உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بوائے فرینڈ کو سیلفی بھیج کر لکھا : مجھے بچا سکو تو بچا لواور پھر کیا ایسا کام ، سبھی کے اڑگئے ہوش

    بوائے فرینڈ کو سیلفی بھیج کر لکھا : مجھے بچا سکو تو بچا لواور پھر کیا ایسا کام ، سبھی کے اڑگئے ہوش

    بوائے فرینڈ کو سیلفی بھیج کر لکھا : مجھے بچا سکو تو بچا لواور پھر کیا ایسا کام ، سبھی کے اڑگئے ہوش

    Rewa: اس معاملہ میں اہم کڑی لڑکی کا بوائے فرینڈ ہے ، اس لئے پولیس نے اس سے تفصیل سے پوچھ گچھ کی اور اس کی بنیاد پر پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے خودکشی کی ہے ۔

    • Share this:
      ریوا : ریوا میں مارننگ واک پر نکلی لڑکی کی نہر میں لاش ملی ہے ۔ موت سے عین قبل لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کو سیلفی بھیجی تھی ۔ اس میں کیپشن لکھا تھا  بچانا چاہتے ہو تو بچا لو اور پھر اس کے بعد اس کی لاش ملی ۔ اب یہ معاملہ قتل کا ہے یا خودکشی کا ، یا پھر حادثہ ، پولیس کو یہ خودکشی کا معاملہ لگ رہا ہے ، لیکن اہل خانہ کو قتل کا اندیشہ ہے ۔

      ریوا کے بچھیا تھانہ علاقہ میں آج اس وقت افراتفری مچ گئی جب نہر میں تیرتی ایک لڑکی کی لاش ملی ۔ سٹی کوتوالی تھانہ علاقہ میں رہنے والی لڑکی کل سے لاپتہ تھی ۔ گھر سے وہ مارننگ واک کیلئے نکلی تھی ، لیکن لوٹ کر نہیں آئی ۔ اہل خانہ نے اس کی کافی تلاش کی ۔ جب کہیں نہیں ملی تو کو پولیس کو اس کی خبر دی ۔

      یہ واقعہ ایک جوان لڑکی کے لاپتہ ہونے کا تھا ، اس لئے پولیس نے فورا اس کی تلاش شروع کردی ۔ سبھی جگہ تلاش کرنے کے بعد پولیس کو پتہ چلا کہ لڑکی کا کوئی بوائے فرینڈ ہے ۔ موبائل ریکارڈ سے یہ بھی جانکاری ملی کہ موت سے عین قبل لڑکی نے بوائے فرینڈ کے موبائل پر ایک سیلفی بھیجی تھی ۔ اس میں کیپشن لکھا تھا میں نہر کے کنارے کھڑی ہوں ، بچانا چاہتے تو بچا لو اور پھر اس کے بعد لڑکی کی لاش ملی ۔

      پولیس کی ٹیم نے ایس ڈی آر ایف ٹیم کی مدد سے نہر میں ریسکیو آپریشن شروع کیا ۔ تقریبا 24 گھنٹے کی سخت جدوجہد کے بعد بدھ کو لڑکی کی لاش نکالی جاسکی ۔ اہل خانہ اپنی بیٹی کے قتل کا اندیشہ ظاہر کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بیٹی مارننگ واک کیلئے گھر سے نکلی تھی ، لیکن لوٹ کر گھر نہیں آئی ، اس کا قتل کیا گیا ہے ۔

      اس معاملہ میں اہم کڑی لڑکی کا بوائے فرینڈ ہے ، اس لئے پولیس نے اس سے تفصیل سے پوچھ گچھ کی اور اس کی بنیاد پر پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے خودکشی کی ہے ۔ اب خودکشی کی وجہ کیا ہے ، اس کا پتہ لگایا جارہا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: