உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh : بابا ئے قوم مہاتما گاندھی کو بھوپال تھا بہت عزیز

    Madhya Pradesh : بابا ئے قوم مہاتما گاندھی کو بھوپال تھا بہت عزیز

    Madhya Pradesh : بابا ئے قوم مہاتما گاندھی کو بھوپال تھا بہت عزیز

    Bhopal News : بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم شہادت کے موقع پر بھوپال میں تحریک آزادی اور گاندھی جی کی خدمات پر خصوصی فوٹو نمائش کا اہتمام کیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم شہادت کے موقع پر بھوپال میں تحریک آزادی اور گاندھی جی کی خدمات پر خصوصی فوٹو نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ بینظیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ نمائش میں نہ صرف تحریک آزادی ، گاندھی جی کے رفقا کی تصویر کو نمایاں کیا گیا بلکہ گاندھی جی سے بھوپال کے خصوصی لگاؤ اور بھوپال میں گاندھی جی کی آمد وقیام اورتحریکات کو بھی فوٹو کے ذریعہ نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔ فوٹو نمائش کے انعقاد کا مقصد نئی نسل کو گاندھی جی اور تحریک آزادی میں ان کے عظیم قربانی کے ساتھ بھوپال سے ان کے خاص رشتہ سے واقف کرایا جا سکے ۔

    بینظیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر ایم ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ سب سے پہلے بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ گاندھی جی نے ہم ہندوستانیوں کو آہنسا کا ایسا نسخہ کیمیا دیا ہے، جس پر چل کر نا مساعد حالات میں بھی بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ ہمارے نمائش لگانے کا مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کو بابائے قوم کی عظیم قربانیوں سے فوٹو کے ذریعہ واقف کرائیں اور دوسرے یہ کہ گاندھی جی کا آئیڈیا آف بھارت کیا تھا ، اس کے بارے میں نئی نسل کو بتایا جا سکے ۔ گاندھی جی نے ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا ، جس کی شبیہ آج مجروح ہو رہی ہے ۔ ہمیں اس کو بچانا ہے اور یہی وقت کی ضرورت ہے ۔

    دوسری بات یہ ہے کہ گاندھی جی بھوپال میں انیس انتیس میں اس وقت آئے جب راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں انگریزحکومت کے ذریعہ انڈین نینشل کانگریس کو نہیں بلایا گیا تھا بلکہ نواب بھوپال جو ایوان رؤسا کے صدر تھے انہیں بلایا گیا تھا۔ گاندھی جی یہ چاہتے تھے کہ نواب بھوپال راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں انڈین نیشنل کانگریس کے موقف کو بھی پیش کریں ۔ گاندھی جی بھوپال میں نواب بھوپال کے مہمان رہے اور یہاں انہوں نے بینظیر گراؤنڈ میں عوامی جلسہ سے خطاب کیا۔ بھوپال کھرنی والا میدان جسے موجودہ میں اقبال میدان کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہاں پر گاندھی جی نے چرخہ چلایا تھا اور موڑھوں والی بگیا جس میں گجراتی سماج کے لوگ رہتے ہیں وہاں بھی گاندھی جی گئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ گزرتے وقت کے ساتھ گاندھی جی کے افکار و نظریات کی معنویت بڑھ گئی ہے اور نئی نسل کو اسے پڑھنے کی ضرورت ہے ۔ پڑھنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ نئی نسل گاندھی جی کے قاتل کو تو جانتی ہے ، لیکن گاندھی جی کے محافظ کو نہیں جانتی ہے ۔ چمپارن ستیہ گرہ میں بخت میاں انصاری نے اپنی جان کی بازی لگاکر گاندھی جی کو بچایا تھا ، جنہیں آج فراموش کردیا گیا ہے۔

    بھوپال کے ممتاز شاعر و ڈرامہ آرٹسٹ بدر واسطی کہتے ہیں کہ کسی بھی سماج کی تعمیرو ترقی میں کچھ اسی شخصیات ہوتی ہیں جن کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے ۔ جو ہمارے رول ماڈل ہوتے ہیں ، ہمارے ہیرو ہوتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہیروز کو یا تو بھلا دیتے ہیں یا اتنے بے حس ہوجاتے ہیں کہ یاد ہی نہیں کرتے ہیں اور یاد بھی کرتے ہیں تو اس کا حق ادا نہیں ہوتا ہے اور اب تو ایسا دور آگیا ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے ہیروز کے چہروں کو کالکھ پوتنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ہیرو کے دامن کو داغدار کرنے کے لئے اپنی مفاد پرستی کے سبب ایسے پہلو نکالتے ہیں جو اس کی شخصیت میں شامل ہی نہیں ہیں۔

    اس نمائش کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں  نہ صرف گاندھی جی بلکہ ان کے ساتھ دیگر مجاہدین آزادی کی تصاویر اور ان کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے جو انتہائی اہم ہے ۔ بھوپال سے گاندھی جی کا کیا رشتہ تھا اسے بھی نمائش کے ذریعہ قریب سے جاننے کا موقعہ ملتا ہے ۔ میں ان اشعار کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ:

    ان کا میں احترام کرتا ہوں

    خود کو ان کا غلام کرتا ہوں

    دیش پر جان دینے والوں کو

    میں ادب سے سلام کرتا ہوں

     
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: