ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : کورونا وائرس نے عاشقان کیف بھوپالی کی امیدوں پر پھیرا پانی، نہیں ہوسکا کوئی پروگرام

ممتاز شاعرہ اور کیف بھوپالی کی بیٹی ڈاکٹر پروین کیف کہتی ہیں کہ یوں تو والد صاحب کے انتقال کو تیس برس بیت گئے ہیں ، مگر ایسا لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے کہ وہ ہم سے جدا ہوئے ہیں ۔ انہوں نے تمام شاعری اور فلمی نغمہ نگاری دوسروں کے کہنے پر کی ، لیکن قران پاک کا منظوم ترجمہ اپنے دل کی آواز پر کیا تھا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : کورونا وائرس نے عاشقان کیف بھوپالی کی امیدوں پر پھیرا پانی، نہیں ہوسکا کوئی پروگرام
ممتاز شاعرہ اور کیف بھوپالی کی بیٹی ڈاکٹر پروین کیف کہتی ہیں کہ یوں تو والد صاحب کے انتقال کو تیس برس بیت گئے ہیں ، مگر ایسا لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے کہ وہ ہم سے جدا ہوئے ہیں

بھوپال : کیف بھوپالی کا شمار شاعر فطرت کے طور پر کیاجاتا ہے ۔ کیف بھوپالی نے اپنی شاعری، فلم نغمہ نگاری اورقران کریم کے منظوم ترجمہ مفہوم القران کے طور پر جو ادبی سرمایہ چھوڑا ہے ، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عاشقان کیف بھوپالی ان کی برسی کے موقع پر پروگرام کا انعقاد کرکے ان کی ادبی خدمات پر سمینار کا انعقاد کرنا چاہتے تھے ، مگر کورونا کی وبائی بیماری اور حکومت کی پابندیوں کے سبب انتظامیہ نے سمینار کے انعقاد اجازت نہیں دی ۔


خواجہ محمد ادریس المتخلص کیفؔ بھوپالی کی ولادت  بیس فروری 1917 کو بھوپال میں ہوئی اور انہوں نے چوبیس جولائی 1991 کو اپنی زندگی کا سفرشہر غزل بھوپال میں تمام کیا۔ کیفؔ بھوپال کا سلسلہ نسب سلطان الہند حضرت  خواجہ اجمیری کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمانی ہارونی سے ملتا ہے ۔ کیف بھوپالی کو شاعری کا فن وراثت میں ملا تھا ۔ ان کی والدہ  صالحہ خانم عاجزؔ بھی منفرد لب ولہجہ کی شاعرہ تھیں ۔ کیف بھوپالی کی شاعری اور فکر و فن پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور اب بھی بہت سے اداروں میں تحقیق کا کام جاری ہے ۔


کیف کے شعری محموعوں میں کوئے بتاں،شعلہ حرف،حناحنا،چاند کے پار،گل سے لپٹی ہوئی تتلی،،آج ان کا خط آیا،شہر تو ویرانہ پڑا ہے کے نام قابل ذکر ہیں۔ حسین ڈے اور حکومت نامہ کے نام سے کتابچہ بھی شائع ہوئے تھے۔ کیف کی تمام شاعری پران کے ذریعہ کیا گیا  قران کریم کا  منظوم ترجمہ مفہوم القران بھاری ہے ۔ مفہوم القران کو بھوپال، الہ آباد، بنارس، حیدر آباد سے شائع کیا گیا تھا ۔ ابھی کیف بھوپالی نے مفہوم القران کے نام سے قران کریم کے سولہ سپاروں کا ہی ترجمہ کیا تھا کہ موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ مفہوم القران کی مکمل اشاعت دبئی سے سلیم جعفری نے کی تھی ۔


ممتاز شاعرہ اور کیف بھوپالی کی بیٹی ڈاکٹر پروین کیف کہتی ہیں کہ یوں تو والد صاحب کے انتقال کو تیس برس بیت گئے ہیں ، مگر ایسا لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے کہ وہ ہم سے جدا ہوئے ہیں ۔ انہوں نے تمام شاعری اور فلمی نغمہ نگاری دوسروں کے کہنے پر کی ، لیکن قران پاک کا منظوم ترجمہ اپنے دل کی آواز پر کیا تھا۔ مفہوم القران کی سادہ اور سلیس اور زبان اپنے قاری کو خود اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور یہ اللہ کا ان پر خاص فیضان تھا جو انہوں نے کیا ۔ہم تو مفہوم القران کو ان کی شاعری کا شاہکار تسلیم کرتے ہیں ۔

بھوپال کے صحافی فرحان خان کہتے ہیں کہ کیف بھوپالی کی شاعری دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی تھی ۔ انہوں نے فلم دائرہ میں جو بھجن لکھا تھا۔۔۔ دیوتا تم ہو میرا سہارا، میں نے تھاما ہے دامن تمہارا۔۔۔۔ آج  بھی ہندو بھائیوں کے گھر گھر میں بجایا جاتا ہے ۔ کیف بھوپالی نے اس وقت چاند کے پار جانے کو لیکر اپنا گیت لکھا تھا جب انسان چاند پر نہیں گیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا چلو دلدار چلو ۔۔۔چاند کے پار چلو ۔۔

انہوں نے کہا کہ ہم لوگ تو چاہتے تھے کہ ان کی برسی پر سمینار کا انعقاد ہولیکن کوونا کی وبا اور حکومت کی پابندی کے سبب ممکن نہیں ہو سکا ۔ جب بھی حالات سازگار ہوں گے شاعر فطرت کے ادبی شہ پاروں پرہم لوگ  پروگرام کاانعقاد  کریں گے ۔ تاکہ نئی نسل انکی ادبی خدمات سے استفادہ کر سکے ۔ کیف بھوپالی کی شاعری زندگی کا نغمہ ہے اور اس کے مطالعہ سے زندگی جینے کا نیا حوصلہ ملتا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 24, 2021 08:12 PM IST