உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : سہ لسانی فارمولہ کے تحت اردو کی تعلیم یقینی بنانے کو لیکر احکام جاری، طلبہ میں خوشی کی لہر

    مدھیہ پردیش : سہ لسانی فارمولہ کے تحت اردو کی تعلیم یقینی بنانے کو لیکر احکام جاری، طلبہ میں خوشی کی لہر

    مدھیہ پردیش : سہ لسانی فارمولہ کے تحت اردو کی تعلیم یقینی بنانے کو لیکر احکام جاری، طلبہ میں خوشی کی لہر

    مدھیہ پردیش میں سہ لسانی فارمولہ کے تحت طلبہ کو سنسکرت اور ہندی کے ساتھ اردو میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کا ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے اسکولوں کو سخت احکام جاری کیا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش میں سہ لسانی فارمولہ کے تحت طلبہ کو سنسکرت اور ہندی کے ساتھ اردو میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کا ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے اسکولوں کو سخت احکام جاری کیا ہے ۔ سہ لسانی فارمولہ کے تحت طلبہ کو سنسکرت، ہندی کے ساتھ اردو مضمون کو پڑھنے کا احکام حکومت کے ذریعہ پہلے بھی جاری کیا گیا تھا ، مگر طلبہ جب ریاست کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لیتے تو ان سے یہ کہہ کر اردو تعلیم سے دور کردیا جاتا تھا کہ اردو کے اساتذہ اسکول میں موجود نہیں ہیں اور پھر اردو کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو دوسرے مضمون کو اختیار کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ۔ اسی طرح سنسکرت کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی مشکلات کا سامنا تھا ۔ اردو اور سنسکرت کی تعلیم سے محروم طلبہ کے بھوپال کی کئی سماجی تنظیموں نے تحریک چلائی ، جس کے نتیجہ میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے بھوپال نوین اسکول کو سخت حکم جاری کیا ہے۔

    محبان بھارت تنظیم کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ سہ لسانی فارمولہ کے تحت حکومت نے ہمارے ایک مطالبہ کو پورا کیا ہے اور اس کے لئے اردو اور سنسکرت طلبہ کی جانب سے ہم ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ لیکن ہمارا مطالبہ یہیں پر ختم نہیں ہو جاتا ہے ۔ بلکہ اب ہماری تحریک آگے اور بھی شدت سے جاری رہے گی ۔ تاکہ اردو اور سنسکرت کے اساتذہ کا تقرری اسکولوں میں یقینی بنایا جائے اور جب طلبہ اردو اور سنسکرت کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جائیں ، تو انہیں یہ سننے کو نہ ملے کی اس زبان کے اساتذہ نہیں ہیں ، اس لئے آپ دوسرے مضامین میں تعلیم حاصل کریں ۔ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ انسان کی نشوو نما جتنی مادری زبان میں ہوتی ہے ، اتنی کسی اور زبان میں نہیں ہوتی ہے ۔

    وہیں مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے رکن حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کااحکام سیاست پر مبنی ہے ۔ اگر ڈائریکٹوریٹ کی نیت صاف ہے تو اسے مدھیہ پردیش کے سبھی سرکاری اسکولوں میں اس احکام کے نفاذ کے لئے ان زبانوں کے اساتذہ کی تقرری کا فرمان جاری کرنا چاہئے۔ ابھی نیوز 18 اردو نے ہی خبر دکھائی تھی کہ مدھیہ پردیش محکمہ اعلی تعلیم نے ساڑھے چار سو اساتذہ کی تقرری کا سرکولر جاری کیا ہے ، جس میں سبھی مضمون کو شامل کیاگیا ہے مگر اس میں اردو اساتذہ کی تقرری کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ ہم اردو کے ساتھ سنسکرت اساتذہ کی تقرری کا بھی مطالبہ کرتے ہیں اور اس کے لئے ہماری تحریک جاری رہے گی ۔ مدھیہ پردیش کے سرکاری اسکولوں میں کم از کم دس ہزار اردو اساتذہ کی ضرورت ہے اور اس کا سروے جمعیت علما کے ذریعہ پیش کیا جاچکا ہے ۔

    ماہی سوشل اینڈایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر شاہ ویز سکندر کہتے ہیں کہ سہ لسانی فارمولہ کے تحت حکومت کا جو فرمان ہے اس کا خیرمقدم ہے ۔ خْیر مقدم اس لئے ہے کہ صرف نوین اسکول ہی نہیں دوسرے اسکولوں میں ہم گئے ہیں اور ہم نے والدین اور طلبج کو دیکھا ہے جو اردو کی تعلیم تو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ کہہ کر اردو کی تعلیم سے دور کیا گیا کہ اسکول میں اردو اساتذہ نہیں ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اپنے احکام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اردو اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنائے گی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: