உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MP News: بلقیس بانو معاملہ کے مجرموں کی رہائی قانون کی خلاف ورزی، بھوپال میں سماجی تنظیموں کا دھرنا

    MP News: بلقیس بانو معاملہ کے مجرموں کی رہائی قانون کی خلاف ورزی، بھوپال میں سماجی تنظیموں کا دھرنا

    MP News: بلقیس بانو معاملہ کے مجرموں کی رہائی قانون کی خلاف ورزی، بھوپال میں سماجی تنظیموں کا دھرنا

    Bhopal News: جشن آزادی کے موقع پر حکومت کے ذریعہ بلقیس بانو معاملے کے مجرموں کی رہائی اور پھر کچھ تنظیموں کے ذریعہ کی گئی ان کی گلپوشی اور میٹھائی کھلائے جانے پر مدھیہ پردیش کی سماجی تنظیموں نے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Bhopal
    • Share this:
    بھوپال : جشن آزادی کے موقع پر حکومت کے ذریعہ بلقیس بانو معاملے کے مجرموں کی رہائی اور پھر کچھ تنظیموں کے ذریعہ کی گئی ان کی گلپوشی اور میٹھائی کھلائے جانے پر مدھیہ پردیش کی سماجی تنظیموں نے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عورت کی عصمت دری کے معاملے میں جن کا جرم عدالت کے ذریعہ ثابت ہوا ہے، ان کی حکومت کے ذریعہ رہائی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ہندوستانی تہذیب کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ بھوپال گاندھی بھوپال میں منعقدہ سماجی تنظیموں کے دھرنے میں حکومت سے بلقیس بانو معاملہ کے گنہگاروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔

    بھوپال گاندھی بھون میں بلقیس بانو کے معاملہ کو لیکر سماجی تنظیم راشٹریہ سیکولر منچ، جن وادی لیکھک سنگھ، ایم پی جمعیت علما اور بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ دھرنے میں بڑی تعداد میں سماجی تنظیموں کے ساتھ دانشوروں نے شرکت کی ۔ مشہور ہندی ادیب رام پرکاش ترپاٹھی نے نیوز18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ اگست کو جن گیارہ مجرموں کو جو قتل و عصمت دری کے گنہگار ہیں، انہیں نہ صرف رہا کیا گیا ہے بلکہ  اس سے بڑا جرم یہ کیا گیا ہے کہ ان کی گلپوشی کی گئی اور انہیں میٹھائیاں کھلائی گئی ہیں اور کچھ ممبران اسمبلی نے ان کی تعریف کے قصیدے پڑھے ہیں ۔ تو یہ آئین کی توہین ہے، ہندستانی تہذیب کی توہین ہے اور خواتین کی توہین ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ صبح کی تقریر میں وزیر اعظم خواتین کی عصمت اور آبرو کی یقین دہانی کروا رہے ہیں  اور دوسری جانب خواتین کے ساتھ جو مظالم ہوئے ہیں، ان کے گنہگار کو رہا کیا جا رہا ہے ۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس نے پورے ملک کے حساس لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ یہ معاملہ صرف بلقیس بانو یا کسی سیاسی جماعت یا مذہب کا نہیں ہے، بلکہ یہ پورے آئین اور ہندوستانی کلچر کے اوپر بھی حملہ ہے۔ تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور مستقبل میں ایسا نہ ہو، اس پر غور و فکر کرنے کے لئے کھلے ذہن کے لوگوں کو بلایا ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: براہموس مس فائر معاملہ میں بڑی کارروائی، IAF کے 3 افسر برخاست،پاکستان میں جاگری تھی میزائل


    ممتاز سماجی کارکن سروج بادل کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں قانون کا راج کی روایت رہی ہے ۔ جرم کرنے والے کو مجرم مانا جائے گا چاہے وہ راون جیسا گیانی ہی کیوں نہ ہو، لیکن حالیہ دنوں جو کچھ حکومت کے ذریعہ کیا گیا ہے وہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ  یہ بھی فکر کا پہلو ہے کہ خواتین کی عصمت دری کے معاملے میں جس میں عدالت نے سزا سنائی ہے، انہیں با عزت بری کیا جانا اور ان کا اعزاز و استقبال کیا جانا ایک نئے خطرے کی علامت ہے اور اس سے وقت رہتے بچنا اور ملک کو بچانا بہت ضروری ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بی جے پی سے معطل MLA ٹی راجا کو ملی ضمانت، پیغمبر اسلام کے خلاف کیا تھا تبصرہ


    سی پی آئی بھوپال کے جنرل سکریٹری شیلندر شیلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جس عورت کی اجتماعی عصمت دری کی گئی جس کے گنہگاروں کو عدالت نے سزا دی ، انہیں نہ صرف سرکار کے ذریعہ معاف کیا جانا بلکہ رہائی کے بعد اس کا جشن منانا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے ۔ حکومت کے ذریعہ نہ صرف قانون کو بالائے طاق رکھ کر من مانی کی جارہی ہے، بلکہ قانون کو روندنے کا کام کیا جا رہا ہے ۔ بلقیس بانو کے دکھ میں ہم سب شامل ہیں۔ پورے ملک میں وہ لوگ جو انسانیت کے علمدار ہیں وہ بلقیس بانو کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ حکومت کا قدم سبھی ہندوستانیوں پر ایک سوالیہ نشان ہے اور ہم سب لوگ یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں تاکہ اس کے خلاف ملک گیر سطح پر تحریک چلائی جا سکے اور بلقیس بانو کو انصاف ملے اور گنہگاروں کو سزا ۔

    پروگرام میں اتراکھنڈ و اترپردیش کے سابق گورنر عزیز قریشی، ایم پی جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون، بینظیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر ایم ڈبلیو انصاری، لجا شنکر ہردنیا و دوسرے لوگوں نے بھی خیالات کا اظہار کیا اور بلقیس بانو کے انصاف کے لئے متحد ہوکر تحریک چلانے کا مشورہ دیا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: