ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : مساجد سے سوشل ریفارم کی تیاری ، بھوپال کی مساجد نالج سینٹر میں ہوں گی تبدیل

بھوپال مساجد کمیٹی کے ذمہ دار یاسرعرفات کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی کی زیر انتظام مساجد سے سماج میں تعلیمی اور سماجی بیداری لانے کا ایک خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ مساجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد وہاں آنے والے طلبہ کی ذہن سازی کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : مساجد سے سوشل ریفارم کی تیاری ، بھوپال کی مساجد نالج سینٹر میں ہوں گی تبدیل
مدھیہ پردیش : مساجد سے سوشل ریفارم کی تیاری ، بھوپال کی مساجد نالج سینٹر میں ہوں گی تبدیل

مساجدکا ذکر آتے ہی لوگوں کے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں مسلم سماج کے لوگ نماز ادا کرتے ہیں ، مگر مساجد میں صرف نماز ادا کرنے کا کام نہیں ہوگا بلکہ مساجد سے علم کی ترسیل اور امت مسلمہ کو زیورعلم سے آراستہ کرنے کا بھی کام ہوگا ۔ مساجد میں جدید قسم کی لائبریری قائم کرنے کے ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے طلبہ کو مواد فراہم کرنے کا بھی کام کیا جائے گا۔


مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کا قیام ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ ہوئے انضمام ریاست کی رو سے عمل میں آیا تھا۔ مساجد کمیٹی کے ذریعہ راجدھانی بھوپال کے ساتھ رائسین اور سیہور کی مساجد کا انتظام و انصرام دیکھنے کے ساتھ ان کے آئمہ وموذنین کو ماہانہ نذرانہ بھی ادا کیا جاتا ہے ۔ مساجد کمیٹی کی زیر انتظام مساجد میں کچھ مساجد چھوٹی ہیں اور ان میں ایسا انتظام نہیں ہے کہ اس میں دوسرے کام کئے جاسکیں ، مگر زیادہ تر مساجد ایسی ہیں ، جو کئی منزلہ ہیں اور یہاں پر ان کے پاس اتنا بڑا انفرا اسٹرکچر ہے کہ وہاں پر لائبریری قائم کرنے ، طلبہ کی کلاس شروع کرنے اور دیگر سماجی کام بحسن وخوبی انجام دئے جاسکتے ہیں ۔


بھوپال مساجد کمیٹی کے ذمہ دار یاسرعرفات کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی کی زیر انتظام مساجد سے سماج میں تعلیمی اور سماجی بیداری لانے کا ایک خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ مساجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد وہاں آنے والے طلبہ کی ذہن سازی کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے۔ کوشش اس بات کی ہے کہ مساجد نالج سینٹر میں تبدیل ہوں اور اس سے بلا لحاظ قوم وملت سبھی لوگ استفادہ کر سکیں اور ہم مساجد سے اسی انداز میں سماج میں تعلیمی اور سماجی شعور کا کام کریں ، جس طرح سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوتا تھا۔


بھوپال راجدھانی ہے اور مساجد کمیٹی کا ہیڈ آفس بھی بھوپال میں ہی ہے، اس لئے اس تحریک کا آغاز بھوپال سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس میں ان تنظیموں سے بھی بات کی جا رہی ہے جو تعلیم اور سماجی بیداری کے میدان میں کام کر رہی ہیں۔

عالم دین اور مدھیہ پردیش بورڈ کے صدر مولانا سید انس علی کہتے ہیں کہ مساجد روحانیت کا بڑا مرکز تو ہیں ہی یہ سماج میں تعلیمی اور سماجی بیداری کا محور بنیں گی ، تو اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے ۔ اسلام تو یہ مذہب ہے جس میں عالم انسانیت کی خیر کی بات کی جاتی ہے ۔ ہم تو اسے دیر سے سہی درست فیصلہ قرار دیں گے اور صرف بھوپال ہی نہیں بلکہ ملک کی تمام مساجد کو نالج سینٹر میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 12, 2021 10:03 PM IST