ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : متنازع زمین پر تعمیرات کو لیکر دو فرقوں کے مابین کشیدگی ، سیکورٹی سخت

ہنومان گنج ، ٹیلہ جمالپورا اور گوتم نگر تھانہ میں کرفیو کا نفاذ ہے تو شہر کے باقی تھانوں میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ جاری ہے۔ کلکٹر بھوپال اویناش لاوانیا کی جانب سے جاری احکام میں آئیندہ احکام تک کے لئے شہر میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : متنازع زمین پر تعمیرات کو لیکر دو فرقوں کے مابین کشیدگی ، سیکورٹی سخت
مدھیہ پردیش : متنازع زمین پر تعمیرات کو لیکر دو فرقوں کے مابین کشیدگی ، سیکورٹی سخت

راجدھانی بھوپال کے تین تھانوں میں کرفیو تو باقی تھانوں میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا گیا ہے۔ ہنومان گنج ، ٹیلہ جمالپورا اور گوتم نگر تھانہ میں کرفیو کا نفاذ ہے تو شہر کے باقی تھانوں میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ جاری ہے۔ کلکٹر بھوپال اویناش لاوانیا کی جانب سے جاری احکام میں آئیندہ احکام تک کے لئے شہر میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔


واضح رہے کہ قدیم بھوپال کے کباڑ خانہ علاقہ میں کالے پیر ثانی کے نام سے قبرستان ہے۔ قبرستان کی  تیس ہزار اسکوائر فٹ کی زمین کو لیکر محمد سلیمان اور  کیشو نیڈم کے بیچ گزشتہ بیس سالوں سے مقدمہ جاری تھا۔ وقف بورڈ وقف ٹریبونل سے اسٹے ختم ہونے کے بعد جب معاملہ ایس ڈی ایم کی عدالت میں پہنچا تو اسے خارج کردیا گیا ۔ اس سے پہلے کہ محمد سلیمان کے ذریعہ اس معاملہ میں  جبلپور ہائی کورٹ سے اسٹے حاصل کیا جاتا انتظامیہ نے ایس ڈی ایم کے فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے جگہ پر دوسرے فریق کو تعمیر کی اجازت دیدی ۔


متنازعہ زمین پر تعمیر کو لیکر کوئی نیا تنازعہ نہ پیدا ہو ضلع انتظامیہ نے بھوپال کے تین تھانوں میں کرفیو کا نفاذ اور شہر کے باقی تھانوں میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کر کے پورے شہر کو سیل کردیا۔ دن میں تو پولیس کی سخت چوکسی تھی ہی شام میں بھی شہر کے سبھی تھانوں میں سخت سیکوریٹی کے ساتھ چیکنگ جاری ہے۔


بھوپال  کلکٹر اویناش لاوانیا کہتے ہیں کہ سندھی کالونی کے پاس زمین کے ایک ٹکڑے کو لیکر دو فرقوں کے مابین لمبے عرصے سے تنازع چل رہا تھا ۔ سابقہ میں اس معاملے کو لیکر ریسور کی تقرربھی ہوئی تھی۔ ابھی چونکہ عدالت کا فیصلہ ایک فریق کے حق میں آیا ہے  اور ساتھ ہی ساتھ وہاں پر کوئی ریسور بھی مقرر نہیں ہے تو اس لئے ان کے ذریعہ مقررہ زمین پر باؤنڈری وال کی تعمیر کا کام کیا جا رہا ہے ۔اس کو دیکھتے ہوئے کہ شہر میں دونوں فرقوں کے مابین کسی قسم کا ٹکراؤ نہ ہو اس لئے سبھی جگہ پر امن و قانون کی نقطہ نظر سے شہر کے سبھی مقامات پر سیکورٹی لگائی گئی ہے۔

بھوپال ڈی آئی جی ارشاد ولی کہتے ہیں کہ  ایک زمین کا تنازعہ ہے جس میں ایک فریق کے حق میں عدالت کا فیصلہ آیاہے ۔ وہ اس زمین پر اپنی تعمیر کا کام کر رہے ہیں ۔ پہلے بھی ایک سو پینتالیس کے تحت بیس سال تک یہاں پر کوئی تعمیری کام نہیں ہو سکا تھا ۔ اس لئے ایسی امید تھی کہ تعمیرات کے وقت فرقہ وارانہ تشدد ہو سکتا ہے ، اس لئے شہر کے تین تھانوں میں کرفیو اور باقی حصے میں ایک سو چوالیس کا نفاذ کیاگیا ہے ۔ پورے شہر میں امن و امان ہے کہیں سے کسی قسم کے کسی تشدد کی خبر نہیں ہے ۔ جن کے حق میں فیصلہ عدالت سے آیا ہے ان کے ذریعہ تعمیرات کا کام جاری ہے ۔ جہاں تک قبرستان کا تعلق ہے اس پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ قبرستانوں کو چھوڑ کر کام جاری ہے۔ ہم آپ کو اس کا ویڈیو بھی جاری کردیں گے۔ وہیں مدھیہ پردیش مسلم وکاس پریشد کے صدر محمد ماہر کہتے ہیں کہ اگر اس معاملے میں عدالت کا کوئی فیصلہ آیا ہے تو انتظامیہ کو چاہئے کہ اس فیصلہ کو عام کیا جائے تاکہ شہر کا امن و امان بنا رہے ۔

واضح رہے کہ وقف بورڈ کے پاس جو قدیم دستاویز ہیں اس میں متنازع زمین کو کالے پیر ثانی کے نام سے درج کیا گیا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ پہلا واقعہ ہے جہاں پر وقف بورڈ نے عدم توجہی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ شہر اوقاف عامہ کے تحت جو ایک سو اکتالیس قبرستان درج ہیں اس میں سے اب محض تیئس قبرستان ہی بچے ہیں باقی قبرستانوں پر قبضہ ہو کر اس پر کالونیاں تعمیر کردی گئی ہے ۔ اب بھی اگر وقف بورڈ نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو دوسری قبرستانوں کاحشر بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 17, 2021 11:34 PM IST