உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Shocking: جبلپور میں تین سال کا بچہ کھیلتے وقت نگل گیا سکہ ، ہوگئی ایسی حالت

    Shocking: جبلپور میں تین سال کا بچہ کھیلتے وقت نگل گیا سکہ ، ہوگئی ایسی حالت ۔ علامتی تصویر ۔

    Shocking: جبلپور میں تین سال کا بچہ کھیلتے وقت نگل گیا سکہ ، ہوگئی ایسی حالت ۔ علامتی تصویر ۔

    Jabalpur News: جبل پور کے برگی علاقہ میں ایک تین سالہ بچہ نے کھیلتے ہوئے سکہ نگل لیا ۔ سکہ اس کے گلے میں پھنس گیا۔ جب تک گھر والے اس کو لے کر اسپتال پہنچے، تب تک اس کی موت ہو چکی تھی ۔

    • Share this:
      جبلپور : یہ خبر والدین کو ہوشیار کرنے والی ہے۔ اپنے بچوں کو کھیلنے کے لئے کبھی بھی سکے وغیرہ نہ دیں۔ یہ اس کی جان بھی لے سکتا ہے۔ جبل پور کے برگی علاقہ میں ایک تین سالہ بچہ نے کھیلتے ہوئے سکہ نگل لیا ۔ سکہ اس کے گلے میں پھنس گیا۔ جب تک گھر والے اس کو لے کر اسپتال پہنچے، تب تک اس کی موت ہو چکی تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : ڈائریکٹر کے ساتھ رشتہ، پھر ہوئی حاملہ، اداکارہ مندنا کریمی کا درد سن کر رو پڑی کنگنا رناوت


      یہ دل دہلا دینے والا واقعہ باربٹی گرام پنچایت میں پیش آیا ہے۔ گاؤں کے پردیپ یادو نے بتایا کہ گاؤں کا لکھو ، قبائلی بچے کو لے کر گھر سے بریلا کے لئے نکلا تھا۔ راستے میں بچہ نے سکہ نگل لیا۔ تھوڑی دیر بعد اس کو قے آنے لگی اور پھر کچھ دیر بعد وہ بے ہوش ہونے لگا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : ماں بننے والی ہے یہ مشہور اداکارہ، شوہر کے ساتھ رومانٹک تصاویر شیئر کرکے دی خوشخبری، دیکھئے PICS


      والد نے مقامی ڈاکٹروں کو دکھایا ، لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ وہ اس کو واپس برگی لے گیا۔ وہاں کے مقامی ڈاکٹروں کو دکھایا ، لیکن تب تک معصوم کی موت ہو چکی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سکہ پھنس جانے کی وجہ سے بچے کی سانس لینے والی ٹیوب بند ہو گئی تھی ۔ بچہ کی موت دم گھٹنے سے ہوگئی ۔

      جبل پور میڈیکل کالج کے ای این ٹی شعبہ کی سربراہ ڈاکٹر کویتا سچدیوا کے مطابق اگر گھر والے بچہ کو فوری طور پر ای این ٹی شعبہ لے آتے ، تو اس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ ایسے میں بچوں کے والدین کو گھبرانا نہیں چاہئے، ورنہ بچہ بھی گھبرا جاتا ہے۔ صبر کے ساتھ اس کو جلدی سے ماہر ڈاکٹر سے ملنا چاہئے۔ ڈاکٹر سکے یا اس جیسی کوئی سخت چیز الٹی کرواکر نکال دیتے ہیں ۔ آنت میں پھنس جانے کی صورت میں ہی سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: