ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : یوم اردو پر بھوپال میں مختلف تقاریب کا انعقاد

مجلس اقبال کے زیر اہتمام منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ سمینار میں دانشوروں نے اردو کے رسم الخط کو عام کرنے اور نئی نسل میں اردو کا شوق پیدا کرنے پر زور دیا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : یوم اردو پر بھوپال میں مختلف تقاریب کا انعقاد
مدھیہ پردیش : یوم اردو پر بھوپال میں مختلف تقاریب کا انعقاد

عالمی اردو کے موقع پر بھوپال میں مجلس اقبال، مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سو سائٹی کے زیر اہتمام تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقاریب میں علامہ اقبال کی فکر و فن پر روشنی ڈالنے کے ساتھ صوبہ میں اردو کی زبوں حالی  کو دور کرنے اور اردو زبان کے جمہوری حق کے لئے زمینی سطح پر تحریک چلانے پر زور دیا گیا۔


نو نومبر شاعر مشرق علامہ اقبال کی یوم ولادت ہے اور اس دن کو عاشقان اردو پوری دنیا میں یوم اردو کے طور پر مناتے ہیں ۔ مجلس اقبال کے زیر اہتمام منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ سمینار میں دانشوروں نے اردو کے رسم الخط کو عام کرنے اور نئی نسل میں اردو کا شوق پیدا کرنے پر زور دیا۔ پروگرام کے صدر پروفیسر حسن مسعود نے کہا کہ جب تک اردو کے نئے قاری نہیں پیدا ہوں گے تب تک اردو کا فروغ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ وہیں سمینار کے مہمان خصوصی یاسین مومن نے اہل اردو کو مایوسی کی غار سے باہر آنے کا مشورہ دیا ۔ یاسین مومن کا کہنا ہے کہ اردو زبان میں ترقی کے بہت سے مواقع ہیں ، مگر اردو طلبہ معلومات کی کمی کے سبب اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔


مدھیہ پردیش میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔
مدھیہ پردیش میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔


وہیں مجلس اقبال کے صدر اقبال مسعود نے صوبہ میں اردو اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے اور اس کے لئے تمام اضلاع میں سروے کرکے رپورٹ محکمہ تعلیمات کو پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ جبکہ ملک محمود اور ضیا فاروقی نے اپنے مقالے میں اردو کے تابناک ماضی اور اقبال کے فلسفہ خودی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر بھوپال سے اقبال کے خاص رشتہ پر بدر واسطی نے روشنی ڈالی ۔

مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ یوم اردو پر گاندھی نگر میں پرگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ پروگرام کے پہلے حصہ میں قرآن خوانی کی گئی اور اس کے بعد علامہ اقبال کے نام سے شجرکاری کی گئی ۔ پروگرام کے دوسرے حصہ میں اردو کو نئی نسل تک پہنچانے کے لئے اردو کی ابتدائی کتابیں طلبہ میں تقسیم کی گئیں ۔ اس موقع پر برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے رکن حاجی محمد عمران نے بھوپال میں قائم  اقبال کی یادگار کو نئی زندگی دینے کے لئے عوامی تعاون سے کام کرنےکا اعلا ن کیا۔

اردو کو نئی نسل تک پہنچانے کے لئے اردو کی ابتدائی کتابیں طلبہ میں تقسیم کی گئیں ۔
اردو کو نئی نسل تک پہنچانے کے لئے اردو کی ابتدائی کتابیں طلبہ میں تقسیم کی گئیں ۔


مدھیہ پردیش اردو اکادمی جو ہر سال یوم اردو کے موقع پر مختلف تقاریب کا انعقاد کرتی تھی اس بار کورونا قہر کے سبب اکادمی روایتی انداز میں پروگرام کا انعقاد تو نہیں کرسکی مگر اکادمی کے ذریعہ ویبینار کا انعقاد کرکے علامہ اقبال کو یاد کیا گیا۔ اردو اکادمی کے ذریعہ بھوپال جن جاتیہ سنھگرالیہ میں منعقدہ پروگرام میں اردو کے دانشوروں نے شرکت کی ۔ پروگرام کا آغاز اقبال کے دعائیہ کلام لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری سے کیا گیا ۔ جسے ممتاز گلوکار ضمیر خان موسیقی کے ساتھ پیش کیا ۔ بعد از پروفیسر ارجمند بانو افشاں،سراج محمد خان سراج اور رشدی جمیل نے فکر اقبال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مدھیہ پردیش اردو اکادمی کارگزار ڈائریکٹر وندنا پانڈے نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری خواہش اقبالیات کے فر وغ کو لیکر بڑے پروگرام کے انعقاد کی تھی ، مگر کورونا قہر کے سبب یہ ممکن نہیں ہو سکا ۔ ویببنار کے ذریعہ اقبال کے فکر و فن پر دانشوروں کے ذریعہ روشنی ڈالی گئی ہے اور جب بھی حالات سازگار ہوئ گے اسی انداز میں پروگرام کاانعقاد ہوگا جو اردو اکادمی کی روایت کا حصہ رہا ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ اقبال نے حب الوطنی کا جو پیغام اپنی شاعری کے ذریعہ دیا ہے ، وہ ملک کے گوشے گوشے میں پہنچے اور ہندوستان امن کا گہوارہ بن سکے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 09, 2020 06:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading