உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh اردو اکادمی نے تین سال بعد ایوارڈ کا کیا اعلان، ادیبوں، شاعروں اور اردو کےمحققین کو بھی ایوارڈ دینے کا فیصلہ

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے تین سال بعد ایوارڈ کا کیا اعلان

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے تین سال بعد ایوارڈ کا کیا اعلان

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے اپنے باوقار ایوارڈ کا اعلان کردیا ہے۔ اکادمی کے ذریعہ تین سال بعد ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے جن میں قومی سطح کے چھ ایوارڈ اور صوبائی سطح کے 12 ایوارڈ شامل ہیں۔ ابھی تک اکادمی کے ذریعہ شاعروں و ادیبوں کو ان کی ادبی خدمات پر ایوارڈ دیا جاتا تھا مگر یہ پہلا موقع ہے جب اکادمی کے ذریعہ مختلف اصناف پر ادیبوں و شاعروں اور اردو کے محققین کے ذریعہ لکھی گئی کتابوں پر ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے اپنے باوقار ایوارڈ کا اعلان کردیا ہے۔ اکادمی کے ذریعہ تین سال بعد ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے جن میں قومی سطح کے چھ ایوارڈ اور صوبائی سطح کے 12 ایوارڈ شامل ہیں۔ ابھی تک اکادمی کے ذریعہ شاعروں و ادیبوں کو ان کی ادبی خدمات پر ایوارڈ دیا جاتا تھا مگر یہ پہلا موقع ہے جب اکادمی کے ذریعہ مختلف اصناف پر ادیبوں و شاعروں اور اردو کے محققین کے ذریعہ لکھی گئی کتابوں پر ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ جن چھ شخصیات کی تخلیقات پر قومی ایوارڈ دینے کا اعلان کیاگیا ہے ان میں ممتاز ادیب و محقق ڈاکٹر مہتاب عالم کی کتاب تہذیب پر  ابراہیم یوسف اعزاز،وفا صدیقی کی کتاب نقش تابندہ کے لئے میرتقی میر اعزاز،ڈاکٹر سیفی سرونجی کو سہ ماہی انتساب کی خدمات کے لئےحکیم قمرالحسن اعزاز، ڈاکٹرخالد محمود کی کتاب نقوش معنی کو جوہر قریشی، ڈاکٹر محمد نعمان خان  کی کتاب فلسفہ حیات کو شاداں اندوری اعزاز اور ڈاکٹر عشرت ناہید اجین کی کتاب منزل بے نشاں کو حامد سیعد خاں قومی اعزاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ تین سال بعد ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے جن میں قومی سطح کے چھ ایوارڈ اور صوبائی سطح کے 12 ایوارڈ شامل ہیں۔


    اسی طرح سے کوثر صدیقی کی قرطاس قلم کو ندا فاضلی اعزاز،قاسم رسا کی کتاب جستہ جسہ کو سراج میر خاں سحر اعزاز، ڈاکٹر رضیہ حامد کی کتاب فہم و ادراک کو سورج کلا سہائے اعزاز،ضیا فاروقی  کی کتاب حسینہ منزل کو نواب شاہجہاں بیگم اعزاز، کے کے راجپوت کمل کی کتاب رقِص بسمل کو شمبھو دیال سخن اعزاز، اقبال مسعود کی کتاب نعیم کوثر افسانوی کائنات کو شعری بھوپالی اعزاز، ڈاکٹر محمود شیخ کی کتاب امیجری کا زوال کو محمد علی تاج اعزاز، نفیسہ سلطانہ انا کی  کتاب عکس خیال کو باسط بھوپالی اعزاز، کاروان ادب کے مدیر جاوید یزدانی کونواب صدیق حسن خان اعزاز، ِصبیحہ صدف کی کتا ب اردو قواعد و مضامین کو جاں نـثار اختر اعزاز، ڈاکٹر عارف انصاری کی کتاب پس پردہ کو پنا لال سریواستو نور اعزازاور کوثر فرزانہ کوکیف بھوپالی صوبائی اعزاز سے سرفراز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی نے بتایا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر تین سال بعد ایوارڈ شروع کئے جا رہے ہیں تو اس کا ایک نیا فارمیٹ ہو اور تخلیق کاروں کے ذریعہ جو کتابیں لکھی جا رہی ہیں ان پر ایوارڈ دیا جائے۔
    اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی نے بتایا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر تین سال بعد ایوارڈ شروع کئے جا رہے ہیں تو اس کا ایک نیا فارمیٹ ہو اور تخلیق کاروں کے ذریعہ جو کتابیں لکھی جا رہی ہیں ان پر ایوارڈ دیا جائے۔


    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی نے نیوز ایٹین اردو کو خاص ملاقات میں بتایا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر تین سال بعد ایوارڈ شروع کئے جا رہے ہیں تو اس کا ایک نیا فارمیٹ ہو اور تخلیق کاروں کے ذریعہ جو کتابیں لکھی جا رہی ہیں ان پر ایوارڈ دیا جائے۔ تو اس بار کے ایوارڈ کتابوں پر ہی دیئے جا رہے ہیں۔ اس میں چھ کل ہند اعزاز اور بارہ صوبائی اعزاز شامل ہیں۔ 28  مارچ کو شام پانچ بھوپال اسٹیٹ میوزیم میں اعزاز تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    بیربھوم تشدد پر PM Modi نے ظاہر کیا افسوس، بنگال کی CM ممتا بنرجی سے کہی یہ بڑی بات

    اعزاز تقریب میں مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر،بی جے پی کے سینئر لیڈر و سابق رکن پارلیمنٹ بھوپال  آلوک سنجر صاحب،محکمہ ثقافت کے پرنسپل سکریٹری شیوشیکھر شکلا اور ڈائریکٹر سنسکرتی ادیتی کمار ترپاٹھی کی موجودگی میں اعزاز تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

    نصرت مہدی صاحب سے جب یہ پوچھا گیا کہ اکادمی نے روایت کوکیوں بدلا ابھی تک ادیبوں اور شاعروں کو ان کی ادبی خدمات پر اعزاز دیا جاتاتھا مگر اس بار ان کی تخلیق پر اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ اردو کی بہت سی اصناف پر موجودہ میں طبع آزمائی ہو ہی نہیں رہی ہے۔جب ایوارڈ صنف پر دیئے جائیں گے تو اس پر طبع آزمائی بھی ہوگی اور اردو کی مختلف اصناف میں اچھا ادب بھی سامنے آئے گا۔نئی نسل کو اردو کی سبھی اصناف کی جانب راغب کرنے کے لئے  یہ سلسلہ شروع کیاگیا ہے۔ اکادمی نے اس کے لئے باقاعدہ جیوری بنائی اور جیوری نےدو سطح پر کام کرنے کے بعد ایوارڈ کا فیصلہ کیا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس بار سبھی ایوارڈ مدھیہ پردیش کے ہی ادیبوں کو دیا گیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: