உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News: بھوپال کی تاریخی جامع مسجد پر سنسکرتی بچاؤ منچ نے کیا شیومندر ہونے کا دعوی

    Bhopal News: بھوپال کی تاریخی جامع مسجد پر سنسکرتی بچاؤ منچ نے کیا شیومندر ہونے کا دعوی

    Bhopal News: بھوپال کی تاریخی جامع مسجد پر سنسکرتی بچاؤ منچ نے کیا شیومندر ہونے کا دعوی

    Madhya Pradesh : ہندو تنظیموں کے ذریعہ پہلے اجین شپرا ندی کنارے واقع بنا نیو کی مسجد کو شیومندر ہونے کا دعوی کرکے اس کا سروے کرانے کا مطالبہ شروع کیا گیا تو اب راجدھانی بھوپال کی تاریخی جامع مسجد کو شیو مندر بتا کر گیان واپی مسجد کی طرز پر اس کا سروے کرانے کی مانگ شروع کردی گئی ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : بنارس گیان واپی مسجد میں سروے کا کام کیا شروع ہوا مدھیہ پردیش میں ہندو تنظیموں کے ذریعہ کئی مساجد میں سروے کرنے کی تحریک شروع کردی ہے ۔ ہندو تنظیموں کے ذریعہ پہلے اجین شپرا ندی کنارے واقع بنا نیو کی مسجد کو شیومندر ہونے کا دعوی کرکے اس کا سروے کرانے کا مطالبہ شروع کیا گیا تو اب راجدھانی بھوپال کی تاریخی جامع مسجد کو شیو مندر بتا کر گیان واپی مسجد کی طرز پر اس کا سروے کرانے کی مانگ شروع کردی گئی ہے۔ سنسکرتی بچاؤ منچ کے ذریعہ اس معاملے میں نہ صرف عدالت سےرجوع کیا گیا ہے ، بلکہ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کو بھی میمورنڈم پیش کرکے تاریخی جامع مسجد کا سروے کرانے اور مسجد کو شیو مندر بتا کر اسے ہندو سماج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

    سنسکرتی بچاؤ منچ کے صدر چندرشیکھر تیواری کہتے ہیں کہ بھوپال کی جامع مسجد جسے نواب قدسیہ بیگم کے ذریعہ اٹھارہ سو بتیس سے اٹھارہ سو ستاون کے بیچ بنایا گیاتھا ، یہ قدیم شیومندر تھا اور خود حیات قدسی میں اس تعلق سے لکھا ہے کہ یہاں پر سبھا منڈل تھا، ہم نے اپنے دعوی کو لیکر ہمارے وکیل سداما یادو کے ذریعہ عدالت میں عرضی لگائی ہے اور اس کا سروے کرانے کا مطالبہ کیا ہے عدالت سے ۔ اسی کے ساتھ ہم نے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ کو بھی اپنے دعوؤں کو لیکر ایک میمورنڈم پیش کیا ہے۔ جب بنانے والی نواب خود اپنی سوانح حیات میں لکھ رہیں کہ یہاں پر قدیم سبھا منڈل تھا تو پھر دیکھنے کے لئے کچھ رہ ہی نہیں جاتا ہے اور جامع مسجد کو ہندو سماج کے حوالے کر کر مسلم سماج کو اپنی وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: درگاہ کے پاس ہنومان جی کی مورتی لگانے پر ہنگامہ، شرپسندوں نے کیا پتھراؤ، دفعہ 144 نافذ



    وہیں بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود سنسکرتی بچاؤ منچ کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں ۔ یہ بے بنیاد سوال ہے ۔ مسجد شاہی اوقاف کے زیر انتظام ہے اور اس کے سکریٹری اس وقت عمرہ پر گئے ہوئے ہیں ۔ جیسے ہی وہ آئیں گے اس کے دستاویز سبھی کو مہیا کرا دئے جائیں گے۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون سنسکرت بچاؤ منچ کے مطالبہ کو سازش کے بڑے حصہ سے تعبیر کررہے ہیں ۔ حاجی محمد ہارون کا کہنا ہے کہ مسجد کبھی بھی کسی قبضہ کی جگہ پر تعمیر نہیں کی جاتی ہے اور اس مسجد کی تعمیر نواب قدسیہ بیگم کے ذریعہ جین سماج کے لوگوں سے زمین لیکر کی تھی اور جین سماج کے لوگوں کو اس کے بدلے زمین دی گئی تھی ۔ میری مرکزی اور صوبائی حکومت دونوں سے مانگ ہے کہ آپ سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرتے ہیں تو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو ملک کے ماحول کو مذہبی بنیاد پر خراب کرنا چاہتے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: یوپی کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس میں قومی ترانہ کا گان لازمی کرنے پرسیاسی پارہ گرم


    ممتاز مورخ رضوان انصاری کا کہنا ہے کہ سنسکرتی بچاؤ منچ کے لوگ حیات قدسی کی بات تو کر رہے ہیں لیکن اس مندر کا دستاویز نہیں پر پڑھ رہے ہیں جس جین مندر کو اس مسجد کی جگہ کے بدلے ان کے مطالبہ پر زمین دی گئی تھی۔ بھوپال جھرنیا میں جو جین مندر قائم ہے وہ اس مسجد کی زمین کے بدلے دی گئی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہاں پر تیرہویں صدی میں ایک سبھا منڈل تعمیر کیا گیا تھا جس میں درس و تدریس کا کام کیا جاتا تھا، لیکن تیرہویں صدی کی بہت سی جنگوں میں یہ جگہ تباہ ہوئی اور اٹھارہویں صدی کی ابتدا تک یہاں پر سوائے کھنڈر کے کچھ نہیں تھا ۔ جب نواب قدسیہ بیگم نے مسجد تعمیر کرنے کا خیال کیا تو انہوں نے زمین کے تعلق سے معلوم کروایا۔ جین سماج کے لوگوں نے اس پر اپنا دعوی کیا اور ان کے مطالبہ پر انہیں زمین کے ساتھ رقم بھی دی گئی ۔ سبھی دستاویز موجود ہیں ۔ انہیں دیکھ کر معاملہ آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے ۔

    واضح رہے کہ بھوپال کی جامع شاہی اوقاف کی زیر نگرانی ہے ۔ شاہی اوقاف کی ٹرسٹی نواب پٹودی کی بڑی صاحبزادی صبا سلطان ہیں جو ممبئی میں رہتی ہیں اور ان کے سکریٹری اعظم ترمذی جو شاہی اوقاف کا کام دیکھتے ہیں، ان دنوں عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ مکرمہ گئے ہوئے ہیں ۔اعظم ترمذی کے آنے کے بعد ہی پتہ چل پائے گا کی شاہی اوقاف اس معاملے میں کیا قدم اٹھاتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: