உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممتاز شاعروادیب ڈاکٹر شاہد میرکا انتقال ، بھوپال کے بڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک، ادبی دنیا میں غم کی لہر

     ممتاز شاعر ڈاکٹر شاہد میر کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے ادیبوں نے اردو شاعری کیلئے ایک نا قابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے۔

    ممتاز شاعر ڈاکٹر شاہد میر کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے ادیبوں نے اردو شاعری کیلئے ایک نا قابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے۔

    ممتاز شاعر ڈاکٹر شاہد میر کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے ادیبوں نے اردو شاعری کیلئے ایک نا قابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      بھوپال : ممتاز شاعر ڈاکٹر شاہد میر کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے ادیبوں نے اردو شاعری کیلئے ایک نا قابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد میرؔایک ممتاز شاعرکے ساتھ بہترین نثرنگار اور فن موسیقی کے بھی ماہر تھے۔ شاہد میر کی ولادت 10 فروری 1944 کو مدھیہ پردیش کے تاریخی قصبہ سرونج میں ہوئی تھی۔ حالانکہ سرکاری ریکارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش 8 فروری 1947 درج ہے۔ شاہد میر نے سرونج کے ایک ادبی اور علمی گھرانے میں ہوئی تھی۔
      شاہد میر نے ابتدائی تعلیم سرونج سے اور اعلی تعلیم بھوپال کے سیفیہ ڈگری کالج سے حاصل کی اور پھر پروفیسرشریف احمد چغتائی کی نگرانی میں میڈیسنل پلانٹ ان ڈسٹرکٹ بانسواڑہ کے عنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ شاہد میر سائنس کے طالب علم ضرورتھے ،لیکن شاعری سے ان کا لگاؤ فطری تھا۔ شاہد میر ؔکو شاعری کا فن وراثت میں ملا تھا، جس میں انہوں نے اپنے منفرد اسلوب سے اضافہ کا کام کیا ۔
      شاہد میر سائنس کے طالب علم تھے، اس کے باوجود انہوں نےغزل کی بحروں کے ساتھ اس کے ترنم کو بھی سامنے رکھ کر جوغزلیں کہیں، وہ بہت اہم ہیں۔ ان کا شعری اور ادبی سفر نصف دہائی پرمحیط تھا ۔شاہد میر سرونج میں ضرور پیدا ہوئے لیکن بھوپال ان کا وطن ثانی تھا۔ انہوں نے بانسواڑہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد بھوپال میں ہی سکونت اختیار کر لی تھی۔ ان کے سانحہ ارتحال کو اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے نا قابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے۔
      ڈاکٹر شاہد میر کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شعرا و ادبا نے شرکت کی اور انہیں بھوپال کے بڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ شاہد میر کی اہم کتابوں میں ’ موسم زرد گلابوں کا‘ ’ سازینہ ‘ ’ ریگ رواں ‘ ’ اے سمندر اتر مجھ میں ‘ ’ رنگ رنگ نظموں کا ‘ ’ ہندستانی موسیقی‘ اور ’غزل گائیکی‘ کے ساتھ ’ دوہے راجستھان کے‘ نام قابل ذکر ہیں۔
      First published: