثت قائم کرنے سے لیکر اردو زبان و ادب اور تعلیم کے فروغ میں جو کارہائے نماں بیگمات بھوپال نے انجام دیئے ہیں وہ مرد نواب نہیں کر سکے۔ یہی نہیں موجودہ دنیا میں خواتین کو خود کفیل بنانے اور انہیں اختیارات دینے کی بات کی جاتی ہے مگر خواتین امپاورمنٹ کی جو نظیر بھوپال نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ یوں تو دنیا کے مختلف ممالک اور شہروں پر خواتین نے حکومت کی ہے مگر ریاست بھوپال دنیا کا واحد ایسا شہر ہے جہاں پر بیگمات بھوپال نے تسلسل کے ساتھ ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی ہے ۔ اور آج جب بھوپال میں تاریخی وراثت کو بچانے اور انہیں نئی نسل سے روبرو کرانے کی بات آئی تو یہاں بھی خواتین مردوں پر سبقت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

    بھوپال میں 145 سال قبل نواب شاہجہاں بیگم نے پروین منزل کے نا م سے ایک خاص بازار تیار کیا تھا۔ ریاستی عہد تک تو یہ بازار قائم رہا اور بعد کے عہد میں اس کا نام تبدیل ہوکر پری بازار ہو گیا تھا۔ موجودہ دور میں یہ بازار تو نہیں مگر اس کے شکستہ درودیوار ضرور اس کی عظمت رفتہ کا پتہ دیتی ہیں۔ بیگمس آف بھوپال تنظیم کی خواتین نے پری بازار سے اپنی مہم شروع کی ہے۔انہوں نے حکومت سے جہاں پری بازار کو خواتین کو لئے دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے وہیں انہوں نے اپنی مہم سے نئی نسل کو بھی جوڑنے کا شروع کیا ہے تاکہ نئی نسل اپنے شہری کی قیمتی وراثت سے واقف ہوسکے ۔
    کورونا قہر میں سوشل ڈسٹنسنگ کے ساتھ شروع کی گئی اس خصوصی مہم کو ہریٹج  ڈرائیو کا نام دیاگیا ہے۔

    بیگمس آف بھوپال کی اہم رکن رخشندہ زاہد کہتی ہیں کہ بھوپال کی شناخت یہاں کی تاریخی عمارتیں ہیں۔ ہمارے شہر میں جب کوئی آتا ہے تو ہم سے تاریخی عمارتوں کو دیکھنے کی فرمائش کرتا ہے مگر جب ہم تاریخی عمارتوں کی جانب کسی مہمان کو لیکر جاتے ہیں اور وہاں کے شکستہ در ودیوار کو دیکھتے ہیں تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے ہم نے ہریٹیج ڈرائیو شروع کی ہے تاکہ حکومت کو بھی بیدار کیاجائے اور نئی نسل کو بھی اپنے شہر کی قیمتی وراثت سے روبرو کرایا جائے۔ ہم نے پری بازار سے اپنی مہم کا آغاز کیا ہے ۔ پری بازار کے ساتھ آج ہم نے بینظیر پیلس،تاج المساجد ،موتی مسجد شیتلا داس کی بگیا سے نئی نسل کو روبروکرایاہے ۔ ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی تاریخی عمارتوں کی خستہ حالی کو دور کرنے کے لئے  ایک خاص پروجیکٹ بنایا جائے تاکہ قیتمی وراثت کو بچایا جا سکے ۔ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہماری وراثت محفوظ نہیں ہو جاتی ہے۔

    بیمگس آف بھوپال مہم کی خواتین جیپ میں سوار ہوکر ہریٹج ڈرائیو پر نکلی تھیں۔ تنظیم کی رکن ریکھا شرما کہتی ہیں کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم نے پری بازار سے مہم کیوں شروع کی تو ہم لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہاں بیگمات نے آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے پری بازار میں ایسا بازار قائم کیا تھا جس میں مردوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ یہاں پر دکاندار اور خریدار دونوں عورتیں ہوا کرتی تھیں۔ ہم  چاہتے ہیں کہ حکومت اس قیمتی وراثت کو محفوظ کرے اور اس جگہ پر ویسے ہی بازار قائم ہو جیسے نوابی عہد میں بازار لگتا تھا۔ پری بازار قائم ہونے سے بھوپال کی خواتین کو ایک بازار ملے گا اور جو خواتین اپنے گھروں میں رہ کر کام کرتی ہیں انہیں اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ہم نے پری بازار کے ساتھ دوسری تاریخی عمارتوں کو آج قریب سے نہ صرف دیکھا بلکہ اس کی تاریخ کو بھی پڑھا ہے۔ ہمیں تو اس کی ترغیب نیوز ایٹین اردو کے خصوصی پروگرام وراثت کو دیکھنے سے ملی تھی۔ ہم چاہیں گے نیوز ایٹین اردو ہماری مہم کا حصہ بنے تاکہ بھوپال کی اس قیمتی وراثت کو محفوظ  کیا جا سکے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: