ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : بھوپال میں مسجد اور مزار توڑنے کی خبر سے پھیلی سنسنی ، جانئے کیا ہے سچ؟

بھوپال رائل مارکیٹ نرمدا سوئیٹ کے پیچھے غیر قانونی تعمیرات کو لے کر انتظامیہ کے ذریعہ انہدامی کارروائی کی جارہی تھی ۔ تبھی سوشل میڈیا پر انہدامی کارروائی میں مسجد اور مزارات کو بھی توڑنے کی خبر پھیلا دی گئی ۔ نگر نگم افسران اور سرکل کے تحصیلدار بھی موقع پر پہنچے اور سبھی سے گفتگو کی ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : بھوپال میں مسجد اور مزار توڑنے کی خبر سے پھیلی سنسنی ، جانئے کیا ہے سچ؟
مدھیہ پردیش : بھوپال میں مسجد اور مزار توڑنے کی خبر سے پھیلی سنسنی ، جانئے کیا ہے سچ؟

بھوپال : راجدھانی بھوپال میں سوشل میڈیا پر مسجد اور مزار کو توڑنے کی خبر سے سنسنی پھیل گئی ۔ خبر اتنی تیزی سے گشت کی کہ انتظامیہ اور شہر کے ذمہ داران کے ہوش اڑ گئے۔ انتظامیہ کے افسران کے ساتھ مقامی ایم ایل اے عارف مسعود نے خبر سننے کے بعد فوری طور پر موقع پر جاکر حالات کا جب جائزہ لیا تو سوشل میڈیا کی ساری خبر جھوٹی نکلی ۔ انہدامی کارروائی میں مزارات سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی تھی ۔ مزارات پوری طرح محفوظ ہیں اور جہاں تک مسجد کا سوال ہے وہاں پر کبھی مسجد کے ثبوت بھی نہیں ملے ۔


واضح رہے کہ بھوپال رائل مارکیٹ نرمدا سوئیٹ کے پیچھے غیر قانونی تعمیرات  کو لے کر انتظامیہ کے ذریعہ انہدامی کارروائی کی جارہی تھی ۔ تبھی سوشل میڈیا پر انہدامی کارروائی میں مسجد اور مزارات کو بھی توڑنے کی خبر پھیلا دی گئی ۔ نگر نگم افسران اور سرکل کے تحصیلدار بھی موقع پر پہنچے اور سبھی سے گفتگو کی ۔


بھوپال وسط کے ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ میں تو باہر تھا اور جب مجھے یہ بتایا گیا کہ بھوپال میں انتظامیہ کے دریعہ کی جانے والی انہدامی کارروائی میں مسجد اور مزارات کو توڑ دیا گیا تو یہ خبر چونکانے والی تھی اور حیرت بھی ہوئی کہ انتظامیہ کے ذریعہ اتنا بڑا قدم اٹھایا گیا اور کسی نے کوئی خبر بھی نہیں دی ۔ بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی بھی لکھنؤ میں ہیں ، ان کے ذریعہ بھی مجھے فون کیا گیا اور تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ تاہم جب میں نے یہاں آکر افسران کے ساتھ موقع کا جائزہ لیا ، تو مزارات پوری طرح محفوظ ہیں ۔ انہدامی کارروائی میں مزارات کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے ۔


انہوں نے کہا کہ جہاں تک مجھے بتایا گیا کہ یہاں پر جو مقامی لوگ پینتس چالیس سے رہ رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اس مقام پر کبھی کوئی مسجد تھی ہی نہیں ۔ ابھی رمضان میں اور اس سے قبل بامبے اسٹور والے کے لوگ یہاں ایک کمرے میں جس میں سامان رکھا رہتا ہے ، وہاں پر ظہر اور عصر کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔ یہاں پر نہ مسجد تھی اور نہ ہی مسجد کی کوئی شبیہ تھی ۔ سوشل میڈیاپر جو خبر چلائی گئی ہے اس سے کنفیوزن پیدا کیا گیا ہے ۔ جب مقامی لوگ خود اس کی تصدیق کر رہے ہیں ، تو ہمیں یقین کرنا چاہئے ۔ لوگوں سے بھی اپیل کروں گا کہ سوشل میڈیا کی گمراہ کن خبر پر توجہ نہ دیں اور جو مزارات ہیں ، ان کو لے کر آج پھر کلکٹر سے ایک بار ہھر بات کروں گا کہ انہیں نہ چھیڑا جائے ۔ دوسری بات برسات کے موسم میں جن لوگوں کو غیر قانونی تعمیرات کے نام پر انہدامی کارروائی کی جا رہی ہے انہیں ان کا متبادل انتظام کیا جانا چاہئے۔

ایک مقامی شخص عابد علی کہتے ہیں کہ تقریبا پچاس سالوں سے یہاں پر اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہوں ۔ نگرنگم میں پراپرٹی ٹیکس بھی جمع کرتاہوں ، مگر نگر نگم کے لوگوں نے بغیر کسی نوٹس کے ان کے مکان کو توڑدیا ہے اور کوئی متبادل انتظام بھی نہیں کیا گیا ہے ۔ ایسے میں برسات کے موسم میں ہم لوگ کہاں جائیں ۔

وہیں نگر نگم کے انکروچمنٹ افسر قمر ثاقب کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن خبر پھیلا کر شہر کے ماحول کو خراب کیا گیا ہے ۔ جبکہ یہاں پر آکر کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ سبھی مزارات محفوظ ہیں اور اتنظامیہ کے ذریعہ ان مزارارت کو اور محفوظ کیا جائے گا ۔

وہیں ایس ڈی ایم جمیل احمد کہتے ہیں کہ جن لوگوں کے ذریعہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن خبر پھیلا کر شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ان کی تفتیش جاری ہے اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 28, 2021 09:28 PM IST