ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: مذہبی آزادی بل کا آرڈیننس ہوا پاس

آرڈیننس پاس ہونے کے بعد گورنر کو بھیجا جائے گا اور گورنر کی دستخط کے بعد مدھیہ پردیش میں لوجہاد کو روکنے کے لئے مذہبی آزادی قانو ن کا نفاذ ہو جائے گا۔

  • Share this:

مدھیہ پردیش میں لو جہاد کو روکنے کے لئے شیوراج سنگھ حکومت نے کابینہ میں مذہبی آزادی قانون کے آرڈیننس کو منظور دیدی ہے۔ آرڈیننس پاس ہونے کے بعد گورنر کو بھیجا جائے گا اور گورنر کی دستخط کے بعد مدھیہ پردیش میں لوجہاد کو روکنے کے لئے مذہبی آزادی قانو ن کا نفاذ ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں لو جہاد کے خلاف شیوراج سنگھ حکومت نے اپنے سخت موقف کا اعلان اسی وقت کردیا تھا جب اترپردیش حکومت نے لو جہاد کے خلاف قانون بنانے کا اعلان کیا تھا۔ مدھیہ پردیش میں لو جہاد کو روکنے کے لئے مذہبی آزادی بل کو لیکر کئی بار کے منتھن کے بعد قانون وضع کیا گیا اور چھبیس دسمبر کو شیوراج کابینہ نے اس پر مہر لگادی تھی ۔ حکومت کے ذریعہ مذہبی آزاد بل اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جانا تھا مگر کورونا قہر کے سبب جب اسمبلی کے سہ روزہ اجلاس کو ملتوی کیاگیا تو شیوراج سنگھ حکومت نے مذہبی آزادی بل کو لیکر آرڈیننس لانے کا اعلان کیا۔ آج منترالیہ میں منعقدہ خصوصی میٹنگ میں اتفاق رائے سے لو جہاد کو روکنے کے لئے مذہبی آزادی قانون کے آرڈیننس کو منظوری دیدی گئی ہے۔

قانون کی رو سے سازش کے تحت تبدیلی مذہب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہوگی۔لو جہاد انجام دینے والوں کو آرڈیننس میں دس سال کی سزا اور ایک لاکھ روپیہ تک کا جرمانہ عائد کرنے کا جہاں فیصلہ کیاگیا ہے۔ وہیں لو جہاد کو فروغ دینے والی تنظیم،نکاح خواں اور پادری کو بھی ذمہ دار پائے جانے پر پانچ سال کی سزا اور پچاس ہزار روپیہ تک کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ کابینہ میٹنگ میں سپلیمنٹری بجٹ کوبھی منظوری دی گئی ہے۔وہیں سماجی تنظیمیں آرڈیننس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا من بنا رہی ہیں۔


مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ اس قانون کو ایک خاص مذہب کے خلاف کانگریس اور دوسری پارٹیوں کے ذریعہ بتا یا جا رہا ہے جبکہ یہ سچ نہیں ہے ۔ قانون ان لوگوں کے خلاف لایا گیا ہے جو سازش کے تحت تبدیلی مذہب کا کام کر رہے ہیں ۔ اس سے غلط کام کرنے والوں پر روک لگے گی۔سخت قانون میں لو جہاد انجام دینے والوں کے خلاف دس سال کی سزا اور ایک لاکھ تک کا جرمانہ عائد کرنے کا انتظام کیا گیا ہے وہیں وہ تنظیمیں جو لوجہاد کو فروغ دیں گی یا دے رہی ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کا سخت قانون بنایا گیا ہے۔ وہیں کانگریس آرڈیننس پر محتاط رد عمل کا اظہار کر رہی ہے ۔ کانگریس ترجمان بھوپیندر گپتا کا کہنا ہے کہ اس قانون کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ انیس سو اڑسٹھ میں ہی سازش کے تحت تبدیلی مذہب روکنے کا قانون بنایا جا چکا ہے ۔ یہ سرکار اپنی ناکامی کو چھپانےکے لئے سماج کو بانٹنے کا کام کر رہی ہے ۔

وہیں مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کا کہنا ہے کہ ایسے کسی قانون کو قبول نہیں کیا جاسکتا ہے جس سے سماج میں منافرت پیدا ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ اگر مسلم لڑکی کسی ہندو سے شادی کرتی ہے تو تنظیمیں اس کا گھرواپسی کے نام پر سواگت کرتی ہے اور مسلم لوگوں کی شکایت درج نہیں کی جاتی ہے اور جب کوئی ہندو لڑکے کسی مسلم سے شادی کر لیتی ہے تو اسے تبدیلی مذہب کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتارہا تو لوگ اپنی بیٹوں کو باہر بھیج کر پڑھانا بند کردیں گے۔ حکومت مذہبی آزادی قانون کے نام پر لو جہاد کو جوڑ کر ایک سماج کو بدنا م کر رہی ہے ۔ جبکہ لو الگ چیز ہے اور جہاد الگ چیز کانام سے دونوں کو ایک دوسرے جوڑانہیں جا سکتا ہے ۔ برائی کا خاتمہ کرنے اور نیکی قائم کرنے کے لئے جہاد ہوتا ہے جیسے بھگوان رام نے بدی کا خاتمہ کرنے کے لے راون کے ساتھ جہاد کیاتھا۔ حکومت آرڈیننس لاکر جبر کا راستہ اختیار کر رہی ہے ۔

وہیں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی نے حکومت کے آرڈیننس کے خلاف صدر جمہوریہ ہندسے ملاقات کرنے اور عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی مدھیہ پردیش کے سکریٹری شیلندر شیلی کہتے ہیں کہ حکومت نے آرڈیننس پاس کر کے آئین کی توہین کی ہے ۔ آئین کی حفاظت کے لئے بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی عدالت سے رجوع کرے گی۔ واضح رہے کہ آج کی کابینہ میٹنگ میں مذہبی بل پر آرڈیننس پاس کرنے کے ساتھ سپلیمنٹری بجٹ کو بھی منظوری دی گئی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 29, 2020 05:50 PM IST