உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhpal News: اردو کے ذکر کے بغیر تحریک آزادی کا نہیں کیا جا سکتا ہے تصور

    Bhpal News: اردو کے ذکر کے بغیر تحریک آزادی کا نہیں کیا جا سکتا ہے تصور

    Bhpal News: اردو کے ذکر کے بغیر تحریک آزادی کا نہیں کیا جا سکتا ہے تصور

    Madhya Pradesh News: آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں جشن اردو پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ سہ روزہ جشن اردو پروگرام کے پہلے روز تحریک آزادی اور اردو کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں جشن اردو پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ سہ روزہ جشن اردو پروگرام کے پہلے روز تحریک آزادی اور اردو کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال رویندر بھون میں منعقدہ قومی سیمینار میں ملک کے ممتاز اردو ادیبوں نے شرکت کی اور تحریک آزادی میں اردو کے ادیبوں ، شاعروں، صحافیوں کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ دانشوروں نے تحریک آزادی میں اردو کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو کے بغیر تحریک آزادی کا تصورہی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ اس وقت پورے ملک کے ساتھ مدھیہ پردیش میں آزادی کا امرت مہوتسو منایا جا رہا ہے ۔ اسی ضمن میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام سہ روزہ جشن اردو پروگرام کا انعقاد کیاگیا ہے۔ سہ روزہ جشن اردو صونکہ آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت کیاگیا ہے اس لئے تحریک آزادی اور اردو کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ تاکہ نئی نسل اردو اور تحریک آزادی کے ساتھ اردو کے فنکاروں کی عظیم خدمات سے واقف ہو سکے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : اردو کے نئے فنکاروں کو اسٹیج فراہم کرنے کے لئے سہ روزہ جشن اردو کا ہوگا انعقاد


    ممتاز ادیب و مفکر پروفیسر اختر الواسع نے اپنے صدارتی خطبہ میں سہ روزہ جشن اردو اور تحریک آزادی اور اردو کے عنوان سے اہم سیمینار کے انعقاد کے لئے مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور اس کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے بغیر تحریک آزادی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ انقلاب زندہ آباد کا نعرہ دینے والا اردو کا ہی صحافی تھا ، جسے ہم سب جانتے ہیں ۔ اسی طرح سے ملک کی آزادی کے لئے بغاوت کے جرم میں ملک کا جو سب سے پہلا صحافی انگریزوں کے ذریعہ قتل کیا گیا ، وہ مولوی محمد باقر تھے ۔ اسی طرح آپ دیکھیں تو اردو صحافت نے تحریک آزادی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے ۔ ہندوستانیوں میں شعور کی بیداری کرنے میں ، ہندوستانیوں کو تحریک آزادی کے لئے منظم کرنے میں جو کلیدی کردار ادا کیا ہے اس سے آپ انکار نہیں کرسکتے ہیں ۔ اور جب ہم اردو کی بات کرتے ہیں تو اس میں کسی ایک مذہب کے لوگ شامل نہیں تھے ، بلکہ بلا لحاظ قوم وملت سبھی قوموں کے لوگ اس میں شامل تھے ۔ ترقی پسند تحریک کی خدمات کو آپ  فراموش نہیں کرسکتے ہیں ۔ آپ پریم چند کی خدمات کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں ۔ اردو زبان نے ایک زندہ زبان کی حیثیت سے جو غلامی کی زنجیروں میں کبھی کسنے کے لئے تیار نہیں تھی ، اس نے غیر معمولی رول انجام دیا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : مساجد کمیٹی پر مرجر ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام، جانئے کیا ہے پورا معاملہ


    ممتاز ادیب ضیا فاروقی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی میں اردو صحافیوں کے ساتھ اردو شعرا کی عظیم قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ ضیا فاروقی کہتے ہیں کہ آج جب ملک کی آزادی کی بات ہوتی ہے ، تو نئی نسل اردو کے فنکاروں کی عظیم قربانیوں سے جب لا علمی کا مظاہرہ کرتی ہے تو افسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کے سمینار کے انعقاد سے نئی صرف تاریخ کے گرد آلود گوشے منور ہوتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنے اسلاف کی تاریخ کو قریب سے جاننے کا موقع ملتا ہے ۔

    بھوپال کی ادیبہ نفیسہ سلطانہ انا نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی میں خواتین کی خدمات کو نمایاں طور پر پیش کیا۔جشن اردو پروگرام کے پہلے روز بیت بازی، سمینار کے ساتھ قوالی اور صوبائی مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا گیا ۔ کورونا قہر کے سبب دو سال بعد منعقد ہونے والے جشن اردو کے پروگرام سے اردو کے سامعین کو پھر سے لطف اندوز ہونے کا جو موقع ملا ہے اس سے ان کی خوشی قابل دید تھی۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: