ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : جانباز خواتین کو مساجد کمیٹی نے اعزاز نوازا ، کورونا قہر میں دیا تھا یہ بڑا فریضہ انجام

مساجد کمیٹی کے مہتمم یاسر عرفات کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں جب لوگوں وبائی بیماری کے خوف سے اپنے گھروں میں مقید تھے ، تب ان خواتین نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر نہ صرف مریضوں کی بے لوث خدمت کی بلکہ جب کورونا کی وبائی بیماری سے کسی خاتون کا انتقال ہوا تو انہوں نے غسل میت کا بھی فریضہ انجام دیا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : جانباز خواتین کو مساجد کمیٹی نے اعزاز نوازا ، کورونا قہر میں دیا تھا یہ بڑا فریضہ انجام
مدھیہ پردیش : جانباز خواتین کو مساجد کمیٹی نے اعزاز نوازا ، کورونا قہر میں دیا تھا یہ بڑا فریضہ انجام

بھوپال : کورونا قہرہمارے سماج میں ایک ایسا عذاب بن کر آیا کہ وبائی بیماری کی زد میں آنے کے بعد جہاں بہت سے لوگوں نے اپنے خون کے رشتوں سے دوری اختیار کرلی تھی ۔ وہیں کورونا سے موت ہونے کے بعد بعض مقامات پر میت کو غسل دینے سے بھی لوگ کترانے لگے تھے ۔ مگر ایسے وقت میں برادر ہوڈ بائی مائناریٹیز گروپ کے کارکنان نے اپنی جانثاری کا وہ کارنامہ انجام دیا کہ جو سماج کے لئے نظیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ برادر ہوڈ بائی مائناریٹیز گروپ کی خواتین ونگ کی خدمات کا نہ صرف مساجد کمیٹی میں اعتراف کیا گیا ، بلکہ اعزاز سے بھی نوازا گیا۔


مساجد کمیٹی کے مہتمم یاسر عرفات کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں جب لوگوں وبائی بیماری کے خوف سے اپنے گھروں میں مقید تھے ، تب ان خواتین نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر نہ صرف مریضوں کی بے لوث خدمت کی بلکہ جب کورونا کی وبائی بیماری سے کسی خاتون کا انتقال ہوا تو انہوں نے غسل میت کا بھی فریضہ انجام دیا۔ مساجد کمیٹی کی جانب سے ان خواتین کا اعزاز کیا گیا ہے ۔ ہم چاہتی ہے کہ ہماری بہنیں ان سے سبق لیں کہ ایسے مشکل میں انسانیت کی خدمت کیسے کی جاتی ہے ۔


برادر ہوڈ بائی مائناریٹیز گروپ کی اہم رکن فرح رضوان کہتی ہیں کہ اب تو حالات بہت سازگار ہیں لوگ گھروں سے نکل رہے ہیں اور ایک دوسرے سے بات بھی کر رہے ہیں ، لیکن گزشتہ دومہینوں میں ریاست میں حالات ایسے نا گفتہ بہ تھے کہ ان کا بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ لوگوں میں کورونا وبائی بیماری کا ایسا خوف تھا کہ کتنے لوگوں نے وبائی بیماری کے خوف سے اپنوں سے ملنا جلنا بند کردیا ۔ کتنے لوگوں نے اپنے بوڑھے والدین سے رشتہ منقطع کرلیا اور ایسے میں کورونا سے موت کے بعد انہیں غسل دینے کی بات کرنا کسی پہاڑ کو سر کر نے جیسا ہوگیا تھا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اور قران سے جو سبق ملا ہے اس کی روشنی میں ہم لوگوں نے کورونا قہر میں بے لوث لوگوں کی خدمت کی اور کورونا سے ہونے والی میت کا غسل بھی دیا ۔


اعزاز نے ہمارے لئے اور چیلنج بڑھا دیا ہے ۔ اب لوگ ہمیں اور بہتر ڈھنگ میں سماجی خدمت کا کام کرتے دیکھنا چاہیں گے ۔ ہم خدمت سے خدا کو راضی کرنا چاہتے ہیں ۔ بس یہی دعا ہے کہ اللہ ہماری خدمت کو قبول فرمالے اور ہمارے ملک میں ہر جگہ محبتوں کی بستیاں آباد ہوں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 16, 2021 08:49 PM IST