ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مشترکہ تہذیب کی انوکھی مثال: نماز ادا کرنے کے لئے کھلا مندر کا دروازہ

مندر اور مسجد کے نام پر لوگوں کو جھگڑتے تو آپ نے بہت دیکھا ہوگا لیکن کسی مندر کے دروازے نماز کے لئے کھول دیئے جائیں وہ بھی ایسے وقت میں جب مذہبی تعصب کی بنیاد پر سیاست عروج پر ہو تو آپ کو سن کر حیرت بھی ہوگی اور دل سے پوری طرح یقین بھی نہیں ہوگا لیکن یہ دلوں کو جوڑنے کی یہ عظیم تاریخ بھوپال میں رقم کی گئی ہے۔

  • Share this:
مشترکہ تہذیب کی انوکھی مثال: نماز ادا کرنے کے لئے کھلا مندر کا دروازہ
مندر اور مسجد کے نام پر لوگوں کو جھگڑتے تو آپ نے بہت دیکھا ہوگا لیکن کسی مندر کے دروازے نماز کے لئے کھول دیئے جائیں وہ بھی ایسے وقت میں جب مذہبی تعصب کی بنیاد پر سیاست عروج پر ہو تو آپ کو سن کر حیرت بھی ہوگی اور دل سے پوری طرح یقین بھی نہیں ہوگا لیکن یہ دلوں کو جوڑنے کی یہ عظیم تاریخ بھوپال میں رقم کی گئی ہے۔

مندر اور مسجد کے نام پر لوگوں کو جھگڑتے تو آپ نے بہت دیکھا ہوگا لیکن کسی مندر کے دروازے نماز کے لئے کھول دیئے جائیں وہ بھی ایسے وقت میں جب مذہبی تعصب کی بنیاد پر سیاست عروج پر ہو تو آپ کو سن کر حیرت بھی ہوگی اور دل سے پوری طرح یقین بھی نہیں ہوگا لیکن یہ دلوں کو جوڑنے کی یہ عظیم تاریخ بھوپال میں رقم کی گئی ہے۔ بھوپال کو جھیلوں کی نگری تالابوں کا شہر کے نام سےجاناجاتا ہے۔ اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کا حسن شامل ہے وہیں اسے مشترکہ تہذیب کا بھی شہر کہا جاتا ہے۔ بھوپال میں سترہ سو اکیس سے انیس سو انچاس تک مسلم نوابوں کی حکومت رہی ہے۔ ریاست بھوپال کے بانی سردار دوست محمد خان نے جن اعلی اور اخلاقی قدروں پر ریاست کی بنیاد رکھی تھی انہیں اعلی قدروں پر ریاست بھوپال آخر تک قائم رہی۔


ریاست بھوپال کے نواب تو مسلم ہوا کرتے تھے لیکن ان نوابوں کے وزیر آعظم ہمیشہ ہندو ہی ہوتے تھے۔یہی نہیں ہولی کا تہوار ملک بھر میں دھوم دھام سے منایا جاتا ہے لیکن ریاست بھوپال میں ہولی کے علاوہ رنگ پنچمی کی دھم ہوا کرتی تھی اور رنگ پنچمی کا اہتمام شاہی گھرانے سے کیاجاتا تھا اور نوابین بھوپال خود اس میں شرکت کرتے تھے۔

نوابوی کی نگری کے اسی بھوپال کے شاہ پورا مندر میں بھوپال کی گنگا جمنی تہِِذیب کو پھر نئے طریقے سے لکھا گیا ہے۔نسرگ طوفام کے چلتے جب شہر کو بارش نے اپنی آغوش میں لے لیا اور مغرب کا وقت نزدیک آیاتو رائسین کے نعیم کے ماتھے پر بل پڑگئے ۔ بارش سے بچنے کے لئے مندر کی سیڑھیوں پر بیٹھے نعیم کو جب مندر کے پجاری نے دیکھا تو اس سے رہا نہیں گیا۔ مندر کے پجاری نے نعیم کو پریشان ہوتے دیکھا تو پوچھا کہ آپ پریشان کیوں ہو رہے ہیں جب بارش  رک جائےپھر چلے جائے گا تب تک آپ اندر بیٹھ جا ئیے ۔ مندر کے پجاری کے سوال پر نعیم نے کہا کہ میری پریشانی بارش نہیں ہے بلکہ بارش کے سبب آج پہلی بار میری نماز قضا ہو گی۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے پہلے بارمیرے اللہ اتنا ناراض ہے کہ آج مجھے سجدے میں نہیں دیکھنا نہیں چاہتا ہے۔نعیم کی باتوں نے مندر کے پجاری پر ایسا اثر کیاکہ مندرکے پجاری نے نماز کے لئے مندر کا دروازہ کھول دیا۔

مندر کے پجاری اودھیش ویاس نے صرف مندر میں نعیم کو نماز پڑھنے کی ہی اجازت نہیں دی بلکہ نعیم کے نماز پڑھنے کے لئے کپڑا بچھایا اور پھر نعیم نے سکون کے ساتھ نماز ادا کرکے اپنے رب کا شکر اداکیا۔ مندر میں ایک جانب پوجا ہوتی رہی اور دوسری جانب نعیم کو نماز ادا کرتے جب سماجی کارکن عبد النفیس نے دیکھا تو ان سے رہا نہیں گیا۔

عبد النفیس کہتے ہیں کہ بزرگوں کی زبان سے مشترکہ تہذیب کے بارے میں بہت سنا تھا لیکن پہلی بار جب مندر میں ایسا نظارہ دیکھا تو جی اتنا خوش ہوا کہ بیان نہیں کرسکتا ہوں۔ملک کو اسی تہذیب کی ضرورت ہے اور اسی میں ہندستان کی ترقی کا راز پنہا ں ہے۔
وہیں مندر کے پجاری اودھیش ویاس کہتے ہیں کہ مندر ہو یا مسجد سب میں اسی پرم پرمیشور کی آرادھنا ہوتی ہے۔نعیم جی اپنے طریقے سے مندر کے کیمپس میں ایک جانب اپنے رب کو سجدہ کر رہے تھے اور دوسری طرف مندر میں پجا جاری تھی۔ سب میں اسی کا نور ہے بس نظر کا پھیر ہے۔
First published: Jun 04, 2020 11:36 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading