உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : ہجومی تشدد کے خلاف اولڈ ودھان سبھا بھوپال میں دیا گیا دھرنا

    مدھیہ پردیش : ہجومی تشدد کے خلاف اولڈ ودھان سبھا بھوپال میں دیا گیا دھرنا

    مدھیہ پردیش : ہجومی تشدد کے خلاف اولڈ ودھان سبھا بھوپال میں دیا گیا دھرنا

    بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں جس تیزی سے ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ حکومت کی پس پردہ انہیں سرپرستی حاصل ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش میں بڑھتے ہجومی تشدد اور حکومت کی سرد مہری کے خلاف مدھیہ پردیش میں جگہ جگہ پر احتجاج جاری ہے ۔ راجدھانی بھوپال میں بھی ہجومی تشدد کے خلاف اولڈ ودھان سبھا کیمپس میں گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے دھرنا دیکر حکومت سے شر پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دھرنے میں دیواس ہاٹ پپلیا کے زاہد منصوری اور مہیدپور اجین کے عبد الرشید نے بھی شرکت کی جو گزشتہ دنوں ہجومی تشدد کا شکار ہوئے تھے ۔

    بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں جس تیزی سے ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ حکومت کی پس پردہ انہیں سرپرستی حاصل ہے ۔ حکومت میں شامل وزرا کے جو بیان ہیں ، اس سے شرپسند عناصر کو لگام لگنے کے بجائے انہیں حوصلہ ملتا ہے ۔ ہماری وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے مانگ ہے کہ آپ ریاست میں قانون کا راج ہونے کی بات کر رہے ہیں تو جرم کرنے والے سبھی لوگوں پر یکساں کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نیمچ میں آدیواسی کو گاڑی میں باندھ کر تشدد کرنے والوں کے گھر تو آپ نے زمین دوز کر دیئے ہیں ، لیکن اجین ، اندور، دیواس اور ریوا میں جن لوگوں نے ہجومی تشدد کو انجام دیا ہے ، اس پر حکومت اور پولیس دونوں خاموش ہیں ۔ کیونکہ یہاں پر ہجومی تشدد اقلیتی طبقہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ہماری مانگ ہے کہ حکومت ہجومی تشدد کے سبھی معاملوں کی سی بی آئی جانچ کرائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کانگریس ہر جگہ سیاست کرنے کا کام کر رہی ہے ۔ جو لوگ ہجومی تشدد کے نام پر کمل ناتھ سے لیکر دگ وجے سنگھ تک بڑے بڑے ٹوئیٹ کر رہے ہیں وہ دتیا میں ایک کانگریس لیڈر کے ذریعہ مسلم کو گولی مارنے اور اس کی موت پر خاموش کیوں ہیں ۔ سرکار اپنا کام کر رہی ہے اور جو لوگ بھی جرم کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ۔

    اجین مہیدپور کے عبد الرشید جنہیں ہجومی تشدد کا شکار بنایا گیا اور ان سے زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے گئے تھے ، وہ بھوپال دھرنے میں شامل ہوئے ۔ عبدالرشید  کہتے ہیں کہ ملک میں اتنی نفرت بڑھ جائے گی ، اس کا اندازہ نہیں تھا ۔ ہم بیس سال سے کباڑے کا کام کررہے ہیں اور سبھی جگہ پر ہندو بھائیوں نے ہمارے کام کو پسند کیا لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب یہ کہا گیا کہ مسلمان ہندو بستی میں کاروبار نہیں کریں گے ۔ ہمیں مارا گیا اور زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے گئے ۔ ہم نے تھانہ میں شکایت کی تو پولیس نے معاملہ درج تو کیا لیکن بہت معمولی دفعات کے تحت ۔ ہم حکومت سے چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو ملک کی فضا خراب کر رہے ہیں ، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔

    وہیں دیواس ٹپا سکولیا میں ماب لنچنگ کا شکار ہوئے زاہد منصوری کہتے ہیں کہ بسکٹ اور توس کا کاروبار برسوں سے کررہاہوں ۔ ہندو مسلمان سبھی لوگ ان سے سامان لیتے ہیں ، مگر یہ پہلا موقعہ ہے جب ہم سے آدھار مانگا گیا اور ہماری ڈنڈوں اور بیلٹ سے پیٹائی کی گئی ۔ ہم تو بس حکومت سے یہی چاہتے ہیں کہ جو لوگ امن و سکون کی فضا کو خراب کر رہے ہیں ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

    مدھیہ پردیش میں بائیس اگست سے ابتک اندور، اجین ، دیواس ، نیمچ ، ریوا ، دتیا وغیرہ میں جس طرح سے ہجومی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں اور اسے لے کر حکومت اور اپوزیشن کے بیچ جس طرح سے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے اور ووٹ بینک کو سادھنے کی کوشش ہو رہی ہے ، اسے دیکھتے ہوئے تو نہیں لگتا ہے کہ مدھیہ پردیش میں ہجومی تشدد کرنے والوں پر کوئی سخت کارروائی ہوگی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: