ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : سپریم کورٹ کے نوٹس نے بڑھائی شیوراج حکومت کی مشکلیں ، جانئے کیا ہے معاملہ

مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کر کے بی جے پی نے شیوراج سنگھ کی قیادت میں حکومت ضرور قائم کرلی ہے ، لیکن شیوراج سنگھ کے لئے حکومت کی راہ آسان نہیں ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : سپریم کورٹ کے نوٹس  نے بڑھائی شیوراج حکومت کی مشکلیں ، جانئے کیا ہے معاملہ
مدھیہ پردیش : سپریم کورٹ کے نوٹس نے بڑھائی شیوراج حکومت کی مشکلیں ، جانئے کیا ہے معاملہ

مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کر کے بی جے پی نے شیوراج سنگھ کی قیادت میں حکومت ضرور قائم کرلی ہے ، لیکن شیوراج سنگھ کے لئے حکومت کی راہ آسان نہیں ہے ۔ وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لینے کے بعد سی ایم اکیلے مہینے بھر کے قریب بغیر وزیروں کے حکومت چلاتے رہے ۔ ایک مہینے کے بعد کابینہ کی توسیع بھی ہوئی ، تو اس میں صرف پانچ وزیروں کو شامل کیا گیا ۔ بہتر دنوں کے بعد شیوراج سنگھ نے کابینہ کی دوسری توسیع کی اور اس میں  اٹھائیس وزیر شامل کئے گئے ۔ شیوراج کابینہ کے تینتس وزیروں میں سے چودہ کا تعلق سندھیا خیمہ سے ہے ۔


شیوراج کابینہ کے وزیروں کی تعداد کو لیکر ہی سیاست شروع ہوگئی تھی اور کانگریس نے اس معاملہ کو لیکر سپریم کورٹ میں رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ کانگریس کا جواز تھا کہ موجودہ میں مدھیہ پردیش میں ممبران اسمبلی کی تعداد دوسو چھ ہے جبکہ شیوراج کابینہ میں جو وزیر شامل کئے گئے ہیں وہ اسمبلی کے  دوسو تیس ممبران کی بنیاد پر کئے گئے ہیں جو کہ غلط ہے اور شیوراج حکومت نے تعداد سے زیادہ کابینہ میں وزیروں کو شامل کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی دوسو تیس سیٹوں پر مشتمل ہے ۔ موجودہ میں اسمبلی کی چھبیس سیٹیں خالی ہیں ۔ اس میں چوبیس سیٹیں وہ ہیں جو کانگریس کے ممبران اسمبلی نے کانگریس سے استعفی دیکر بی جے پی کا دامن تھامنے کے بعد خالی ہوئی تھیں اور دو سیٹیں وہ ہیں جن کے ممبران اسمبلی کا انتقال ہونے کے سبب خالی ہوئی ہیں۔ جس وقت کابینہ کی توسیع ہوئی تھی اس وقت اسمبلی کے ممبران کی تعداد دو سو چھ تھی ، اس لحاظ سے کابینہ اراکین  کی تعداد انتیس وزیروں پر ہی مشتمل ہونی چاہئے ۔


مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان ۔ فائل فوٹو ۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان ۔ فائل فوٹو ۔


کابینہ میں وزیروں کی زیادہ تعداد کے معاملہ کو لے کرکانگریس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔ عدالت عظمی نے کانگریس کی عرضی کو تسلیم کرتے ہوئے زیادہ وزیروں کے معاملہ میں شیوراج حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے قدم کو کانگریس اپنے لئے ایک کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ ایم پی کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے راحت کی خبر ہے کہ سپریم کورٹ نے ہماری درخواست پر سماعت کی اور شیوراج حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ شیوراج حکومت کو اپنے چار وزیروں کو کابینہ سے کم کرنا ہوگا ۔ چار وزیروں کے کم کرنے کو لیکر ہی اب حکومت میں نیا فساد شروع ہوگا ۔ سب کو معلوم ہے کہ اپنوں اور باغیوں کے بیچ کوآرڈینیشن بیٹھانے میں ہی بی جے پی کو اتنی دیر ہوئی تھی  ۔ جب سے سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے حکومت کی پیشانی پر بل دکھائی دینے لگے ہیں ۔

وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ عدالت کے نوٹس کا جواب عدالت میں دیا جائے گا ۔ قانون کو توڑنا یہ کانگریس کا کام ہے ۔ بی جے پی آئین کو بچانے والی پارٹی ہے اور ہمیشہ وہی کام کرتی ہے ، جس سے قانون کی بالا دستی قائم رہے ۔ کانگریس ہماری فکر چھوڑے پہلے اپنے ڈوبتے جہاز کو دیکھے جہاں کوئی رکنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔

ایم پی کانگریس کے ترجمان بھوپندر گپتا کہتے ہیں کہ جب عدالت نے سرکار کو تعداد سے زیادہ وزیر بنانے کے معاملہ میں نوٹس جاری کردیا ہے ۔ ایسے میں سرکار کے وزیروں کی آئینی حیثیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں اور ان وزیروں کے فیصلے پر بھی تب تک روک لگائی جانی چاہئے ، جب تک یہ معاملہ عدالت میں حل نہیں ہو جاتا ہے ۔ شیوراج جی نے اقتدار کی چاہت میں سرکار تو بنالی مگر اب ان سے بے میل کنبہ سنبھال نہیں رہا ہے ۔ روزانہ وزیروں سے ون ٹو ون بات کرتے ہیں لیکن پرفارمنس سامنے نہیں آرہی ہے ۔ کورونا کا قہر بڑھتا جا رہا ہے ۔ نہ تو مرکزی حکومت کے پاس کوئی پلاننگ ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت کے پاس ۔ عوام بنیادی ضروریات کیلئے پریشان ہو رہے ہیں اور سرکار کے لوگ اقتدار کے نشے میں چور ہیں ۔ اسمبلی کا ضمنی انتخٓاب جب بھی ہوگا بی جے پی کو اپنی کرنی کا حساب دینا ہوگا ۔

وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر بی ڈی شرما کہتے ہیں کہ شیوراج سرکار مسلسل وکاس کے کام کررہی ہے ۔سرکار کے عوامی فلاح کے کام کو جب کمل ناتھ کی سینا دیکھتی ہے تو وہ اپنا سینہ پیٹتی ہے ۔ ان کے سینہ کوبی کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ اگر اب بھی کانگریس نے اپنے کو نہیں سنبھالا تو بہت جلد اس کا وجود بھی ختم ہو جائے گا ۔کانگریس کواس کے کارنامے ہی ختم کریں گے اس کے لئے ہمیں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

تعداد سے زیادہ وزیروں کو کابینہ میں جگہ دینے کے معاملے میں سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد سیاسی طور پر بھلے ہی کچھ کہا جائے لیکن اندر خانہ بی جے پی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے موقف کے خلاف جاتا ہے ، تو وہ چار وزیر کون ہوں گے جو کابینہ سے باہر ہوں گے ۔ کیا شیوراج حکومت سندھیا خیمہ کے وزیروں کی تعداد کم کرپائے گی یا اپنے وزیروں کی تعداد کم کر کے حکومت چلانے کا کام کریگی ؟شیوراج کابینہ کے تینتس وزیروں میں سندھیا خیمہ کے وزیروں کی تعداد چودہ اور بی جے پی کے وزیروں کی تعداد انیس ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 23, 2020 05:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading