ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : بھوپال جھدا قبرستان میں جے سی بی سے قبر کھودنے کے ساتھ ٹریکٹر سے مٹی ڈالنے کا شروع ہوا کام

بھوپال جھدا قبرستان کو کورونا سے ہونے والی اموات کی تدفین کے لئے مخصوص کیاگیا ہے۔ قبرستان کمیٹی کے صدر ریحان گولڈن کہتے ہیں کہ میں نیوز 18 اردو کا شکر گزار ہوں کہ آپ کی خبر کے بعد محکمہ نگر نگم اور ضلع انتظامیہ بیدار ہواہے اور اس نے قبرستان میں ٹریکٹر،ڈمپر اور ٹرک سے مٹی ڈالنے کا کام شروع کیا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : بھوپال جھدا قبرستان میں جے سی بی سے قبر کھودنے کے ساتھ ٹریکٹر سے مٹی ڈالنے کا شروع ہوا کام
مدھیہ پردیش : بھوپال جھدا قبرستان میں جے سی بی سے قبر کھودنے کے ساتھ ٹریکٹر سے مٹی ڈالنے کا شروع ہوا کام

بھوپال : کورونا قہر میں زندگی کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہے ،سوچئے تو حیرت بھی ہوتی ہے اور مقام عبرت بھی ہے ۔ پہلے کسی کا انتقال ہونے پر لوگوں کا رنجیدہ ہونا اور نماز جنازہ میں شرکت کے لئے دوڑپڑنا ایک عام بات تھی مگر کورونا قہر میں حالات اتنے نہ گفتہ بہ بنے ہوئے ہیں کہ اپنے عزیزوں کی میت میں کندھا دینے کے لئے چند لوگوں کو ہی جانے کی اجازت ہوتی ہے ۔شہر میں کورونا کا قہر اوپر سے لاک ڈاؤن کا ستم جسے بیان کرنے سے اب تو قلم بھی قاصر ہے ۔حکومت کے اعداد وشمار میں تو ابتک پوری ریاست میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد ستر تک نہیں پہنچی ہے مگر شہر کے شمشان اور قبرستان میں کورونا پروٹوکال سے جوآخری رسوما ت ادا کی جا رہی ہیں ان کی تعداد حکومت کی بتائی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے ۔


کورونا سے ہونے والی اموات کی آخری رسومات ادا کرنے والے شمشان گھاٹ کے ملازمین کے ہاتھ شل پڑگئے ہیں تو بھوپال کے جھدا قبرستان کے گورکنوں کے ہاتھ چھالوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔نیوز ایٹین اردو کی خبر کے بعد محکمہ نگر نگم اور ضلع انتظامیہ بیدار ہوااور اس نے قبرستان میں ٹریکٹر اور ڈمپر سے مٹی ڈالنے کا کام شروع کردیا ہے ۔


بھوپال جھدا قبرستان کو کورونا سے ہونے والی اموات کی تدفین کے لئے مخصوص کیاگیا ہے۔ قبرستان کمیٹی کے صدر ریحان گولڈن کہتے ہیں کہ میں نیوز 18  اردو کا شکر گزار ہوں کہ آپ کی خبر کے بعد محکمہ نگر نگم اور ضلع انتظامیہ بیدار ہواہے اور اس نے قبرستان میں ٹریکٹر،ڈمپر اور ٹرک سے مٹی ڈالنے کا کام شروع کیا ہے ۔ قبرستان میں گورکنوں کے ہاتھ میں چھالے پڑگئے ہیں اور ان سے قبر کھودی نہیں جا رہی ہے ۔ ماہ رمضان میں وہ کیسے کام کرتے ہیں آپ حود اندازہ کر سکتےہیں ۔


یومیہ طور پر قبرستان میں پندرہ سے بیس میت کی تدفنین روز ہوتی ہے جس میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد ستر فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔اسی کے ساتھ ہم حکومت سے ایک اپیل اور کرینگے کہ حکومت نے گزشتہ سال کورونا سے ہونے والی اموات کی تدفین کے لئے پانچ ہزار روپیہ فی میت کا اعلان کیاتھا مگر آج تک نہیں ادا کیا گیا۔ قبرستان کمیٹی کے پاس علیحدہ سے کوئی فنڈ ہوتا نہیں ہے کہ ہم اتنی ساری میت کی تدفین کا انتظام کر سکیں ۔ وہ تو اللہ بھلا کرے کہ شہر کے مخیر حضرات کی محبت سے کام جاری ہے ۔

بھوپال نگر نگم کمشنر کے وی ایس چودھری کہتے ہیں کہ ہم جب قبرستان میں مٹی کی کمی کی خبر معلوم ہوئی تو وہاں پر مٹی ڈالنے کا کام شروع کیاگیا ہے ،قبرستان کمیٹی ہو یا شمشان گھاٹ کورونا قہر میں جو بھی مدد ہو سکتی ہے وہ مدد کی جائے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 19, 2021 08:02 PM IST