உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدارس کا سروے کرنے والی سرکار نصف سیشن گزرنے کے بعد کتابیں نہیں کر سکی مہیا

     نئے تعلیمی سیشن کو شروع ہوئے کئی ماہ بیت چکے ہیں مگر مدارس کے طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں ۔یہی نہیں سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرنے والی حکومت میں کووڈ کے بعد سے مڈ میل بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔

    نئے تعلیمی سیشن کو شروع ہوئے کئی ماہ بیت چکے ہیں مگر مدارس کے طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں ۔یہی نہیں سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرنے والی حکومت میں کووڈ کے بعد سے مڈ میل بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔

    نئے تعلیمی سیشن کو شروع ہوئے کئی ماہ بیت چکے ہیں مگر مدارس کے طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں ۔یہی نہیں سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرنے والی حکومت میں کووڈ کے بعد سے مڈ میل بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh, India
    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں مدارس کو لیکر سیاسی گھمسان جاری ہے ۔ حکومت کی جانب سے مدارس کو فرضی بتا کر ایک جانب سروے کیا جا رہا ہے اور ابتک اڑتالیس مدارس پر کاروائی کرنے کے ساتھ باون مدارس کو نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ وہیں دوسری جانب صوبہ کے مدارس گزشتہ چھ سالوں سے نہ صرف مرکزی اور صوبائی حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہیں بلکہ انہیں چھ سالوں سے مدارس کی گرانٹ بھی جاری نہیں کی گئی ہے۔ نئے تعلیمی سیشن کو شروع ہوئے کئی ماہ بیت چکے ہیں مگر مدارس کے طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں۔ یہی نہیں سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرنے والی حکومت میں کووڈ کے بعد سے مڈ میل بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔
    مدھیہ پردیش ادھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے جنرل سکریٹری صہیب قریشی نے نیوز ایٹین اردو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں پر بھی کوئی کام غیر قانونی ہے تو حکومت کو اس پر کاروائی کرنا چاہیئے مگر ہم حکومت سے یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ جن مدارس نے حکومت کے پورٹل پر حکومت کے ضابطہ کے مطابق رجسٹریشن کروایا ہے انہیں کس سزا کے طور پر گزشتہ کئی سالوں سے گرانٹ سے محروم رکھا گیا ہے۔ حکومت نے امسال سے پانچ اور آٹھ ویں کو بورڈ سے جوڑ دیا ہے اور ان کلاسوں کا سلیبس بھی بدل گیا ہے لیکن ہمارے مدارس کے طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں ۔ایسے میں سرکار خود بتائے کہ مدارس کے طلبا تعلیم کیسے حاصل کریں۔

    مسلم شخص محمد نثار نے اپنایا سناتن دھرم، ویدک رسم و رواج سے پھر سے کی شادی، بتائی یہ وجہ

    امریکہ میں 4 ہندوستانیوں کے اغوا سے مچا ہنگامہ! والدین کے ساتھ 8 ماہ کی بچی بھی اغوا
    وہیں مدرسہ منتظم حافظ جنید احمد کہتے ہیں کہ مدارس کے طلبا بھی پڑھ لکھ کر اعلی مقام پر پہنچنا چاہتے ہیں ۔ مدارس کے طلبا بھی تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے وزیر آعظم نریندر مودی جی نے کہا تھا کہ مدارس کے طلبا کے ایک ہاتھ میں قران اور دوسرے میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتے ہیں۔حضور یہ بچے تبھی آپ کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکیں گے جب انہیں آپ سہولیات دیں گے۔طلبا کو جب وقت پر کتاب نہیں مل رہی ہے۔ انہیں مڈ میل سے محروم کردیا گیا ہے تو بتائیں ایسے میں مدارس کے بچے کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

    مدرسہ کی ایک اور منتظم رانا خان کہتی ہیں کہ کووڈ ۱۹ کے زمانے میں حکومت نے سبھی کی مدد کی لیکن مدارس کی جانب محبت سے نہیں دیکھا گیا۔ہم مدرسہ چلاتے ہیں اور جب چھ سالوں سے حکومت نے گرانٹ جاری نہیں کی ہے تو بتائیں ہم مدرسہ کو کیسے چلائیں ۔ مدارس کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کی بات سرکار کرتی ہے لیکن سہولیات کے نام پر تنگ نظری ہر قدم پر پھیلی ہے ۔حکومت کو اپنی تنگ نظری کو ختم کرکے اسی طرح سے مدارس کو تمام سہولیات مہیا کرانا چاہئے جس طرح سے سرکاری اسکولوں کو جاری ہے ۔ہمارے نتائج کسی بھی طرح سے سرکاری اسکولوں سے کم نہیں ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: