உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سجی تھی سہاگ رات کی سیج ، مگر ہوا کچھ ایسا کہ جیل میں گزارنی پڑگئی دولہا کو رات ، جانئے پورا معاملہ

    سجی تھی سہاگ رات کی سیج ، مگر ہوا کچھ ایسا کہ جیل میں گزارنی پڑگئی دولہا کو رات ، جانئے پورا معاملہ

    سجی تھی سہاگ رات کی سیج ، مگر ہوا کچھ ایسا کہ جیل میں گزارنی پڑگئی دولہا کو رات ، جانئے پورا معاملہ

    Madhya Pradesh News: نوجوان نے کئی سالوں تک لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر اس کی آبروریزی کی ۔ بعد میں نوجوان نے کہیں اور شادی کرلی ۔ اس بات سے پریشان لڑکی نے آبروریزی کا کیس درج کروا دیا ۔

    • Share this:
      ریوا : شہر کے وشو ودیالیہ تھانہ حلقہ میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے ، جو موضوع بحث بن گیا ہے ۔ یہاں پر ایک دولہا سہاگ رات کے دن لاک اپ میں پہنچ گیا اور پوری رات جیل کے فرش پر گزارنی پڑی ۔ بعد میں پولیس نے اس کو جیل بھیج دیا ۔ جانکاری کے مطابق شادی کی رات ہی دولہے کی معشوقہ نے تھانہ میں آبروریزی کا معاملہ درج کروایا اور شادی کے اگلے ہی دن صبح پولیس نے دولہے کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ۔

      جانکاری کے مطابق جس رات دولہا انشل پٹیل اپنی دلہن کے ساتھ سات پھیرے لے رہا تھا ، اسی دوران اس کی سابق معشوقہ نے اس کے خلاف شادی کا جھانسہ دے کر آبروریزی کا کیس درج کروادیا ۔ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اس کے اور انشل کے درمیان کئی سالوں سے تعلقات تھے اور وہ اندرا نگر میں اپنی رہائش گاہ پر بلاکر اس کی آبروریزی کرتا تھا ۔ بعد میں لڑکا کی شادی اس کے اہل خانہ نے کہیں اور طے کردی ، جس کے بعد لڑکا نے لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کردیا ۔ لڑکی نے اس کو سمجھانے کی کافی کوشش کی ، لیکن وہ نہیں مانا اور دوسری لڑکی سے اس نے شادی کرلی ۔

      شادی میں بھی پہنچی لڑکی

      پولیس سے ملی جانکاری کے مطابق ہفتہ کی رات لڑکا کی شارک ان شادی گھر میں شادی کی تھی ۔ اس کی جانکاری ملنے کے بعد لڑکی رات کو شادی رکوانے کیلئے وہاں پہنچ گئی اور کوشش بھی کی ، لیکن لڑکے نے اس کو وہاں سے بھگا دیا اور بعد میں شادی کرلی ۔ اس کے بعد صبح لڑکا اپنی دلہن کو لے کر گھر پہنچا ، لیکن اس کی خوشیاں زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکیں ۔

      لڑکی کے ذریعہ شکایت درج کروانے کے بعد پولیس فورا کارروائی کرتے ہوئے لڑکے کے گھر پہنچ گئی اور اس کو گرفتار کرلیا ۔ وہیں اب پولیس نے لڑکی کا بھی میڈیکل ٹیسٹ کروالیا ہے اور معاملہ کی جانچ کی جارہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: