ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں مسلم تنظیموں کی خدمت بنی قابل رشک، ہر طرف ہورہی تعریف

مولانا برکت اللہ بھوپالی سوشل ویلفیئر آگنائزیشن کی بھوپال یونٹ کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ کورونا قہر اور گرمی کی شدت میں روزہ رکھتے ہوئے خدمت کا کام اللہ ہم سے لے رہا ہے ۔ ہمارے پاس جہاں سے بھی فون آتا ہے تو ہم لوگ اس کی خدمت کے لئے نکل پڑتے ہیں ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں مسلم تنظیموں کی خدمت بنی قابل رشک، ہر طرف ہورہی تعریف
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں مسلم تنظیموں کی خدمت بنی قابل رشک، ہر طرف ہورہی تعریف

بھوپال : مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے قہر کے بیچ جہاں عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ، وہیں سماجی تنظیموں کی خدمت سے عوامی زندگی کو ایک نئی روشنی مل رہی ہے ۔ حکومت کی کوششوں سے الگ ہٹ کر سماجی تنظیموں کے ذریعہ کی جانے والی خدمت سماج کے لئے قابل رشک بن گئی ہے ۔ مدھیہ پردیش میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد جہاں بانوے ہزار کو تجاوز کرگئی ہے ، وہیں یومیہ طور پر تیرہ ہزار سے زیادہ کورونا کے مریض سامنے آتے ہیں ۔


راجدھانی بھوپال میں بھی یومیہ طور پر کورونا کے اٹھارہ سو سے زیادہ نئے مریضوں کے سامنے آنے سے اسپتالوں میں طبی خدمات متاثر ہوگئی ہیں ۔ ایمس، جے پی اور حمیدیہ اسپتال نے جہاں نئے مریضوں کا داخلہ دینے سے منع کردیا ہے وہیں بھوپال میموریل اسپتال میں بیڈ ہونے کے باوجود نئے مریضوں کو داخلہ اس لئے نہیں دیا جا رہا ہے کہ اسپتال انتظامیہ آکسیجن کی قلت سے باہر نہیں نکل پا رہی ہے ۔ ویسے میں مولانا برکت اللہ بھوپالی سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کے کارکنان نے ضرورتمندوں کو مفت آکسیجن ، دوا اور کھانا پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔


مولانا برکت اللہ بھوپالی سوشل ویلفیئر آگنائزیشن کی بھوپال یونٹ کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ کورونا قہر اور گرمی کی شدت میں روزہ رکھتے ہوئے خدمت کا کام اللہ ہم سے لے رہا ہے ۔ ہمارے پاس جہاں سے بھی فون آتا ہے تو ہم لوگ اس کی خدمت کے لئے نکل پڑتے ہیں ۔ شہر میں کورونا کرفیو کا نفاذ ہونے کے سبب جگہ جگہ پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے ، ایسے میں بڑی گاڑیوں کے نکلنے میں دشواری ہوتی ہے ، تو ہم لوگ بائک پر ہی ضرورتمندوں کو آکسیجن پہنچانے کا کام کرتے ہیں ۔


وہیں سوسائٹی کے رکن فرحان خان کہتے ہیں کہ ماہ رمضان غم خواری کا مہینہ ہے ۔ ہم روزہ بھی رکھتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے ہیں ۔ آکسیجن پہنچانے کا کام میرے ذمہ ہوتا ہے ۔ کئی بار مدد کرنے کے بدلے میں پولیس کی لاٹھیاں بھی ملتی ہیں ۔ بس ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ضرورتمندوں کی مدد ہو جائے اور ہماری مدد سے اگر کسی کی جان بچ جاتی ہے تواس سے بڑھ کر کوئی اور خوشی نہیں ہو سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اللہ سے دعا ہے کہ اپنے گنہگار بندوں کو معاف کردے اور اپنی رحمت کی بارش سے اس کورونا کا خاتمہ فرما دے اور وہی خوشگوار ماحول لوٹادے جیسے پہلے ہوا کرتا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 27, 2021 07:58 PM IST