ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

دنیا سے رخصت ہوگئے ممتاز ادیب پدم شری منظور احتشام، ہارگئے کورونا سے جنگ

کورونا قہر میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ہے جب ادب کے کسی بڑے فنکار کے گزرنے کی خبر نہ آتی ہو۔ ایک کے جانے کا غم ہلکا بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسرے فنکار کی رحلت کی خبر آجاتی ہے

  • Share this:
دنیا سے رخصت ہوگئے ممتاز ادیب پدم شری منظور احتشام، ہارگئے کورونا سے جنگ
۔ممتاز ادیب پدم شری منظور احتشام بھی آج ہمیں داغ مفارقت دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔

کورونا قہر میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ہے جب ادب کے کسی بڑے فنکار کے گزرنے کی خبر نہ آتی ہو۔ ایک کے جانے کا غم ہلکا بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسرے فنکار کی رحلت کی خبر آجاتی ہے ۔ممتاز ادیب پدم شری منظور احتشام بھی آج ہمیں داغ مفارقت دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ منظور احتشام کی ولادت اکیس جون انیس سو اڑتالیس کو بھوپال میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے بھوپال سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلی تعلیم کی منزلیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طے کی تھی۔ یوں تو بھوپال کو شہر غزل کہا جاتا ہے لیکن منظور احتشام غزل کی زلف گرہ گیر کے اسیر نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ناول نگاری اور ڈرامہ کے میدان اپنے فن کے جوہر دکھائے۔


ان کے اہم ناولوں میں کچھ دن اور،سوکھا برگد،داستان لاپتہ،بشارت منزل،پہر ڈھلتے، تسبیح، رمضان میں ایک موت، ایک تھا بادشاہ اور تماشہ و دیگر کے کہانیوں کے عنوان سے ان کی کہانیوں کا مجموعہ ہوچکا تھا۔ منظور احتشام کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم شری کے باوقار اعزاز سے بھی حکومت ہند نے سرفراز کیاتھا۔منظور احتشام کے ناول سوکھا برگد اور داستان لاپتہ کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا تھا۔


منظور احتشام کئی دنوں سے علیل تھے اور آج وہ ہمیں داغ مفارقت دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ تیس دسمبر دوہزار بیس کو انکی اہلیہ کا بھی کورونا کی وبائی بیماری سے انتقال ہوگیا تھا۔ ممتاز شاعر منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں کس کس کے غم کا ماتم کریں ،ایک کا غم ہلکا بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسرازخم تازہ ہوجاتا ہے ۔ منظور احتشام جیسے ادیب روز روز پیدا نہیں ہوتےہیں ۔ ان کا سانحہ ارتحال ادب کا نا قابل تلافی نقصان ہے ۔ وہ ہمارے بیچ ضرور نہیں ہیں مگر ان کی تحریریں ہمیشہ ہمیں انکی یاد دلاتی رہیں گی۔

Published by: Sana Naeem
First published: Apr 26, 2021 04:40 PM IST