உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News : ممتاز اردو شاعر اور ادب اطفال کے اہم ستون حیدر بیابانی نے داعی اجل کو کہا لبیک

    Bhopal News : ممتاز اردو شاعر اور ادب اطفال کے اہم ستون حیدر بیابانی نے داعی اجل کو کہا لبیک

    Bhopal News : ممتاز اردو شاعر اور ادب اطفال کے اہم ستون حیدر بیابانی نے داعی اجل کو کہا لبیک

    ممتاز اردو شاعر وادیب حیدر بیابانی کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے ادیبوں نے ادب اطفال کے نا قابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے ۔ حیدر بیابانی نے اپنی چوہتر سالہ زندگی میں نصف صدی سے زیادہ حصہ ادب اطفال کو تخلیق کرنے میں وقف کردیا تھا۔

    • Share this:
    بھوپال : ممتاز اردو شاعر وادیب حیدر بیابانی کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے ادیبوں نے ادب اطفال کے نا قابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے ۔ حیدر بیابانی نے اپنی چوہتر سالہ زندگی میں نصف صدی سے زیادہ حصہ ادب اطفال کو تخلیق کرنے میں وقف کردیا تھا۔ ادب اطفال پر ان کے ذریعہ لکھی گئی نظمیں ہندستان و پاکستان کے اسکولوں میں نہ صرف نصاب کا حصہ ہیں ، بلکہ ان کی فکر وفن پر کئی تعلیمی اداروں میں تحقیقی کام بھی کیا جا چکا ہے ۔ حیدر بیابانی کی مختلف موضوعات پر پچپن کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی تھی۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایم پی اردو اکادمی، مہاراشٹر اردو اکادمی، اترپردیش ، بہار اور ہریانہ اردو اکادمی کے ذریعہ با وقار اعزاز سے سرفراز کیا گیا تھا۔

    حیدر بیابانی کی ولادت یکم جولائی انیس سو اڑتالیس کو  مہاراشٹر کے تاریخی شہر اچلپور کے کرج گاؤں میں ہوئی اور انتقال بھی ان کا اچلپور مہاراشٹر میں ہوا۔ حیدر بیابانی نے ابتداء سے چوتھی جماعت تک کی تعلیم پرائمری اسکول کاسد پورا اچلپور سے حاصل کی تھی ۔ بعد از آں انہوں نے پانچویں جماعت سے دسویں کلاس تک کی تعلیم ضلع پریشد اسکول اچلپور سے حاصل کی ۔ گیارہویں اور بارہویں کی تعلیم انہوں نے رحمانیہ اسکول سے حاصل کی ۔ حیدر بیابانی سے جگدمبا ودیالیہ سے بی اے اور پھر ڈی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہو گئے ۔ لیکن یہ ملازمت انہیں زیادہ عرصہ تک راس نہیں آئی اور وہ ادب اطفال سے منسلک ہو گئے ۔

    حیدر بیابانی نے بچوں کے لئے نظموں کے ساتھ مزاحیہ مضامین ، گیت اور نثری مضمون بھی لکھے ہیں ۔ ان کی اہم کتابوں میں گیتوں کا مجموعہ کھٹی میٹھی باتیں ، الٹی سیدھی باتیں ، چشم دید، منظوم لطیفہ، معصوم تتلیاں، نبی میرے ، اللہ اکبر، پھلوں کی دنیا، انمول بدن، ہمارے اپنے ، بھارت درشن، سالنس کی سوغاتیں کے نام قابل ذکر ہیں ۔ ممتاز شاعر منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ حیدر بیابانی ادب اطفال کا ایک بہت بڑا نام تھا۔ یہ ایک ایسا تھا جن کی تحریروں کو لوگ ٹھہر کر پڑھتے تھے اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ برار کا تاریخی شہر اچلپور جو ہمارا بھی آبائی وطن ہے وہاں کے اہم ترین لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

    انہون نے کہا کہ اردو میں بچوں کے ادب پر جب بھی بات کی جائے گی تو حیدر بیابانی کے ذکر لازمی ہوگا۔ انہوں نے پوری زندگی بہت سادگی سے گزاری اور اتنا لکھا کہ ادب اطفال میں اردو کا دامن وسیع کردیا ۔ اللہ نے انہیں دنیا میں بچوں کے ادب کو تخلیق کرنے کے لئے ہی پیدا کیا تھا اور انہوں نے ساری زندگی بہت ذمہ داری سے اپنا فریضہ انجام دیا ہے ۔ بچوں کے ادب پر اردو میں بہت کم لٹریچر ملتا ہے لیکن حیدر بیابانی کی نظموں کو پڑھیئے کر انسان حیرت میں مبتلا ہوتا ہے۔ حیدر بیابانی کا ہم سے جدا ہونا صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ آنے والی پیڑھیوں کا بھی نقصان  ہے ۔

    ممتاز ادیب اقبال مسعود کہتے ہیں کہ اردو ادب میں ادب اطفال پر لکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ حیدر بیابانی نے ساری زندگی بچوں کا ادب تحَلیق کرنے میں گزاری ہے۔ انہوں نے بچوں کے ذہن کو سامنے رکھ کر اپنی نظموں اور گیتوں کے ذریعہ ان میں حب الوطنی کے جذبات پیدا کئے۔ انہوں نے سائنس کے اوپر لکھا اور بچوں کو حقیقی دنیا کے اندر جینے کا ہنر سکھایا۔ ان کو ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ ملنا چاہیئے تھا۔ لوگوں کی ایک ایک کتاب پر ساہتیہ اکادمی نے ایوارڈ سے نواز دیا لیکن جس شخص نے ساری زندگی بچوں کے ادب پر کام کیا اور ہزاروں صفحات لکھ دیئے اس کو انعام نہیں دینا انتہائی افسوسناک ہے ۔ مدھیہ پردیش، بہار، اترپردیش اور ہریانہ کی اکادمیوں نے انہیں اعزاز سے نوازا ۔ان کا شکریہ لیکن یہ ان کے شایان شان نہیں تھا۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کی تخلیق کو نصاب کا حصہ بنائیں  اور ان پر تخلیقی کام کیا جائے ۔حالانکہ ان  پر ناگپور یونیورسٹی میں تحقیقی کام ہوچکا ہے لیکن ان پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

    مدھیہ پردیش کے ممتاز ادیب و محقق ضیا فاروقی کہتے ہیں کہ حیدر بیابانی ہمارے عہد کی عہد ساز شخصیت تھے۔ وہ ایک ایسے قلمکار تھے جنہوں نے بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر ادب تخلیق کیا ۔حیدر بیابانی نے خود کو بچوں کے ادب کے لئے محفوظ کردیا تھا ۔ انہوں نے جو لکھا وہ بہت اہم ہے اور ہمارے ادب کا حصہ ہے۔ ان کا ہمارے بیچ سے جانا ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پر نہیں کیا جا سکتا ہے اور ایک ایسے وقت میں جب اردو میں ایک طرح سے نئی نسل کے حوالے سے زوال آرہا ہے ، ایسے میں حیدر بیابانی کا جانا اہل اردو کی تکلیف کو اور بڑھا دیتا ہے ۔ انہوں نے اردو ادب کو جو قیمتی سرمایہ دیا ہے وہ اردو ادب میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ حیدر بیانی کی ولادت تعلیم وتربیت اور ملازمت مہاراشٹر میں ضرور ہوئی ، لیکن مدھیہ پردیش کے بیتول سے بھی ان کا گہرا رشتہ رہا ہے ۔ بھوپال میں بھی انہوں نے اپنی زندگی کا بیش قیمتی لمحہ گزارا ہے ۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ دوہزار سترہ اٹھارہ میں حیدر بیابانی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں سورج کلا سہائے سرور صوبائی اعزاز سے سرفراز کیا گیا تھا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: