ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال میں وقف قبرستانوں کا وجود خطرے میں ، اراضی مافیا کیلئے بنا سب سے آسان ٹارگیٹ

مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سی ای او محمد احمد کہتے ہیں کہ کیلول پارک کے پاس جو برج اور سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے ، وہ زمین وقف قبرستان میں درج ہے ۔ معاملہ وقف ٹریبونل میں زیر سماعت ہے ۔ اب اس معاملہ میں عدالت کا جو فیصلہ آئے گا ، اس پر عمل کیا جائے گا ۔

  • Share this:
بھوپال میں وقف قبرستانوں کا وجود خطرے میں ، اراضی مافیا کیلئے بنا سب سے آسان ٹارگیٹ
بھوپال میں وقف قبرستانوں کا وجود خطرے میں ، اراضی مافیا کیلئے بنا سب سے آسان ٹارگیٹ

بھوپال ریاست مدھیہ پردیش کا دارالحکومت ہے ۔ دارالحکومت میں سی ایم سے لے کر کابینہ وزیر اور چیف سکریٹری تک کے عہدیدار بیٹھتے ہیں ۔ یہی نہیں مدھیہ پردیش وقف بورڈ کا صدر دفتر بھی بھوپال میں ہی موجود ہے ۔ ان سب کے باوجود وقف بورڈ کی املاک پر ناجائز قبضہ زمینی مافیاؤں کے لئے سب سے آسان ٹارگیٹ بنا ہوا ہے ۔ ریاست مدھیہ پردیش کا قیام یکم نومبر انیس سو چھپن میں عمل میں آیا تھا ، لیکن صوبہ میں وقف بورڈ کا قیام انیس سو ایکسٹھ میں عمل میں آیا ۔ انیس سو ایکسٹھ میں مدھیہ پردیش میں وقف بورڈ کے قیام کے بعد وقف املاک کا صوبائی سطح پر سروے کیا گیا اور سروے کے بعد حکومت کی جانب سے وقف املاک ، قبرستان اور زراعتی زمینوں کو لے کر گزٹ نوٹیفکیشن کیا گیا ۔


1962 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق بھوپال میں وقف قبرستانوں کی تعداد ایک سو ستاسی درج کی گئی تھی ۔ وقف قبرستانوں کی نگرانی وقف بورڈ ، متولی کمیٹی اوقاف عامہ اور شاہی اوقاف کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔ شہر میں وقف قبرستانوں اور دیگر املاک کی نگرانی کے لئے یوں تو کہنے کو وقف بورڈ ، متولی کمیٹی اوقاف عامہ اور شاہی اوقاف کے ادارے موجود ہیں ، اس کے باوجود شہر میں وقفیہ قبرستانوں پر نا جائزقبضوں میں اضافہ جاری ہے ۔ زمینی مافیا اور حکومت کی تانا شاہی کے سامنے بورڈ کتنا بے بس ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھوپال شہر میں انیس سو باسٹھ وقف کے ایک سو ستاسی قبرستان درج تھے اور اب ان کی تعداد گھٹ کر تیئس ہوگئی ہے ۔


کچھ قبرستانوں پر بڑی بڑی بلڈنگ بن گئیں ہیں ۔ کچھ پر زمینی مافیاؤں نے ملٹی اسٹوری بنا کر فروخت کردی ہیں اور کچھ پر خود ایم پی حکومت کا ہی قبضہ ہے۔ بھوپال کیلول پارک میں بنائے جا رہے برج اور سڑک کی تعمیر بھی قبرستان کی زمین پر ہی کی جا رہی ہے ۔ بورڈ کو اس کی خبر تب ہوئی جب سماجی تنظیموں نے معاملہ کو لے کر احتجاج شروع کیا ۔


1962 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق بھوپال میں وقف قبرستانوں کی تعداد ایک سو ستاسی درج کی گئی تھی ۔
1962 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق بھوپال میں وقف قبرستانوں کی تعداد ایک سو ستاسی درج کی گئی تھی ۔


محبان بھارت کمیٹی کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ افسوسناک اور کیا ہوسکتا ہے کہ شہر میں وقف کی نگرانی کے لئے کمیٹی اوقاف عامہ ، شاہی اوقاف اور خود وقف بورڈ موجود ہے ، لیکن کسی کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ بورڈ کی تین ایکڑ کی زمین پر حکومت کے ادارہ نگر نگم کے ذریعہ بغیر کسی اجازت کے سڑک اور پل کی تعمیر کا کام شروع کردیا گیا ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے ، اس سے پہلے بھی وقف کے قبرستانوں پر قبضہ کر کے تعمیری کام کیا گیا ، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ ہم لوگوں نے معاملہ کو لیکر وقف بورڈ اور سی ایم ہاؤس میں شکایت درج کرائی ہے ۔ دونوں جگہ میمورنڈم بھی دیا ہے ، لیکن ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے ۔ وقف کی ایک ایک انچ زمین کے لئے ہماری تحریک جاری رہے گی ، بھلے ہی ہمیں اس کے لئے کوئی بھی قربانی دینی ہو۔

وہیں مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سی ای او محمد احمد کہتے ہیں کہ کیلول پارک کے پاس جو برج اور سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے ، وہ زمین وقف قبرستان میں درج ہے ۔ معاملہ وقف ٹریبونل میں زیر سماعت ہے ۔ اب اس معاملہ میں عدالت کا جو فیصلہ آئے گا ، اس پر عمل کیا جائے گا ۔ جہاں تک محبان بھارت کمیٹی کا تعلق ہے ، انہیں کل بعد نماز جمعہ ملاقات کے لئے بلایا ہوگا ۔ انہوں نے جو میمورنڈم دیا ہے ، اس پر بات ہوگی ۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں دوہزار اٹھارہ سے نہ کوئی کمیٹی اور نہ ہی کوئی چیئرمین ۔ ان بیتے دوسالوں میں مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ اور شیوراج سنگھ کی حکومتیں بدل چکی ہیں ، لیکن وقف بورڈ کی قسمت بدلنے کا نہیں نام لے رہی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 17, 2020 11:35 PM IST